حکومت باغیوں سے سختی کرے: اڈوانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں حزبِ اختلاف کی جماعت بی جے پی نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ آندھرا پردیش کی ریاستی حکومت کی نکسلائٹ باغیوں سے نمٹنے میں مدد نہیں کر رہی۔ بھارت کے سابق نائب وزیر اعظم اور بی جے پی کے صدر لال کرشن اڈوانی نے کہاہے کہ نکسلائٹ باغی بھارت کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی قیادت میں قائم حکومت کو یکساں قومی پالیسی اپنانی چاہیے۔ اڈوانی نے یہ بات آندھرا پردیش کے دورے کے دوران کہی جہاں ریاستی حکومت باغیوں کے ساتھ امن مذاکرات کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کی کہ اس نے باغیوں کے ہتھیار ڈالنے سے پہلے ان سے مذاکرات شروع کر دیئے ہیں۔ مبصرین نے کہا ہے کہ نکسلائٹ کی نظر میں تشدد کے ذریعے ایک مثالی ریاست کا قیام وجود میں آ سکتا ہے۔ تین دہائیوں سے وہ بھارت میں مختلف مقامات پر حکومتی اہلکاروں پر حملے کرتے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||