شو بِز پاکستان 2006 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سن دو ہزار چھ میں پاکستان کا ثقافتی منظر بھانت بھانت کی سرگرمیوں سے سجا رہا۔ سرکاری سرپرستی میں مرتب ہونے والے پروگرام اعتدال پسند روشن خیالی اور روشن خیال اعتدال پسندی کا نعرہ لگاتے رہے۔ کمرشل تھیٹر شہرت اور مقبولیت کے عروج پر پہنچنے کے بعد رُوبہ زوال ہوگیا لیکن تجرباتی تھیٹر نے اس برس ملک بھر میں خوب پر پُرزے نکالے۔ فلمی محاذ پر سناٹا رہا اور سوائے ایک کے سب کی سب فلمیں ناکام رہیں۔ بھارتی فلموں کی خوراک بھی ویران سنیما گھروں کے تنِ مردہ میں زندگی کی رمق پیدا نہ کر سکی البتہ ٹیلی ویژن کی دنیا رنگا رنگ چینلوں سے آباد رہی اور ریڈیو کے کئی نئے ایف ایم سٹیشن بھی اس ہنگامۂ رستخاخیز میں شامل ہوگئے۔ سن دو ہزار چھ میں ثقافتی سرگرمیوں کا آغاز ایرانی فلموں کے میلے سے ہوا۔ تہران یونیورسٹی میں شعبہ فلم کے نگران ڈاکٹر محمد شہبا چیدہ چیدہ ایرانی فلمیں لے کر پاکستان آئے جن میں محسن مخمل باف، عباس کے رُستمی اور جعفر پناہی جیسے عالمی شہرت یافتہ ایرانی ہدایتکاروں کے ساتھ ساتھ نوجوان ڈائریکٹروں کی فلمیں بھی تھیں۔
ڈاکٹر شہبا نے پاکستانی ناظرین کو بتایا کہ ایران میں ہر سال کوئی اسّی (80 ) فیچر فلمیں بنتی ہیں۔ آٹھ دس فلمیں بچّوں کے لیے بھی تیار کی جاتی ہیں اور اتنی ہی تعداد میں فیسٹیول فلمیں بھی بنتی ہیں، یعنی ایسی فلمیں جو خاص طور پر بین الاقوامی میلوں میں نمائش کےلیے تیار کی جاتی ہیں۔ ایران میں اگرچہ فلم سازی کا کام نجی شعبے میں ہوتا ہے لیکن حکومت فلم سازوں کو آسان قرضے فراہم کرتی ہے۔ خام فلم بھی فراہم کرتی ہے اور دیگر تکنیکی سہولتوں کا انتظام بھی کرتی ہے۔ اور ایرانی فلموں کے اس خوشگوار تذکرے سے جب ہم اپنا رُخ پاکستانی فلموں کی طرف موڑتے ہیں تو خاصی مایوسی ہوتی ہے، کیونکہ سن دو ہزار چھ میں بننے والی تیئس اُردو اور پنجابی فلموں میں سے صرف ایک کامیاب ہوئی اور باقی بائیس فلمیں فلاپ ہوگئیں۔ اِس کے مقابلے میں پشتو کی 21 فلمیں نمائش کےلیے پیش ہوئیں اور وہاں کامیابی کا تناسب کہیں زیادہ رہا۔
تاہم ملک بھر میں جس فلم نے واقعی کامیابی کے جھنڈے گاڑے وہ سید نور کی پنجابی فلم ’مجاجن‘ تھی۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ لاہور کے جس سنیما میں ’مجاجن‘ چل رہی تھی اس کے بالکل سامنے والے سنیما میں ہندوستان کی مشہور ترین فلم ’مغلِ اعظم‘ کا نیا رنگین پرنٹ چل رہا تھا لیکن آدھا ہال خالی پڑا تھا جبکہ ’مجاجن‘ کا ہال فُل تھا۔ ’مجاجن‘ کی کامیابی سے فلمی لوگوں کی کئی غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں۔ مثلاً اب تک یہ خیال عام تھا کہ اُجڑے ہوئے سنیماؤں کی رونق بحال کرنے کے لیے بھارتی فلموں کو نمائش کی اجازت ملنی چاہیئے لیکن مغلِ اعظم سمیت چار بھارتی فلموں کو یہ اجازت ملنے کے باوجود پاکستانی سنیما گھر آباد نہ ہوسکے۔ چنانچہ سید نور اور سابق ہیرو اعجاز درّانی کو یہ وضاحت کرنی پڑی کہ ہمارے سنیما گھروں کی رونق صحیح معنوں میں تبھی بحال ہوگی جب اچھی پاکستانی فلمیں وجود میں آئیں گی۔
اچھی فلمیں بنانے کا تعلق صرف فلم سازوں سے نہیں بلکہ ناظرین سے بھی ہے۔ اچھی فلموں کےلیے اچھے ناظرین درکار ہوتے ہیں اور ناظرین کی تربیت کےلیے انھیں دنیا بھر کی اچھی فلموں کا انتخاب دکھانا ضروری ہے۔ کسی زمانے میں ناظرین کی تربیت کا بیڑا نیفڈک نے اُٹھایا تھا اور ایک فلم کلب کے ذریعے پاکستانی ناظرین کو د نیا کے بہترین سنیما سے متعارف کرایا تھا۔ آج یہ کام ٰ کارا فلم فیسٹیول کر رہا ہے۔ اِس برس کے کارا فیسٹیول میں 35 ممالک سے 172 فلمیں شریک ہوئیں۔ بہترین فیچر فلم کا اعزاز جنوبی ہند کی فلم ’نئی نِرالو‘ کو ملا جس کے ڈائریکٹر گریش کیسروالی تھے۔ بہترین اداکار اور بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ ایک امریکی ایرانی ڈائریکٹر کی فلم ’مین پُش کارٹ‘ کو ملا جوکہ نیویارک میں ریڑھی لگانے والے ایک پاکستانی نوجوان کی داستان تھی۔ بھارتی ہدایتکار مہیش بھٹ کی فلم ’وہ لمحے‘ بھی میلے میں پیش کی گئی جس میں پاکستانی سنگر جواد اور ایس پی جان سے بھی کام لیا گیا ہے۔ اجے دیوگن اور گلشن گرور سمیت بھارتی فلم انڈسٹری کی بہت سی شخصیات میلے میں موجود تھیں جتنی دیر میلہ جاری رہا پاک و ہند کی مشترکہ فلم سازی کے امکانات پر قیاس آرائیاں ہوتی رہیں۔ کمرشل تھیٹر کی دنیا میں کوئی قابلِ ذکر واقعہ پیش نہیں آیا سوائے اس کے کہ بہت سے کیبل چینل اب باقاعدگی سے سٹیج کامیڈی کی نمائش کرنے لگے ہیں۔ اِن ڈراموں کو دیکھ کر آسانی سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ امان اللہ اور سہیل احمد نے اپنے ابتدائی ایّام میں جو معرکہ آراء کامیڈی پیش کی تھی، موجودہ اداکار اسی میں پانی ڈال ڈال کر اسے کئی کئی گھنٹے چلاتے ہیں۔ دیکھنے والوں کو ہر صورتِ حال کے مکالمے زبانی یاد ہو چکے ہیں اور ہر مزاحیہ موڑ کا اندازہ ناظرین کو پہلے سے ہوجاتا ہے۔ سن 2006 کے دوران یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ کمرشل تھیٹر میں اب جان باقی نہیں رہی اور اگر اس کی رگوں میں تازہ خون نہ دوڑایا گیا تو ربع صدی تک تفریحات کی دنیا پہ راج کرنے والا کمرشل تھیٹر اپنی موت آپ مر جائے گا۔ دوسری جانب غیر کمرشل تھیٹر نے حیرت انگیز طور پر ترقی کی ہے۔ برازیل کے سرگرم سوشلسٹ کارکن آگستو بال نے سن ستّر کی دہائی میں جس تفاعلی (انٹرایکٹیو) تھیٹر کا آغاز کیا تھا اسے حالیہ برسوں میں پاکستان میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ انٹرایکٹیو ریسورس سینٹر نے گاؤں گاؤں جاکر لوگوں کو تربیت دی اور گلی کوچوں اور چوراہوں میں سٹیج سجا کر عوامی مسائل پر کھیل پیش کیے۔
انٹر ایکٹیو تھیٹر میں اداکار اور ناظرین دو الگ الگ اکائیاں نہیں ہوتیں بلکہ چلتے ہوئے کھیل میں ناظرین مداخلت کر کے کہانی کا رُخ بدل سکتے ہیں۔پاکستان بھر میں پھیلی ہوئی انٹرایکٹیو ناٹک منڈلیوں کا ایک بڑا اجتماع اس برس ملتان میں ہوا جہاں انھوں نے عوام کے مسائل اور اس کے ممکنہ حل کے بارے میں نو کھیل سٹیج کیے۔ سال کا سب سے بڑا فنکارانہ اجتماع البتہ لاہور ہی میں منعقد ہوا جس میں 40 ملکوں کے ساڑھے چھ سو سے زیادہ فنکاروں نے حصّہ لیا۔ انٹرنیشنل پرفارمنگ آرٹس فیسٹیول بھی اب پاکستان میں ایک مستقل سالانہ تقریب بن چکی ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے فنکار جمع ہو کر اپنے فنون کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس مرتبہ کے میلے میں ہالی وُڈ سے فلم سازوں کی ایک ٹیم بھی آئی ہوئی تھی جس نے دو ہفتے تک لاہور کے مختلف مقامات پر شوٹنگ کی۔ اِس ٹیم کے پاس وہ جدید ترین فلمی کیمرے تھے جو ابھی تک مارکیٹ میں عام نہیں ہوئے۔ ۔۔۔اور اس مقام پر ذرا سا توقف کر کے ہمیں اُن فنکاروں، ادیبوں، شاعروں اور دانش وروں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہیئے جو سن 2006 کے دوران ہم سے جدا ہوگئے۔ شاعروں اور ادیبوں میں ہم احمد ندیم قاسمی اور منیر نیازی جیسی قدآور شخصیات سے محروم ہوگئے اور اداکاروں میں محمد علی جیسا عظیم فنکار ہمیں داغِ مفارقت دے گیا۔ اداکار ادیب اور سبحانی بایونس بھی چل بسے اور مصنف و اداکار سکّے دار بھی راہی مُلکِ عدم ہوئے۔ پنجابی فلموں کے وِلن جگّی ملک اور اداکار پپو ظریف بھی اسی سال کے دوران وفات پاگئے۔ سن ساٹھ اور ستّر کی دہائیوں میں مقبول ہونے والی گلوکارائیں نگہت سیما اور روبینہ بدر بھی رخصت ہوئیں اور پنجابی فلموں کے معروف ہدایتکار وحید ڈار بھی ہم میں نہ رہے۔ کیمرہ مین اقبال چوہدری جو فلم انڈسٹری میں بالاپینڈو کے نام سے معروف تھے پچھلے دنوں ہم سے جدا ہوگئے اور اسی شعبے کے ساوک مستری بھی اس برس ہم سے بچھڑ گئے۔ سن دوہزار چھ کا ایک افسوس ناک واقعہ یہ بھی ہے کہ لاہور میں ادیبوں اور شاعروں کا قدیم ٹھکانہ پاک ٹی ہاؤس ہمیشہ کےلئے بند ہوگیا اور وہاں ٹائروں کی دکان کھُل گئی، لیکن اس سانحے کا ازالہ کسی حد تک نیرنگ گیلری کے افتتاح سے ہوگیا۔ یہ محض ایک آرٹ گیلری نہیں ہے بلکہ اس میں ایک ریسٹورنٹ بھی ہے اور پس منظر میں نایاب موسیقی بھی چلتی رہتی ہے۔ اس گیلری کے مالک مشہور ماہرِ تعمیرات نیّر علی دادا ہیں جن کی تمّنا ہے کہ ادیبوں، شاعروں، موسیقاروں اور مصوّروں کو ایک ایسا ٹھکانہ مِل جائے جہاں بیٹھ کر وہ ادب اور آرٹ وغیرہ پر تبادلہء خیال کر سکیں۔ اکثر ادیب اور شاعر نیرنگ گیلری کے افتتاح کو آرٹ کی دنیا میں سال 2006 کا اہم ترین واقعہ قرار دے رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں اداکار محمد علی کا انتقال ہو گیا19 March, 2006 | فن فنکار شوکت صدیقی انتقال کر گئے18 December, 2006 | فن فنکار مجاجن: ایک حوصلہ بخش فلم 27 March, 2006 | فن فنکار تاج محل فلم بین نہیں کھینچ سکی28 April, 2006 | فن فنکار اداکار ادیب انتقال کر گئے27 May, 2006 | فن فنکار پاکستانی سنیما کے مستقبل پر سیمینار31 March, 2006 | فن فنکار عالمی حسیناؤں پر کتاب کی اشاعت 28 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||