’بدلتے ہندوستان کا آئینہ ہے سنیما‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آزادی سے لے کر اب تک ہندوستانی فلموں کے موضوع اور تکنیک میں بہت زيادہ تبدیلی آئی ہے۔ آج ہماری فلمیں تکنیکی لحاظ سے مغربی ممالک میں بننے والی فلموں کی مدمقابل ہيں۔ اس وقت ہندوستانی سنیما کا کاروبار سالانہ پانچ ہزار کروڑ روپے کا ہے اور اس میں پندرہ سے بیس فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سنیما خصوصی طور پر نوجوان کی تفریح کا سب سے بڑا میڈیم ہے۔ آج ہندوستان کی نصف آبادی نوجوان ہے۔ آئندہ پندرہ، بیس سالوں تک یہی حالات رہیں گے۔ اس لیے ہندوستان میں سنیما کی ترقی کا مزید تیز ہونا لازمی ہے۔ آزادی کے وقت ایک نئے قسم کا جوش اور اصول پسندی تھی۔ لوگ مستقبل کے ہندوستان کا خواب دیکھا کرتے تھے۔ ہماری فلموں کے موضوعات اور کردار بھی اسی طرح کےہوتے تھے۔ فلموں میں معاشرے کو بدلنے کی مہم دکھائي دیتی تھی۔ راج کپور نے اپنی فلموں میں ہندوستان کے عام آدمی کو دکھانے کی کوشش کی ’آوارہ‘ اور ’شری 420‘ جیسی فلموں نے یہ بتانےکی ہر ممکن کوشش کی کہ آدمی دنیا میں ہونے والی تبدیلی کو کیسے دیکھ رہا ہے۔ راج کپور اداکار سے زيادہ بڑے فلم ہدایت کار تھے۔ دلیپ کمار کو ’ٹریجڈی کنگ‘ کہا جاتا تھا۔ ان کے کردار ٹریجک و رومانی قسم کے ہوتے تھے۔ اس وقت کی ’دیوداس‘ جیسی فلمیں اس کا نمونہ ہیں۔
دیو آنند صاحب کالج کے لڑکوں اور لڑکیوں میں بہت مقبول تھے۔ ان تین اداکاروں نے ہندوستانی سنیما میں تین طرح کے کرداروں کو جنم دیا۔ جو آج بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ’مدر انڈیا‘ ایک شاہ کار فلم تھی جو ’آسکر‘ کے لیے نامزد کی گئی تھی۔ یہ فلم ہندوستان اور اس کی تمناؤں اور آرزؤں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہندوستان کےعام عوام کا جب ’آئیڈلزم‘ ٹوٹنے لگا تو ’اینگری ینگ مین‘ کے طور پر امیتابھ بچن پردہ سیمیں پر آئے۔ وہ فلموں میں ظلم کے خلاف نوجوانوں کی آواز بن کر ابھرے۔ امیتابھ بچن کا ’اینگری ینگ مین‘ کا دور تقریباً بیس سال تک چلا۔ اس سے پہلے دلیپ کمار کی روایت میں راجیش کھنہ ایک رومانی ہیرو کے طور پر منظر عام پر آچکے تھے۔ انیس سو نوے کے عشرے میں ہندوستان میں اصلاح پسندی اور گلوبلائزیشن کی وجہ سے ہندوستانی سنیما میں زبردست تبدیلی آئی۔ اس دور کو اپنا ہیرو چاہیے تھا جس کے اندر جوانی کا جوش ہو، جو پرامید اور مثبت فکر کا حامل ہو اور اس کی شناخت عالمی ہو۔ سلمان خان، شاہ رخ خان، عامر خان اسی دور میں سامنے آئے اور تینوں خانوں کا یہ دور ابھی جاری ہے۔
فلمیں اپنے وقت کا آئینہ ہوتی ہيں۔ جب لوگوں کے خيالات بدلتے ہيں تو فلمیں بھی بدلنے لگتی ہيں۔ ایک دور تھا جب ’متوازی سنمیا‘ کے ذریعہ عام آدمی اور متوسط طبقہ کی ضرورتوں اور ان کے سوالوں کو سنمیا میں ترجیح دی گئی۔ لیکن وقت کے ساتھ متوسط طبقہ اور سنیما کی ضرورتیں بدل گئیں اور اس طرح کی فلمیں بننا کم ہوگئیں۔ فلمیں پنٹنگز بنانے کی طرح کا فن نہيں ہے۔ اسے بنانے کے لیے بہت پیسہ چاہیے اور اس کا واپس لوٹنا بھی ضروری ہے تاکہ کاروبار چلتا رہے۔ عالم گیریت کے اس دور میں لوگوں کے پاس پیسہ آگیا ہے۔ بہت سے لوگ ملٹی پلیکس میں فلمیں دیکھنے جا سکتے ہیں۔ جس کی ٹکٹ بہت مہنگی ہوتی ہیں۔ ایسے وقت میں جب ملٹی پلیکسز کی تعداد بڑھ رہی ہے اور لوگ ان میں فلمیں دیکھنے جارہے ہیں، تو پھر سے ’پیرلل سنیما‘ کی فلمیں بنائی جا سکتی ہیں۔ جہاں تک سنیما کے ذریعہ معاشرتی ضرروتوں کو پردے پر لانے کی بات ہے تو میں کہنا چاہوں گا کہ فلمیں بنانے والے کوئی سماجی مصلح نہیں ہوتے اور انہيں سماجی مصلح بنانے کی ضرورت بھی نہيں ہے۔
فلمیں بنانے والوں کا اصل کام تفریح کرانا ہوتا ہے۔ اگر چاہیں تو وہ ایسی فلمیں بھی بنا سکتے ہيں جو معاشرتی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہو سکتی ہیں۔ ہدایت کاروں کو وقت کی نبض پکڑنی چاہیے، تبھی وہ عملی طور پر کامیاب فلمیں بنا سکتے ہیں۔ یشراج بینر کی فلمیں باکس آفس پر کامیاب ہوتی ہيں کیوں کہ وہ ناظرین کی دلچسپی کو ذہن ميں رکھ کر فلمیں بناتے ہيں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||