BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 January, 2007, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرزانیہ: گجرات فسادات پر مبنی فلم

اس فلم میں ایک امریکی اداکار کورن نیمیک بھی ہیں
ہندوستان کی ریاست گجرات میں سن 2002 ہونے والے فسادات پر مبنی ایک فلم ’پرزانیہ‘ 26 جنوری کو نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

گجرات فسادات کے دوران ریاست میں میں ہزاروں افراد کا قتل عام ہوا۔ بہت سے لوگوں کو زندہ جلایا گیا۔ بہت سے ایسے بھی تھے جو کھوگئے یا زندہ جلا دیے گئے اور ان کی لاشیں تک نہیں ملیں۔ ایسے افراد کے ورثاء انہیں دوبارہ پانے کی امید پر آج بھی جی رہے ہیں۔ پرزانیہ ایسے ہی ایک پارسی خاندان کی سچی کہانی ہے۔

گجرات کی ریاست احمد آباد میں گلبرگ سوسائٹی مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ یہیں ایک چھوٹا سا خوشحال پارسی خاندان بھی رہتا تھا۔ دارا مودی، ان کی خوبصورت بیوی روپا، دس سالہ بیٹا اظہر اور سات سالہ بیٹی بینائفر۔ گودھرا ٹرین آتشزدگی کی واردات ستائیس فروری کو ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس میں 58 ہندو جل کر ہلاک ہو گئے تھے۔ اٹھائیس فروری کو جب شرپسندوں نے مسلمانوں کی گلبرگ سوسائٹی پر دھاوا بولا تو سب نے اسی سوسائٹی میں رہنے والے سابق ممبر پارلیمینٹ احسان جعفری کے گھر پناہ لی۔

احسان جعفری کے گھر میں سینکڑوں پناہ گزینوں کو باہر نکالنے کے لیے شرپسندوں نے آگ لگا دی جس کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی اس دوران دارا مودی کا دس سالہ بیٹا اظہر کہیں کھو گیا۔

گجرات فسادات اور اپنے گمشدہ بیٹے کی تلاش میں پانچ سال سے بھٹکتے والدین کی کشمکش کی ہی کہانی ’پرزانیہ‘ ہے۔ اپنے بچے کی گمشدگی کے بعد انہوں نے اس کی تلاش کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے۔

نصیر الدین شاہ
فلم میں نصیرالدین شاہ نے دارا مودی کا کردار نبھایا ہے

فلم کے ہدایت کار راہل ڈھولکیا نے اس پر فلم بنانے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ دارا مودی ان کے قریبی دوست ہیں۔ ان کے اس درد کو انہوں نے خود محسوس کیا۔ راہل ڈھولکیا کے مطابق دوسری وجہ یہ تھی کہ حالانکہ وہ اب امریکہ میں رہتے ہیں لیکن ان کا آبائی وطن احمدآباد ہے۔ راہل ڈھولکیا کو اس فلم کے لیے بحثیت بہترین ہدایت کار کے 53 ویں نیشنل ایوارڈ کا اعلان بھی ہوا لیکن کسی تنازع کی وجہ سے اسے روک لیا گیا ہے۔

راہل ڈھولکیا کہتے ہیں کہ ان کے لیے شرم کی بات ہے کہ عدم تشدد کے لیے دنیا بھر میں مشہور مہاتما گاندھی کی ریاست گجرات میں جہاں شراب پر تو پابندی ہے لیکن انسانوں کو کھلے عام قتل ہوتا ہے اور کوئی کچھ نہیں کرتا۔ اس لیے انہوں نے اس پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔

راہل ڈھولکیا کہتے ہیں کہ انہوں نے اس فلم کو بنانے کے لیے اس پر ڈیڑھ سال تک ریسرچ کی۔ فلم کی کہانی صرف ایک خاندان اور اس کے غموں اور دکھوں کے گرد گھومتی ہے۔ یہ فلم آج بھی گجرات کے فسادات کے تمام متاثرین کے حالات کی عکاس ہے۔

پرزانیہ
پرزانیہ ایک پارسی خاندان کی سچی کہانی ہے

فلم میں نصیرالدین شاہ نے دارا مودی کا کردار نبھایا ہے ان کا نام سائرس ہے جبکہ اداکارہ ساریکا ان کی بیوی شرناز بنی ہیں۔ دس سالہ بیٹے اظہر کے کردار میں پارسی چائلڈ آرٹسٹ پرزان دستور اور بیٹی دلشاد کا رول پارسی چائلڈ آرٹسٹ پرل بارسی والا نے کیا ہے۔ اس فلم میں ایک امریکی اداکار کورن نیمیک بھی ہیں جو فلم میں ایلن ہیں اور وہ عدم تشدد کے رہنما مہاتما گاندھی کے شہر احمد آباد سکون اور امن کی تلاش میں آتے ہیں۔ یہاں ایلن گاندھی پر ریسرچ بھی کر رہے ہیں۔

نصیرالدین شاہ کے لیے پارسی کا کردار نبھانا کچھ مشکل نہیں تھا کیونکہ اس سے قبل انہوں نے کم سے کم چھ فلموں میں پارسی کا رول کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس فلم میں کام کرنے کی وجہ اس کا سکرپٹ تھا۔ یہ رول ان کے دل کو چھو گیا۔ ’دارا مودی کی کہانی ایسے ہزاروں بے گناہ انسانوں کی کہانی ہے جنہوں نے جنونیوں کے ہاتھوں اپنوں کو کھو دیا‘۔

نصیرالدین شاہ نے اس کردار کو نبھانے سے قبل حقیقی زندگی کے اس کردار سے ملاقات نہیں کی۔ ’میں جانتا تھا کہ میں کسی پارسی باپ کا کردار نہیں بلکہ ایک عام انسان کے درد کو پردے پر لا رہا تھا۔ اس کے علاوہ مجھے پتہ تھا کہ کسی ایسے باپ کے لیے، جوگزشتہ پانچ برسوں سے اپنے کھوئے بیٹے کو ہسپتال، مردہ خانوں میں تلاش کرتا پھر رہا ہو، اپنے جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہو گا‘۔

گجرات فسادات پر اس سے قبل بھی فلمیں بنی ہیں۔ سب سے پہلے راکیش شرما نے ’فائنل سولیوشن‘ بنائی۔ اس فلم کوسنسر بورڈ نے نا منظور کر دیا۔ راکیش شرما نے اپنی فلم کو دیگر ممالک کے ناظرین کے سامنے فلم فیسٹیول میں پیش کیا اور انہیں کئی ایوارڈ بھی ملے۔ بعد میں راکیش شرما نے عدالتی جنگ جیت لی اور ان کی فلم کی نمائش انڈیا میں بھی ہوئی۔

پرزانیہ
فسادات پر فلم بنانے پر فلمسازوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

نغمہ نگار فائز انور نے فلم ’چاند بجھ گیا‘ بنائی۔ فائز کی فلم بھی سنسر بورڈ سے نامنظور ہوئی تو انہوں نے بھی عدالت کا سہارا لیا۔ عدالت نے انہیں بھی فلم کی نمائش کی اجازت دی لیکن ان کی فلم آج تک نمائش کے لیے پیش نہیں ہو سکی ہے۔

فسادات پر فلم بنانے پر فلمسازوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ فسادات کے بعد فلم بنا کر ایک بار پھر لوگوں کے زخموں کو تازہ کیا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ اس پر نصیر الدین شاہ کا خیال ہے کہ ’کبھی کبھی زخموں کو کریدنا بہتر ہوتا ہے تاکہ زخم کو تازہ ہوا ملے اور اچھے خون کا بہاؤ جاری ہو‘۔

فلم انڈیا میں چھبیس جنوری کو نمائش کے لیے پیش ہوگی لیکن کیا فلم کی نمائش گجرات میں ممکن ہو سکے گی۔ اس بارے میں فلمساز کے بی سرین اور ہدایت کار کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس فلم کو احمد آباد کے آئی نوکس اور پی وی آر تھیٹر میں لگانے کی تیاریاں کر لی ہیں اور انہیں توقع ہے کہ اس میں کسی طرح کی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں
سرکریک پر پیش رفت
26 May, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد