فیملیز کی سینما ہالزمیں واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو اسی کی دہائی میں جس پاکستانی مڈل کلاس کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ اس نے سینما کو خیر آباد کہہ دیا، یوں لگتا ہے وہی طبقہ اب دوبارہ سے باکس آفس کا رخ کررہا ہے۔ پاکستان میں حال میں چند انڈین فلموں کی نمائش کے بعد سے جہاں سینماگھروں میں شائقین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے تو وہیں اِن اجڑے ہوئے سینما ہالز میں رفتہ رفتہ رونق بھی بحال ہورہی ہے۔ لیکن اُن انڈین فلموں کو پاکستان میں پذیرائی نہیں مل رہی جو انڈیا میں پہلے سے ریلیز ہونے کے بعد پاکستان میں آرہی ہیں۔ سنہ دو ہزار چھ سے پاکستان میں بھارتی فلموں کی دوبارہ نمائش کا آغاز ہوا ہے اوراس ضمن میں ’تاج محل‘ پہلی فلم تھی جو تقریبا چوبیس برسوں کے بعد پاکستانی سینما میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔
انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے بعد انڈین فلموں کی پاکستان میں نمائش پر عمومی پابندی عائد کردی گئی لیکن جنرل ضیاءالحق کے دور میں پاکستانی سینماؤں میں دو بھارتی فلموں ’نورجہاں‘ اور ’ کشش‘ کی نمائش ہوئی تھی۔ گزشتہ اڑھائی برسوں میں پاکستان میں دس فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئی ہیں اور اس وقت تین بھارتی فلموں کی نمائش پاکستان میں جاری ہے جن میں ’ریس‘ ، ’تارے زمین پر‘ اور ’یو می اور ہم‘ شامل ہیں۔ ’ریس‘ اور ’گول‘ وہ فلمیں ہیں جن کی بھارت اور پاکستان میں بیک وقت نمائش کی گئی اور اسی وجہ سے یہ فلمیں دیگر بھارتی فلموں کے مقابلہ میں بہتر برنس کررہی ہیں۔ انڈین فلموں کی نمائش کرنے والے سینما ان فلموں کی نمائش سے پر آنے والے اخراجات بھی باآسانی پورے کررہے ہیں۔
پاکستان کے شہر لاہور جہاں دو درجن کے قریب سینما گھر ہیں اور اس وقت پانچ سینماگھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش ہورہی ہے۔ ان پانچ سینما گھروں میں دو وہ سینما گھر بھی شامل ہیں جو شہر کے امیر علاقوں میں واقع ہیں۔ پوش علاقے میں بھارتی فلموں کی نمائش کرنے والے سینما مالکان زوریز لاشاری اور ندیم مانڈیوالا کا کہنا ہے کہ وہ فلمیں اچھا برنس نہیں کرتی جو پہلے بھارت میں ریلیز ہوجاتی ہیں اور کچھ عرصہ بعد پاکستان میں اس کی نمائش کی جاتی ہے۔ ان کے بقول ایسی فلمیں کیبل یا سی ڈیز پر لوگ دیکھ لیتے ہیں جس کے بعد وہ ایک پرانی فلم کو دوبارہ دیکھنے کے سینما گھروں کا رخ نہیں کرتے ہیں۔ ان مالکان کا یہ کہنا ہے کہ اچھے سینماگھروں نہ ہونے کی وجہ سے ان کو دشواری کا سامنا ہے کیونکہ فلم کے لیے اچھے سینما گھر دستیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے بعض سینماگھروں میں بیک وقت تین ، تین فلموں کی نمائش ہورہی ہے۔ سینیما مالکان کے بقول جس طرح ایک پاکستانی فلم کی نمائش سے پہلے تشہیر ہوتی ہے اس طرح کی تشہیر بھارتی فلم کے لیے ان کو کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ مالکان نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ دو سے تین برسوں میں اب نئے سینما گھر تعمیر ہونگے۔ بھارت کے شہر دلی سے بیاہ کر پاکستانی آنے والی مسز معین قریشی جو اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ فلم دیکھنے آئی تھیں کا کہنا ہے کہ وہ بھارت میں فلم دیکھنے کے لیے سینما جاتی تھیں لیکن شادی کے بعد پاکستان آنے کے بعد وہ بارہ برس کےبعد پہلی مرتبہ پاکستانی سینما میں فلم دیکھنے آئی ہیں اس کی بنیادی وجہ ایک معیاری بھارتی فلم کی نمائش ہے۔ فلم بین واصف صدیقی کاکہنا ہے کہ بھارتی فلموں کی نمائش سے پاکستان کے سینما گھر تو آباد ہوجائیں گے لیکن پاکستانی فلم صعنت تباہ ہوجائے گی۔ خالد نامی نوجوان جو چھ سال کے بعد سینما میں فلم دیکھنے کے لیے آئے ہیں کا کہنا ہے کہ اگر اچھی کاسٹ کی بھارتی فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی تو ان فلموں کی پذیرائی ہوگی اور سینما گھر میں دوبارہ آباد ہوجائیں گے۔ اسی سینما گھر میں فلم دیکھنی والی ایک خاتون شہلا کا موقف ہے کہ بھارتی فلموں کی نمائش ہونے سے اب ہاوس فل ہوتے ہیں اور لوگوں میں سینما جانے کا شوق دوبارہ پیدا ہورہا ہے کیونکہ بھارتی فلمیں پہلے سے لوگوں میں مقبول ہے۔ فلم کے ایک اور شائق عثمان کا کہنا ہے پاکستانی سینما میں بھارتی فلموں کی نمائش سے لوگ خوش ہیں اور ان میں سینما میں فلم دیکھنے کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ ایک سینما کے مینجر محمد انور کا کہنا ہے کہ پاکستانی فلموں کی نسبت بھارتی فلمیں بہتر برنس کررہی ہیں اور چھٹی والے دن لوگ اپنے گھر والوں کے ہمراہ آتے ہیں۔ سینما گھروں کے ملازمین کا کہنا ہے کہ بھارتی فلموں کی نمائش کے بعد دوبارہ سینما کی رونقیں بحال ہورہی ہیں اور پہلے کی نسبت زیادہ لوگ آرہے ہیں |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||