BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 March, 2006, 15:35 GMT 20:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلمسٹار محمد علی، میرے دوست

محمد علی قمر احمد
محمد علی قمر احمد کے ساتھ۔ ’یادگار لمحے جو اب حاصل نہ ہوں‘
فلم سٹار محمد علی میرے بچپن کے دوست تھے اور میرے کلاس فیلو بھی۔

تقسیم ہند کے بعد جب رام پور سے ہجرت کرکے ان کی فیملی حیدرآباد سندھ میں آ کر آباد ہوئی تو وہ ہمارے پڑوسی بن گئے۔

ان کے والد مرشد علی ایک مولوی تھے اور بڑے بھائی ارشاد علی کورٹ میں کام کرتے تھے۔ ان کی والدہ پاکستان بننے سے پہلے انتقال کر چکی تھیں۔ ان کی بڑی بہنیں عصمت اور رضیہ اور دادی ان کے ساتھ رہتی تھیں۔

محمد علی (دائیں طرف)، شہاب احمد اور قمر احمد

ان کا زیادہ تر وقت ہمارے گھر پر گزرتا تھا۔ اسی وجہ سے میری والدہ کو انہوں نے اپنی امی بنایا ہوا تھا۔

میڑک پاس کرنے کے بعد انہیں ریڈیو پاکستان کے ڈراموں میں کام کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ حمایت علی شاعر، ظاہر رضوی وغیرہ کے ساتھ وہ اکثر ڈراموں میں حصہ لیا کرتے تھے۔

ان کی آواز سن کر جب ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار علی بخاری نے انہیں ملنے کے لیے بلوا بھیجا۔ فلم ڈائریکٹر فضل احمد کریم فضلی نے جب انہیں وہاں دیکھا تو ان کی ’پرسنیلیٹی‘ کو دیکھ کر انہوں ’فلم چراغ جلتا رہا‘ میں ہیرو کا کام دے دیا۔ یہ اداکارہ زیبا اور دیبا کی بھی پہلی فلم تھی۔

وقت گزرتا گیا اور محمد علی پاکستان کے بہت ہی مقبول فلمی ہیرو بن گئے اور زیبا سے شادی بھی کر لی۔

ہمارے محلے کے لوگ انہیں ’بھورے میاں‘ کے نام سے پکارتے تھے اور ان کے گھر کے لوگ او رمیں انہیں ’منے میاں‘ کہتے تھے۔

زیبا اور محمد علی کی ایک یادگار تصویر

1970 اور 1980 کے عشرے میں جب میں پاکستان کرکٹ ٹیسٹ میچ کے ٹور کرنے جاتا تھا تو انہی کے ہاں ٹھہرتا تھا۔ وہ میری خاطر اس شدت اور محبت سے کرتے تھے کہ میں بے بس ہو جاتا تھا۔

صبح کی نماز پڑھنے کے بعد وہ خود چائے بنا کر میرے کمرے میں آکر چائے رکھ کر مجھے جگاتے تھے۔

ان کے گھر کے باہر انہیں دیکھنے اور ان سے مالی مدد کے لیے ہمیشہ سینکڑوں آدمیوں کا ہجوم ہوتا تھا۔ وہ کسی کو نا امید نہیں کرتے تھے۔ چھ سال قبل ان کے دل کا آپریشن بھی ہوا تھا اور چند سالوں سے وہ ذیابیطس میں مبتلا تھے۔

گزشتہ سال نومبر میں جب میں انگلینڈ کے خلاف لاہور ٹیسٹ کے دوران ان سے ملنے گیا تو ان کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ اپنی صحت کے بارے میں کچھ دل برداشتہ تھے لیکن میری خاطر تواضع انہوں نے اور ان کی بیگم نے ہمیشہ کی طرح کی۔

زیبا اپنی بیٹی ثمینہ (دائیں) کے ساتھ

فیض احمد فیض جب لندن آتے تھے اور محمد علی بھی اگر یہاں ہوتے تو مجھے بھی یہ شرف حاصل ہوتا تھا کہ ان کے ساتھ کچھ وقت گزاروں۔

یہ یادگار لمحے اب کبھی حاصل نہ ہوں گے۔

اسی بارے میں
محمد علی کا یادگار انٹرویو
19 March, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد