BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 July, 2008, 23:31 GMT 04:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جعلی سی ڈیز اور پاکستانی فلمی صنعت

بہت سے شہروں میں فلمی صنعت کے زوال کے ساتھ سنیما گھروں کی جگہ مارکیٹیں بنا دی گئی ہیں
پاکستان خطے میں غیر قانونی طور پر نقل کی گئی فلموں کی ایک بڑی مارکیٹ بن گیا ہے۔ جو کہ ناصرف مقامی فلمی صنعت کے زوال کی ایک بڑی وجہ بنا ہے بلکہ یہ کاروبار ملک کے اندر تفریح کے شعبے میں سرمایہ کاری کی راہ میں بھی حائل ہے۔

راولپنڈی کے نو تعمیر شدہ سنیما گھر ’سینے پیکس‘ میں ایک فلم بین ڈاکڑ ہما سے جو بچوں کے ساتھ فلم دیکھنے آئی تھیں جب پوچھا کہ کیا وہ بچوں کی پسندیدہ بھارتی فلم ’تارے زمین پر‘ دیکھنے آئی ہیں تو ان کا جواب تھا ’لو جی وہ تو ہم پتہ نہیں کتنی بار گھر پر دیکھ چکے ہیں ہم تو بھارتی فلم ریس دیکھنے آئے ہیں۔
جو اب تک کیبل پر نہیں آئی ۔ اسی لیے ہم اسے دیکھنے سنیما آ گئے۔‘

کیا کیبل پر اجازت کے بغیر نقلی فلموں کی نمائش اور مارکیٹ میں سر عام جعلی سی ڈیز کی دستیابی ، لوگوں کے بڑی سکرین پر فلم دیکھنے کے رجحان میں کمی کا باعث ہے۔ یہ سوال اسی سینے پیکس کے مینجر عمران ممتاز سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ جب تک مارکیٹ میں جعلی سی ڈیز دستیاب ہیں اس وقت تک لوگوں کو بڑی سکرین کی طرف راغب نہیں کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’فلم پائرسی‘ کو روکنا حکومت کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے اور ہمارے پاس اس کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں۔ عمران ممتاز نے شعیب منصور کی فلم ’خدا کے لیے‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ فلم سنیما پر لگی تو اس کی جعلی کاپی مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھی جس کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد فلم دیکھنے کے لیے آئی ۔

 انڑنیشنل فیڈریشن فار فونو گرافیک انڈسٹری کے دو ہزار پانچ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تیس کروڑ جعلی سی ڈیز بنتی ہیں ایک کروڑ تیس لاکھ کے قریب باہر برآمد کر دی جاتی ہیں جبکہ ملک میں جعلی سی ڈیز کی کھپت دو کروڑ ستر لاکھ ہے ۔ اور ہر اٹھارہ ماہ کے بعد نقلی سی ڈیز بنانے کی صلاحیت دگنی ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب اس فلم کی جعلی کاپی کو سختی سے روکا جا سکتا ہے تو باقی فلموں کی سر عام دستیابی کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اسی حوالے سے لاہور کے ’سوزو ورلڈ سنیما‘ کے مالک زوریز لاشاری کہتے ہیں کہ جعلی سی ڈی کی فروخت کو روکا نہیں جا سکتا اور حکومت بھی اس کی روک تھام میں کوئی خاص سنجیدہ دکھائی نہیں اور اس کا ایک ہی حل ہے کہ جب بھارتی فلم انڈیا میں سنیما پر لگے تو اسی دن پاکستان میں جاری کر دی جائے شاید اس سے تباہ حال سینما کو ایک نئی زندگی ملے گی۔

زوریز لاشاری نے کہا کہ ملک میں لوگ سستی جعلی سی ڈیز خرید کر دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں ۔

کراچی میں کاپی رائٹس رجسڑیشن آفس کے رجسڑار شکیل عباسی کا کہناہے کہ پاکستان میں کاپی رائٹس (ملکیت کے حقوق) کے بارے میں لوگوں کو اتنا شعور ہی نہیں ہے اس لیے بہت کم لوگ کاپی رائٹس رجسڑیشن کے لیے آتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کیوں کہ قانون میں بھی گنجائش ہے کہ آپ ملک میں تیار کردہ فلم یا میوزک البم بغیر کاپی رائٹس کے بیچ یا دیکھا سکتےہیں اس لیے زیادہ تر لوگ اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے۔

سرعام مارکیٹ میں جعلی بھارتی فلموں کی فروخت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھارتی فلمیں اور میوزک پر ابھی تک پابندی ہے۔ جبکہ صرف وزارتِ ثقافت کی اجازت سے ہی فلمیں سنیما ہالز پر پیش کی جا سکتی ہیں۔

شکیل عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی اور لاہور میں جعلی سی ڈیز کی فروخت کے خلاف جو لوگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے کارروائی کرتے ہیں ان میں زیادہ سے زیادہ دس فیصد لوگوں کے پاس کاپی رائٹس کے سرٹیفکیٹ ہوں گئے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار پانچ تک مقامی مارکیٹ میں جعلی سی ڈیزکی کھپت سالانہ دو کروڈ ستر لاکھ ڈالر تھی ۔ اتنی بڑی تعداد میں جعل سازی کی وجہ سے فلمی صنعت کو کیا نقصان پہنچا ہے اس پر ایک غیر سرکاری ادارے ’ایس ڈی پی آئی‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکڑ عابد قیوم کہتے ہیں کہ ملک میں جعلی سی ڈیز کی وجہ سے میوزک اور فلم انڈسڑی کا بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نقلی سی ڈی کی بجائے اصل سی ڈی خریدی جائے تو منافع فلم یا میوزک پر پیسہ لگانے والوں کو ہو گا۔ جس کی وجہ سے وہ اگلی مرتبہ ایک اچھی فلم بنا سکے گا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کا فائدہ ہو گا۔

حال ہی میں انڈینا جونز کی نئی فلم بھی پاکستان میں نمائش کے لیے پیش کی گئی

کراچی میں امریکہ سے انگریزی فلمیں درآمد کرنے والے ادارے باکس آفس کی جنرل میجنر ماریالوٹیا نے بتایا کہ ان کے ادارے نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ’ آئرن مین‘ نامی انگریزی فلم امریکہ کے ساتھ مقامی سنیما پر پیش کرنے کا مقصد جعلی سی ڈیز کی فروخت کو روکنا ہے کیونکہ اگر پوری دنیا کے ساتھ پاکستان میں فلم نمائش کے لیے پیش کی جائے گی تو لوگ گھروں میں فلم دیکھنے کی بجائے سنیما ہالز کا رخ کریں گے۔

راولپنڈی میں قائم نقلی ڈسک کی مارکیٹ کے صدر شیخ نفیس انجم نے بتایا کہ اب کوئی بھی بھارتی فلم بھارت کے ساتھ مقامی سنیما پر لگتی ہے تو اس کی نقلی کاپی مارکیٹ میں نہیں آتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو ادارہ پاکستان میں نمائش کے لیے فلم درآمد کرتا ہے تو اس کے کاپی رائٹس بھی اسے مل جاتے ہیں جس کے تحت نقلی کاپی مارکیٹ میں فروخت نہیں کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں مخلتف نجی ٹی وی چینلز نے بھارت سے فلمیں درآمد کر کے ایک ایک ہی دن انڈیا اور پاکستان میں نمائش کے لیے پیش کیں۔ شیخ نفیس نے بتایا کہ ٹی وی چینلز نے پولیس کے ساتھ مل کر مارکیٹ میں چھاپے بھی مارے ہیں اور چند ایک دکانیں جہاں جعلی سی ڈیز فروخت کی جا رہی تھیں انہیں سربمہر کر دیا گیا۔

سنیما گھروں میں لوگ پیسہ لگانے کو تیار ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ سی ڈیز کے غیر قانونی کاروبار کو روکا جائے

پاکستان فلم ایگزیبیٹرز ایسوسی ایشن کے رکن اور کراچی میں واقع نشاط سنیما کے ڈائریکٹر نواب حضور الحسن کا کہنا ہے کہ ملک کی سنیما انڈسٹری میں نئے لوگ سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ لیکن مارکیٹ میں جعلی فلموں کی دستیابی کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ دبئی میں ایک سرمایہ دار پاکستان میں پچاس کے قریب سنیما گھر تعمیر کرنے کو تیار ہے لیکن ملک میں جعلی سی ڈیز کے کاروبار کی وجہ سے لوگ سرمایہ کاری کرنے سے گھبراتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’خدا کے لیے‘ ، سلاخیں وغیرہ پاکستانی فلموں کو دیکھنے کے لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سنیما گھروں کا رخ کیا لیکن ان ہی فلموں کی جعلی کاپیاں مارکیٹ میں موجود ہوتی تو کوئی بھی ان فلموں کو دیکھنے کے لیے سنیما کا رخ نہ کرتا۔

انڑنیشنل فیڈریشن فار فونو گرافیک انڈسٹری کے دو ہزار پانچ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تیس کروڑ جعلی سی ڈیز بنتی ہیں ایک کروڑ تیس لاکھ کے قریب باہر برآمد کر دی جاتی ہیں جبکہ ملک میں جعلی سی ڈیز کی کھپت دو کروڑ ستر لاکھ ہے ۔ اور ہر اٹھارہ ماہ کے بعد نقلی سی ڈیز بنانے کی صلاحیت دگنی ہو جاتی ہے۔

ملک میں نقلی ڈسک کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے حکومتی سطع پر کیا پالیسی بنائی گی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔


وفاقی تحقیقاتی ادارے کے شعبہ آئی پی آر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر احمد علی آفندی نے بتایا کہ پہلی بات ان کے ادارے کے پاس جدید سامان اور وسائل موجود نہیں ہیں کہ ملک میں جاری جعلی سازی کا موثر طور پر مقابلہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ سن دو ہزار پانچ میں کراچی میں چھ چھاپے مارے گئے جس میں پندرہ لاکھ جعلی سی ڈیز اور چالیس کے قریب ڈی وی ڈی رائٹرز پکڑے گئے تھے۔ اور اس کے بعد بھی کارروائیاں جاری رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کاپی رائٹس ایکٹ انیس سو باسٹھ کے تحت کارروائی کرتی ہے جس کے تحت ابھی تک تینتالیس ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پاکستان میں ایک عرصے کے بعد لوگ خاندان سمیت سنیما گھروں میں فلمیں دیکھنے کےلیے جانے شروع ہوئے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ سنیما گھروں پر دکھائی جانے والے ملکی اور غیر ملکی فلموں کی نقلی کاپز کی مارکیٹ میں عدم دستیابی ہے۔ اس سے ملک میں نئے سینما ہالز بنانے اور پرانے سنیما گھروں کو بہتر کرنے کا ایک رجحان شروع ہوا ہے۔ اس سے ناصرف ملک میں مقابلے کے رجحان کی وجہ سے مقامی فلم انڈسٹری کو فروغ ملے گا بلکہ تفریحی کے لیے لوگوں کو ایک بڑا پلیٹ فام دستیاب ہو گا۔

’کراس اوور سنیما‘
فلموں کی یہ صنف آخر ہے کیا؟
امیتابھ بچنفلموں کے ساٹھ سال
’بدلتے ہندوستان کا آئینہ ہے سنیما‘
باکس آفس مالامال
امریکہ،کینیڈا باکس آفس پر 9.6 بلین ڈالر کی آمدن
پاکستان میں انڈین فلموں کی نمائشسنیما ہالز میں رونقیں
پاکستان میں انڈین فلموں کی نمائش مقبول
ایمان علیمظفر علی کی نورجہاں
ایمان علی بھارتی فلم میں نور جہاں بنیں گی
لگے رہو منا بھائی (فائل فوٹو)نیشنل فلم ایوارڈ
’لگے رہو منائی بھائي‘ کی جھولی میں چار خطاب
ہر من باویجاہرمن سے ایک ملاقات
’میں ہمیشہ سے ہی اداکار بننا چاہتا تھا‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد