’کراس اوور سنیما‘ ہے کیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں آج کل تقریباً ہر انگریزی دان ہدایت کار کے سر پر ’کراس اوور‘ (cross-over) سنیما بنانے کا جنون سوار ہے۔ مگر یہ ہے کیا بلا؟ اس سوال کے جواب میں عموماً کچھ فلموں کے نام سننے کو ملتے ہیں، جیسے مونسون ویڈنگ (Monsoon Wedding )‘ بینڈ اٹ لائک بیکھم (Bend it Like Beckham)، ایسٹ اِز ایسٹ (East is East)، اور واٹر (Water) وغیرہ۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والے فلم ’پرووکڈ (Provoked) کے ہدایتکار جگموہن مُندرا سے جب میں نے دریافت کیا کہ وہ ’کراس اوور‘ سنیما کی کس طرح تعریف کریں گے تو وہ مسکرائے اور کہا ’ایک فقرے میں تو یہ بتانا مشکل ہے، ہاں میں اسے تفصیل سے بیان کر سکتا ہوں۔‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود جگموہن مُندرا کراس اوور سنیما کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ میں نے کہا فرمائیے۔ ’وہ سنیما جو اپنے علاقائی اور قومی شناخت کی حدود سے باہر نکل دوسری قومیتوں کا دل جیت لے اسے کراس اوور سنیما کہا جا سکتا ہے۔‘ میں نے عرض کیا کہ یہ کام تو ہالی وڈ برسوں سے کرتا آ رہا ہے۔ اس پر وہ پھر مسکرائے اور بولے ’ بات کاٹیں گے تو میں وضاحت نہیں کر پاؤں گا۔ ہماری کراس اوور سے مراد وہ سنیما ہے جس میں مین سٹریم (main stream) سے ہٹ کر موضوعات شامل ہوں، ایک خاص کلچر کا تفصیل سے جائزہ ہو اور جسے دوسرے کلچر اور ممالک کے شائقین بھی شوق سے دیکھیں۔‘
کچھ عرصہ ہوا بالی وڈ کے شہر ممبئی میں کراس اوور سنیما کے موضوع پر ہونے والے ایک مباحثے میں یہ طے پایا کہ بھارت کی وہ فلمیں جوغیر ممالک میں اچھا بِزنس کریں کراس اوور کے زمرے میں آئیں گی۔ اس پر مزید بحث ہوئی۔ کچھ فلمی شخصیات کا اعتراض تھا کہ تقریباً سبھی کامیاب بالی وڈ فلمیں پاکستان سے لے کر دبئی، شارجہ، لندن، ٹورانٹو اور نیویارک میں شوق سے دیکھی جاتی ہیں، لیکن شائقین میں صرف جنوبی ایشیا کے ممالک سے آنے والے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ گورے بھول کر بھی بالی وڈ فلمیں نہیں دیکھنے جاتے۔ آخر میں طے پایا کہ وہ دیسی اور بدیسی فلمیں جن میں دیسی موضوعات اور کردار شامل ہوں، جنہیں کامیابی سے برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ کے مین سٹریم سنیما گھروں میں ریلیز کیا جا سکے اور جو گورے شائقین کا دل بھی جیت سکیں، صحیح معنوں میں کراس اوور سنیما کہلانے کی حقدار ہوں گی۔ چاہے اس وضاحت سے نسلی امتیاز کی بو آئے مگر حقیقت یہی ہے کہ کراس اوور سنیما ایک ورکنگ ٹائٹل ہے جس سے مراد ہے ایسی فلمیں بنانا ہے جو دیسی کہانیوں اور کرداروں پر مبنی ہونے کے باوجود یورپ و امریکہ میں باکس آفس پر کامیاب ہو سکیں۔
بحث اگر طویل کرنی ہو تو بھارت کے معروف ستیہ جیت رے اور شیام بینیگل کی فلموں کو، جو متوازی (parallel)، نیو وید اور نجانے کتنے ناموں سے یاد کی جاتی ہیں، کراس اوور میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن فلمی دنیا میں ہر دس سال بعد نئی اصطلاحات آتی ہیں اور فلمی لوگ نئے فیشن اور نئے چلن کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ تو بات ہو رہی تھی کراس اوور سنیما کی۔ فی الحال بھول جائیں کہ ایک جملے میں کراس اوور سنیما کو کیسے بیان کیا جائے کیونکہ اس موضوع پر متضاد خیالات پائے جاتے ہیں۔ اتفاق ہے تو اس بات پر کہ کامیاب ترین کراس اوور فلمیں کونسی ہیں۔ سرفہرست ہے ایوب دین کی تحریر کردہ اور ڈیمین اڈونل کی ہدایت میں بنی فلم ’ایسٹ اِز ایسٹ (1999)‘ جس میں پاکستان سے آئے جیور خان (اوم پوری) انگلینڈ کے شہر سیلفورڈ میں فِش اور چپس کی دوکان چلاتے ہیں اور انگریز بیوی ہونے کے باوجود اپنے بچوں کوخالص پاکستانی روایات کے مطابق پالنا چاہتے ہیں۔
کچھ لوگوں کی نظر میں میرا نائر کی ’سلام بامبے‘ (1998) نے کراس اوور سنیما کی بنیاد ڈالی۔ سلام بامبے ممبئی کی سڑکوں پر پلنے والے بچوں کی کہانی بیان کرتی ہے۔ یہ فلم نہ صرف آسکر کے لیے نامزد کی گئی بلکہ اس نے ’کان فلم فسٹیول‘ اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں کئی انعامات بھی جیتے۔ دونوں فلموں نے اچھا بزنس کیا۔ میرا نائر کی ہی مونسون ویڈنگ (2002) نے وینس فلم ایوارڈز میں ’گولڈن لائن‘ کا خطاب جیتا اور ساتھ ہی یہ فلم گولڈن گلوب اور برٹش فلم ایوارڈز ’بافٹا‘ کے لیے بھی نامزد ہوئی۔ مونسون ویڈنگ نے یورپ، امریکہ اور کینیڈا کے سنیما گھروں میں کمال کا بزنس کیا۔ فلم کی کہانی دلی کے ایک پنجابی خاندان میں ہونے والی شادی کے ارد گرد گھومتی ہے۔ برطانیہ کی گرندر چڈھا کی فلم ’بینڈ اٹ لائک بیکھم‘ (2002) میں لندن میں مقیم ایک سکھ لڑکی آلوگوبھی پکانے کا مستقبل ترک کر کے انگلیڈ کے مشہور فٹ بال کھلاڑی بیکہم کی طرح فٹ بال کھیلنے کو ترجیح دیتی ہے۔ کراس اوور فلموں کی صنف میں شامل دیگر فلموں میں کینیڈا میں مقیم دیپا مہتا کی تین فلمیں ’ارتھ‘ ’فائر‘ اور ’واٹر‘ قابل ذکر ہیں۔’واٹر‘ جس کی شوٹنگ فرقہ پرست ہندؤں کے احتجاج کے خوف سے بھارت میں نہ ہو سکی، انیس سو تئیس کے دوران ہندو بیواؤں کی فریاد بیان کرتی ہے۔ بعد میں یہ فلم سری لنکا میں مکمل کی گئی تھی۔’واٹر‘ (2006) کو بہترین غیر ملکی فلم کے آسکر کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔ ان کے علاوہ کئی اور فلمیں بھی کراس اوور کے زمرے میں آتی ہیں۔ شیکھر کپور کی ڈکیت پھولن دیوی پر بنی فلم ’بینڈٹ کوئین‘ (Bandit Queen) کو بھی اسی صنف میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
فلمسازوں کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ اگر عمدہ کراس اوور فلمیں بنائی جائیں تو عالمی شہرت کے ساتھ ساتھ راتوں رات مالا مال بھی ہوا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ شیکھر کپور، میرا نائر، دیپا مہتہ اور گرندر چڈھا کی طرح انہیں بھی ہالی وڈ اور بڑے بینر کی فلمیں آفر ہو جائیں تو پھر وارے نیارے۔ سب سے پیچیدہ سوال یہ ہے کہ ایک کامیاب کراس اوور فلم بنائی کیسے جائے؟ اس کا جواب بیشتر فلمسازوں کی نظر میں میرا نائر کے پاس ہے۔ ( پرویز عالم کے اگلے مضمون میں میرانائر کے ساتھ تفصیلی گفتگو خصوصاً کراس اوور سنیما بنانے کے فن پر اہم نکات شامل ہوں گے) |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||