’گائیکی ترک کرنے والے طالب پر فلم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں اگر انتہاپسند اور ان کی مخالف قوتوں کے درمیان لال مسجد کے اردگرد خونریزی جاری ہے تو دوسری جانب مسلمانوں کو درپیش اسی سوچ کے اختلاف جیسے موضوع پر بنائی جانے والی فلم’خدا کے لیے‘ کا پریس شو منعقد ہوا ہے۔ بظاہر یہ محض ایک اتفاق ہے کہ لال مسجد کا تصادم اور فلم ایک ہی وقت سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم ان دونوں کا آغاز امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد دنیا میں پیدا ہونے والی صورتحال سے ہوا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک بھائی (فواد خان) ایک انتہا پسند مولوی کی باتوں میں آ کر گائیکی کو ترک کر کے ’طالب‘ بن جاتا ہے اور کیسے دوسرا بھائی (شان) امریکہ میں تحقیقاتی اداروں کے ہاتھوں القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں تفتیش سے ذہنی توازن کھو دیتا ہے۔ یہ فلم آج کل اسلامی دنیا خصوصا پاکستان جیسے ممالک میں زیر بحث جہاد، موسیقی، مغربی لباس اور زبردستی کی شادی جیسے موضوعات کے گرد گھومتی ہے۔ اس فلم میں اگرچہ بیک وقت کئی کہانیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں تاہم ان کا باہمی ربط متاثر نہیں ہوتا۔ فلم کا سکرپٹ اور موسیقی اچھے معیار کے ہیں اور اداکاروں نے بھی اپنے کرداروں کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا ہے۔ یہ فلم امریکہ، برطانیہ اور پاکستان میں فلمائی گئی ہے۔
بقول فلمساز یہ فلم ماضی کی فلموں سے اس لیے مختلف ہے کہ اس میں مسلمان نسل کو ایک درست سمت دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں موسیقی اور مغربی لباس کو غیر اسلامی قرار دینے والوں کے مقابلے میں ایسے علماء پر سامنے آنے کے لیے زور دیا گیا ہے جو اپنے موقف کو سامنے لانے میں اب تک سستی سے کام لیتے رہے ہیں۔ فلم کی ہیروئن ایمان علی ایسے ہی ایک عالم کا کردار ادا کرنے والے نصیرالدین شاہ سے کہتی ہیں’میں تمہیں گریبان سے وہاں (آخرت) میں پکڑوں گی اور میں بتاوں گی خدا کو کہ اس آدمی کے پاس آپ کی عبادت کے لیے تو وقت ہی وقت تھا لیکن کسی مظلوم کا ساتھ دینے کے لیے چند منٹ بھی نہیں تھے‘۔ پریس شو کے موقع پر فلم کے ہدایت کار شعیب منصور تو موجود نہیں تھے لیکن ان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ کبھی یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ خدا انسان کو دی جانی والی دو انتہائی دلکش چیزوں یعنی موسیقی اور پینٹنگ سے نفرت کرتا ہوگا۔ بیان میں موسیقی ترک کرنے والے معروف پاکستانی گلوکار جنید جمشید پر بھی تنقید کرتے ہوئے شعیب منصور کا کہنا تھا کہ جنید نے انتہا پسندوں کے زیر اثر رہتے ہوئے معاشرے کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور’وہ کیسے سولہ برس کی محنت ایسے چھوڑ دے گا‘۔
جیو فلمز کے عمران اسلم کا فلم کی موسیقی کے بارے میں کہنا تھا کہ ہر دھن میں ایک محبت ہے، عشق ہے اور ایک شدت ہے۔ فلم میں موسیقی کو جائز قرار دینے جیسے مشکل موقف کی وضاحت کے لیے کُہنہ مشق بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ ہی شاید بہترین چوائس تھے اور فلم کے اختتام پر ان کے موسیقی کے حق میں دلائل ہمارے معاشرے میں کم ہی سننے کو ملتے ہیں۔ یہ واضع نہیں یہ فلم کب سینما گھروں میں پیش کی جائے گی اور آیا اس کی سنسر بورڈ سے منظوری لینے کی بھی کوئی کوشش کی گئی یا نہیں۔ تاہم اس فلم کو تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی ایک اچھی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’ہم ہالی وڈ کی نقالی کب چھوڑیں گے؟‘23 February, 2007 | فن فنکار کراچی: پاکستانی سنیما کی نئی اُمید 12 January, 2007 | فن فنکار نصف صدی کا فلمی قصّہ18 December, 2006 | فن فنکار ڈوُما کے ناول پر پاکستانی فلم15 December, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||