’داستانِ محبت‘ کی نمائش پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست مدھیہ پردیش کی حکومت نے فلم’جودھا اکبر‘ پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حکم میں کہا گیا ہے کہ فلم’جودھا اکبر‘ کی نمائش کی مخالفت میں کئی مقامات پر احتجاج ہوئے ہیں اور پر امن ماحول میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لیے ریاست میں امن و قانون بنائے رکھنے کے لیے ریاستی انتظامیہ فلم ’جودھا اکبر‘ کی ریاست کے سبھی سنیما گھروں میں نمائش پر پابندی عائد کر رہی ہے۔ ریاست کے انکم ٹیکس کے وزير بابولال گوڑ نے بی بی سی کو بتایا’ راجپوت برادری کے ایک وفد نے ان سے ملاقات کی تھی اور انہوں نے اس فلم میں تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے فلم کی نمائش پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا‘۔ ابتدا سے ہی ہدایت کار اشوتوش گوارکر کی فلم’جودھا اکبر‘ مختلف تنازعات کا شکار رہی ہے۔ مدھیہ پردیش ملک کی پہلی ریاست ہے جہاں سرکاری طور پر اس فلم پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
کانگریس کے راجپوت رہنما گوند سنگھ کا کہنا ہے ’ عوام کے جذبات اور پورے ملک میں چھتریہ برادری کے لوگوں کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے فلم پر پابندی عائد کرنے پر شیوراج سنگھ کی حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے‘۔ لیکن انہوں نے مزید کہا کہ جب ہدایت کار نے یہ واضح کر دیا تھا کہ ان کی کہانی ایک افسانہ ہے تو فلم کے خلاف احتجاج ختم ہو جانا چاہیے تھے۔ بابو لال گوڑ کا کہنا ہے کہ فلم جودھا اکبر وہی دقتیں جھیل رہی ہے جو تاریخی موضوعات پر مبنی دیگر فلموں، ڈراموں اور کتابوں کو جھیلنا پڑتی ہیں۔’ اگر تاریخی معاملات کے کردار اور واقعات کے ساتھ ذرا بھی چھیڑ چھاڑ کی جائے تو اس پر ہنگامہ پیدا ہو جاتا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا’ اگر آپ بھگوان رام پر فلم بنائیں اور انہیں پینٹ اور شرٹ پہنے ہوئے دکھائیں تو ہنگامہ ہونا تو لازمی ہے‘۔ مشہور فلم ناقد مکل کیشون نے ایک میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ تاریخی پہلوؤں کو بنیاد بنا کر راجپوت سماج کی جانب سے کی گئی مخالفت کی کوئی اور وجہ تو نہیں ہے؟ کیونکہ ہندو ۔ مسلم محبت پر مبنی فلمیں’ویر زارہ‘, ’غدر‘، ’بامبے‘ اور ’حنا‘ جیسی فلموں میں لڑکی ہمیشہ مسلمان دکھائی گئی ہے۔( لیکن اس فلم میں لڑکی ہندو ہے اور لڑکا مسلمان)۔ چار ریاستوں میں پھیلے ہوئے سنٹر سرکٹ سنے اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری جتندر جین اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں’ یہ فیصلہ ایک برادری کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کیے گیا ہے۔ اس پابندی سے فلم انڈسٹری کا بھاری نقصان ہو گا‘۔ |
اسی بارے میں بالی وڈ: فلاپ اور بے معنی کامیڈی فلموں کا سال30 December, 2007 | فن فنکار مقبولیت: سانوریا یا اوم شانتی اوم ؟08 November, 2007 | فن فنکار ’مولی ووڈ‘ کی ایشوریہ رائے26 June, 2006 | فن فنکار تاج محل فلم بین نہیں کھینچ سکی28 April, 2006 | فن فنکار بالی وڈ میں کامیڈی 06 July, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||