فلمی دنیا پر بنی ’کھویا کھویا چاند‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حال ہی میں ہدایت کار فرح خان کی فلم ’اوم شانتی اوم‘ کے ذریعے انیس سو ستر کی دہائی کے سنیما کی عکاسی کی گئی۔ اب ہدایت کار سدھیر مشرا کی انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں کے انڈین سنیما پر مبنی فلم’کھویا کھویا چاند‘ سات دسمبر سے انڈیا کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش ہو رہی ہے۔ اس فلم میں سوہا علی خان اہم کردار میں نظر آئیں گی۔ان کے مقابل فلم کے رائٹر ظفر کا کردار شائنی آہوجہ کر رہے ہیں۔ فلم کی کہانی کے مطابق نکہت فلمی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتی ہیں اور اس میں ان کا رشتہ اس وقت کے نامور اداکار رجت کپور سے ہو جاتا ہے۔ فلم میں رائٹر ظفر کی آمد کے بعد نکہت اور ظفر میں محبت پروان چڑھنے لگتی ہے۔ فلم میں سوہا کو انیس سو پچاس کی نامور اداکاراؤں جیسے وحیدہ رحمٰن، مینا کماری اور مدھو بالا کے کردار میں دکھایا گیا ہے۔ فلم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ فلم مشہور رائٹراور ڈائریکٹر گرو دت اور وحیدہ رحمن کے درمیان رشتے کی یاد دلاتی ہے۔ لیکن فلمساز سدھیر مشرا اس بات کو قبول کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ فلمساز پرکاش جھا کا ماننا ہے کہ فلم کا کچھ حصہ گرودت اور وحیدہ کی زندگی سے مماثلت رکھتا ہے۔ اس فلم میں سوہا نے ایک گلیمرس ہیروئین کا کردار نبھایا ہے۔اس سے قبل سوہا نے جو بھی رول کیے وہ ایک معمولی اور سیدھی سادی لڑکی کا کردار تھا۔ بطور ہیروئین یہ سوہا کی دوسری فلم ہے۔ فلم’ آہستہ آہستہ‘ میں انہوں نے ابھے دیول کے مقابلے میں ہیروئین کا رول کیا تھا۔ فلم’ رنگ دے بسنتی‘ میں ان کی اداکاری کی کافی تعریف ہوئی تھی اور انہیں آئیفا نے بہترین معاون اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازا تھا۔ | اسی بارے میں صحافت کے تاریک پہلوؤں پر فلم03 October, 2007 | فن فنکار ’ایسے مت چک انڈیا‘25 August, 2007 | فن فنکار ’گائیکی ترک کرنے والے طالب پر فلم‘08 July, 2007 | فن فنکار ’مغل اعظم‘ کے بعد ’نیا دور‘ رنگین03 May, 2007 | فن فنکار فلمی پوسٹر: ایک دم توڑتا فن29 January, 2007 | فن فنکار شو بِز پاکستان 200628 December, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||