عالمی حسیناؤں پر کتاب کی اشاعت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں عالمی سطح کی معلومات جمع کرنے والے نوجوانوں کے پاس کرکٹ کے تمام اہم ریکارڈ، ہاکی کے تاریخی گول، فٹبال کی عالمگیر شہرت والی شخصیات، فلمی شخصیات کے ہر سکینڈل کی تفصیل اور سیاستدانوں کے ذاتی راز۔ غرض ہر طرح کی معلومات موجود ہوتی ہیں۔ ٹیلی ویژن کے معلوماتی مقابلوں میں حصّہ لینے والے لوگ اپنی ڈائریوں میں یہ تمام کوائف درج کر لیتے ہیں اور معلوماتی مواد کی اس بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کےلیے اب کئی ناشروں نے ہر طرح کے معلوماتی کتابچے بھی چھاپنے شروع کردیے ہیں لیکن اس طرح کے تمام معلوماتی ادب میں اب تک ایک چیز کی کمی تھی: دنیا کی خوبصورت ترین عورتوں کے بارے میں معلومات! پاکستان کے سینئر فلمی صحافی زاہد عکاسی نے اب اس کمی کو پونے دو سو صفحات کی ایک باتصویر کتاب کے ذریعے دُور کرنے کی کوشش کی ہے۔
بنیادی طور پر مصنف نے اس کتاب میں حسینہء عالم یعنی مِس ورلڈ کے انتخاب کی ہسٹری بیان کی ہے۔ انھوں نے گزشتہ نصف صدی کے دوران مس ورلڈ کا تاج پہننے والی دوشیزاؤں کی فہرست مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ ماضی میں ہونے والی ان کی تاج پوشی کی شاندار تقریبات کا احوال بھی بیان کیا ہے۔ پیش لفظ میں مصنف بتاتے ہیں کہ عالمی حسیناؤں کا انتخاب تحسینِ حُسن یا جمالیاتی حِس کی تسکین کے لیے نہیں شروع ہوا تھا بلکہ اس کے پسِ پشت کاسمیٹکس تیار کرنے والے کاروباری ادارے تھے جو حسین و جمیل عورتوں کو منظرِ عام پر لا کر اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھانا چاہتے تھے۔ تشہیر کے اس کامیاب طریقِ کار سے رقیب کاروباری ادارے اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے مِس ورلڈ کے مقابل مِس یونیورس کے انتخاب کا سلسلہ شروع کردیا۔
چند برس پہلے جب بھارت کی آبادی ایک ارب سے تجاوز کر گئی تو افزائشِ حسن کا سامان بیچنے والے اداروں نے اپنی کاروباری توپوں کا رُخ مشرق کی جانب کردیا۔ وہ اس راز کو پاگئے تھے کہ اگر بھارت کی ایک فی صد آبادی بھی ان کی بنائی ہوئی لِپ سٹک خریدے تو اُن کی ایک کروڑ لپ سٹکیں بک سکتی ہیں۔ یہی امر مہمیز بنا بھارت کی حسیناؤں کو منظرِ عام پر لانے کا، چنانچہ اب تک پانچ بھارتی حسیناؤں کے سر پہ حسنِ عالم سوز کا تاج رکھاجا چکا ہے، جِن میں سب سے شہرت یافتہ خاتون ایشوریا رائے ہیں جو سنگھار کا سامان بنانے والی دنیا بھر کی بڑی بڑی کمپنیوں کے لیے ماڈلنگ کرنے کے بعد پردہء سیمیں پر جلوہ افروز ہوئیں اور کاسمیٹکس ساز اداروں کے ساتھ ساتھ کروڑوں عوام کے دِل کی دھڑکن بھی بن گئیں۔ ایشوریا کو 1994 میں مِس ورلڈ کا خطاب دیا گیاتھا۔ تین برس بعد ایک اور بھارتی حسینہ کو اس اعزاز سے نوازا گیا اور 1999 میں بھی مِس ورلڈ کا اعزاز ایک بھارتی حسینہ ہی کو ملا۔ سن 2000 میں لندن کے ’ہزاری گنبد‘ میں منعقد ہونے والے مشہور مقابلہ حسن میں بھارتی حسینہ پریانکا چوپڑا کو مِس ورلڈ قرار دیا گیا۔ کاروباری مسابقت میں شروع ہونے والے مِس یونیورس مقابلوں کے منتظمین بھی عظیم آبادی والے ملک بھارت کی اہمیت سے بے خبر نہیں تھے چنانچہ 1994 میں انھوں نے ایشوریا کے مقابل سشمیتا سین کو مس یونیورس قرار دے دیا اور سن 2000 کے اہم مقابلوں میں پریانکا کے مقابل لارا دتّہ کو مِس یونیورس کا تاج پہنایا گیا۔ کتاب میں تمام عالمی حسیناؤں کے بارے میں مکمل کوائف جمع ہیں جِن میں اُن کی جائے پیدائش سے لےکر اُن کی تعلیمی قابلیت، ذاتی مشاغل، خیراتی سرگرمیاں اور مستقبل کے ارادے وغیرہ سب شامل ہیں۔ کتاب میں ایسے چارٹ اور جدول بھی شامل ہیں جِن میں 1951 سے لےکر سن 2006 تک کے تمام مقابلہ ہائے حسن کی تفصیلات درج ہیں۔ کتاب کا آخری حصّہ ہندوستانی سُندریوں کے لیے وقف کیا گیا ہے جس میں 1947 سے لےکر 2006 تک کی ہر مِس انڈیا کا احوال درج ہے۔ اسی حصّے میں ہمیں زینت امان، نفیسہ علی، میناکشی، سنگیتا بجلانی، جوہی چاولہ، مدھو سپریا، نمرتا شروڈکر، دیا مرزا، نیہا دھوپیا، نکیتا آنند، تنوشری دتّا، جائناٹائیڈ، امرتا تھاپر، امرونا، نتاشا اور نیہا کپور کے مفصّل کوائف بھی ملتے ہیں۔ بُک ہوم لاہور کی شائع کردہ اس کتاب میں اگر کمپوزنگ اور طباعت کی غلطیاں نہ ہوتیں تو اس کی افادیت اور بھی بڑھ جاتی۔ | اسی بارے میں مس انڈیا ورلڈ کا تاج واپس 31 March, 2004 | انڈیا مس ترکی حسینۂ عالم07.12.2002 | صفحۂ اول حسیناؤں کی جیت03.02.2003 | صفحۂ اول مس یونیورس دو ہزار تین04 June, 2003 | صفحۂ اول مس انگلینڈ پر فرد جرم عائد08 May, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||