دین کی راہ میں سٹیج کو خیرباد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشتو ٹی وی ڈراموں اور سٹیج کے ایک مشہور مزاحیہ اداکار عالم زیب مجاہد نے شوبز کی دنیا کو خیرباد کہتے ہوئے باقی زندگی دین کی راہ میں گزارنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان ایسے وقت کیا ہے ہے جب تین دن قبل انہیں نامعلوم مسلح افراد نے پشاور کے علاقے حیات آباد سے اغواء کیا تھا اور وہ گزشتہ روز ہی واپس آئے تھے۔ عالم زیب مجاہد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اداکاری کی دنیا چھوڑ دیں گے اور باقی زندگی تبلیغ میں گزاریں گے۔ ’میں نے اللہ تعالی سے وعدہ کیا تھا کہ اگر میں صحیح سلامت واپس گھر پہنچا تو باقی زندگی اسکی اطاعت میں گزاروں گا۔‘ تاہم مزاحیہ اداکار نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کن لوگوں نےاور کس مقصد کےلیے اغواء کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عالم زیب مجاہد کو ایک مذہبی شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد نے اغواء کیا تھا اور انہیں اس شرط پر آزاد کیا گیا کہ وہ آئندہ فن کی دنیا کو خیر باد کہہ کر تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگائیں گے۔ واضح رہے کہ صوبہ سرحد میں گلوکاروں اور اداکاروں پر حملوں اور ان کو دھمکیاں ملنے کا آغاز مذہبی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل کی سابقہ حکومت کے دور میں شروع ہوا تھا۔ ان حملوں کی وجہ سے پشاور شہر میں واقع ڈبگری گارڈن کی ’میوزک سٹریٹ‘ بند ہوئی اور زیادہ تر گلوکار یہ شہر چھوڑ دوسرے علاقوں میں آباد ہوگئے۔ تاہم اس میں مزید شدت گزشتہ دو سالوں کے دوران دیکھنے میں آئی ہے اور اس دوران فلمیں فروخت کرنے والی دکانوں اور اداکاروں پر حملے ایک معمول بن گیا ہے۔ پشتو کے ایک مشہور گلوکار ہارون باچا نے حال ہی میں پاکستان چھوڑ کر امریکہ میں پناہ لے لی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور گلوکار گلزار عالم پہلے ہی گلوکاری کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔ تقریباً دو ماہ قبل پشتو کے ایک اور نوجوان گلوکار سردار یوسف زئی نامعلوم افراد کی طرف سے ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے تھے جبکہ فائرنگ میں ان کے ایک ساتھی ہلاک ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں رُباب کے سُر ماند کیوں پڑ رہے ہیں؟12 January, 2007 | فن فنکار فلمیں پشتو کی، لڑکیاں پنجابن21 May, 2007 | فن فنکار بھارتی فلمیں، پابندی اٹھانے کا مشورہ24 January, 2008 | فن فنکار سرحد کی ’مشعل امن‘ پر ایک فلم21 October, 2008 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||