بہار: باغیوں کا حملہ،20 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست بہار میں ماؤ نواز باغیوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم اکیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ فائرنگ کا تبادلہ رات بھر جاری رہا اور مرنے والوں میں سولہ باغی، دو پولیس افسران اور دو عام شہری شامل ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سو کے قریب باغیوں نے مشرقی چمپارن ضلع کے ایک گاؤں مدھوبن میں واقع تھانے اور دو بنکوں پر حملہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق کمیونسٹ ماؤ سنٹر سے تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں نے جنتا دل کے مقامی رکن اسمبلی سیتا رام سنگھ کے گھر پر بھی حملہ کیا۔ان حملہ آوروں کا قریبی تعلق نیپال کے ماؤ نواز باغیوں سے بھی بتایا جاتا ہے۔ بہار کے ڈی آئی جی پولیس اشیش رنجن سنہا نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’ سات باغیوں کی لاشیں برآمد کر لی گیی ہیں جبکہ باقی کی تلاش جاری ہے۔‘ ماؤ نواز باغی پانچ بھارتی ریاستوں میں کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ وہ غریب قبائل کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ یہ باغی 1980 سے آندھرا پردیش، مہاراشٹر، اڑیسہ، بہار اور چھتیس گڑھ کی ریاستوں کو ملا کر ایک کمیونسٹ ریاست کی تشکیل کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||