’ہم ہالی وڈ کی نقالی کب چھوڑیں گے؟‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے فلمی اداکار اور ہدایت کار نصیرالدین شاہ نے بالی ووڈ کی فلموں میں معیار اور حقیقت پسندی کی عدم موجودگی پر سخت تنقید کی ہے۔ بی بی سی کے ایشین نیٹ ورک پر گگن گریوال شو میں نصیرالدین کا کہنا تھا کہ بھارتی فلمیں بین الاقوامی معیار کو مدّنظر رکھتے ہوئے نہیں بنائی جاتیں۔ نصیرالدین شاہ نے یہ تنقید ایسے موقع پر کہی ہے جب بالی ووڈ کی فلم ’رنگ دے بسنتی‘ بافٹا (BAFTA) یعنی برطانوی اکیڈمی برائے فلم و ٹی وی ایوارڈز کی اسی ماہ کی تقریب میں ایوارڈ حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ ’رنگ دے بسنتی‘ فلم کو بہترین غیر ملکی فلم کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ نصیرالدین شاہ نے کہا ’میرے خیال میں ہم ایسی فلمیں نہیں بناتے جن کا باقی دنیا میں بننے والی فلموں کے ساتھ مقابلہ کیا جا سکے۔ میں ہالی ووڈ کی بات نہیں کر رہا کیونکہ ہم تو ہالی ووڈ کی فلموں کی بھی نقلیں بناتے ہیں‘۔ بالی ووڈ کو دنیا اور دیگر فلمی صنعتوں کا موازنہ کرتے ہوئے نصیرالدین شاہ نے کہا ’ہم ایران، پولینڈ، جاپان، میکسکو، برازیل، ویت نام یا پھر کوریا میں بننے والی فلموں کے ساتھ اپنی فلموں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ان ممالک میں انتہائی عمدہ فلمیں بنائی جا رہی ہیں اور ہم ابھی تک ہیرو ہیروئین کے عشق پر مبنی قدیم طرز کی فلمیں بنا رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری فلموں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا‘۔
نصیرالدین شاہ کی حالیہ فلم ’پرزانیہ‘ بھارتی ریاست گجرات کے دو ہزار دو کے ہندو مسلم فسادات پر مبنی ہے۔ اس فلم پر ملک بھر میں شدید تنقید کی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ فلم کچھ حد تک پرانے زخموں کو تازہ کرتی ہے تاہم فلم کا دفاع کرتے ہوئے نصیرالدین شاہ نے کہا کہ اس فلم میں ان لوگوں کی تکالیف دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جنہیں فسادات کے میں ملوث نہ ہونے کے باوجود بھی مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا ’مجھے نہیں معلوم کہ بالی ووڈ کو کب ہوش آئے گا اور یہ صنعت کب سمجھے گی کہ مشہور اداکار نہیں بلکہ کہانی اور فلم کی مجموعی معیار لوگوں کو سینما گھروں کی طرف کھینچتا ہے‘۔ نصیرالدین شاہ عنقریب ایک پاکستانی فلم ’خدا کے نام‘ میں کام شروع کرنے والے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی فلمی صنعت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لالی ووڈ کے بارے میں نصیرالدین شاہ نے کہا ’وہ بھی ممبئی کی فلم انڈسٹری کی نقل کرتی ہوئی ایک بیمار قسم ہے۔ پاکستانی فلم ساز بھارتی طرز پر ہی محض رومانوی فلمیں بنانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں‘۔ نصیرالدین شاہ نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی نوجوان نسل دورِ حاضر کے عین مطابق فلمیں تیار کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ |
اسی بارے میں ممبئی کے ’ٹریفِک سِگنل‘ کی سچائیاں01 February, 2007 | فن فنکار پرزانیہ: گجرات فسادات پر مبنی فلم 20 January, 2007 | فن فنکار اقبال: ایک بامقصد اور منفرد فلم23 August, 2005 | فن فنکار شاہ رُخ کی پہیلی: ایک بامقصد فلم 24 June, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||