BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 October, 2004, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت باغیوں سے سختی کرے: اڈوانی
باغی
باغیوں کے ہتھیار ڈالنے سے پہلے مذاکرات نہیں ہونے چاہیے تھے۔
بھارت میں حزبِ اختلاف کی جماعت بی جے پی نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ آندھرا پردیش کی ریاستی حکومت کی نکسلائٹ باغیوں سے نمٹنے میں مدد نہیں کر رہی۔

بھارت کے سابق نائب وزیر اعظم اور بی جے پی کے صدر لال کرشن اڈوانی نے کہاہے کہ نکسلائٹ باغی بھارت کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کی قیادت میں قائم حکومت کو یکساں قومی پالیسی اپنانی چاہیے۔

اڈوانی نے یہ بات آندھرا پردیش کے دورے کے دوران کہی جہاں ریاستی حکومت باغیوں کے ساتھ امن مذاکرات کر رہی ہے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کی کہ اس نے باغیوں کے ہتھیار ڈالنے سے پہلے ان سے مذاکرات شروع کر دیئے ہیں۔

مبصرین نے کہا ہے کہ نکسلائٹ کی نظر میں تشدد کے ذریعے ایک مثالی ریاست کا قیام وجود میں آ سکتا ہے۔ تین دہائیوں سے وہ بھارت میں مختلف مقامات پر حکومتی اہلکاروں پر حملے کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد