سرکریک پر پیش رفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سرکریک کی سمندری کھاڑی کے تنازعے پر دوروزہ بات چیت میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ملکوں نے اتفاق کیا ہے کہ وہ پورے علاقے کا جلد ہی مشترکہ سروے کرینگے اور اسکی بنیاد پر آئندہ کی بات چیت میں مدد لی جائیگی۔ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک سرکریک کے سرحدی اور پانی کے تنازعے کو جلدی ہی حل کرلینگے۔ بیان کے مطابق مشترکہ سروے نومبر دو ہزار چھ اور مارچ دو ہزار سات کے درمیان کیا جائیگا۔ دوروزہ بات چیت کے اختتام پر ہندوستانی وفد کے قائد سرویئر جنرل، میجر جنرل گوپال راؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ بات چیت کامیاب رہی ہے اور مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین میں اختلافات کم ہوئے ہیں۔’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پانی کے علاقوں سمیت سرکریک کا مشترکہ جائزہ لیا جائے گا۔ ہم اس سروے کےطور طریقوں پر بات چیت کرہے ہیں۔‘ پاکستانی وفد کے قائد وزارتِ دفاع کے ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمرل احسان الحق چودھری نے بتایا کہ اس بات چیت میں بڑی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ ’اس بار پہلی مرتبہ ہم سرکریک کے تمام علاقوں کے مشترکہ سروے کرنے پر رضامند ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے تکنیکی سطح کی بات چیت کئی بار ہوئی ہے لیکن سروے کے طور طریقوں پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔‘ یک سوال کے جواب میں مسٹر چودھری نے کہا کہ ’ ہم سرکریک پر بات چیت کرتے سمندری امور کے متعلق اقوام متحدہ کی معیاد کا خیال رکھتے ہیں۔ وہ دونوں ہی ممالک پر نافذ ہوتا ہے۔‘ سرکریک بھارت میں ریاست گجرات کے رن آف کچھ سے پاکستان کے صوبہ سندھ تک پھیلا ہوا تقریبا سوکلو میٹرکا دلدل والا علاقہ ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف اس بات پر ہیں کہ آخر سرحد کس جگہ ہے۔ دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ سر کریک کی دفاعی اعتبار سے اہمیت کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں پا ئے جانے والے تیل اور گیس کے ذخائر ہیں اور وہی تنازع کی اصل وجہ ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ تنازع تقریبا پینتالیس برس قبل شرو ع ہوا تھا۔ اسکے حل کے لیے اب تک نو بار بات جیت ہوچکی ہےلیکن اب تک مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں اقوام متحد کی جانب سے مقرر کی گئی معیاد ختم ہونے والی ہے اس لیے دونوں کو اب جلد ہی کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔ بھارت اور پاکستان نےسمندری امور سے متعلق اقوام متحد کے اس قانون کو تسلیم کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سبھی ممالک اپنی سرحدیں طے کرلیں اور تمام متنازعہ سمندری امور دو ہزار نو تک حل کرلیے جائیں ورنہ باقی تمام علاقوں کو عالمی علاقہ مان لیا جائےگا۔اقوام متحدہ نے سبھی ملکوں سے اپنے دعوؤں کی فہرست دو ہزار سات تک پیش کرنے کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔ | اسی بارے میں سرکریک مذاکرات کا ایک نیا دور25 May, 2006 | انڈیا سیاچن، مذاکرات پھر بے نتیجہ24 May, 2006 | انڈیا گول میز کانفرنس سےپہلے حملہ24 May, 2006 | انڈیا ہند پاک تفتیشی اداروں کے مذاکرات 22 March, 2006 | انڈیا جرائم اور منشیات، پاک انڈیا مذاکرات21 March, 2006 | انڈیا ’کشمیر: جرات اور نرمی کا متقاضی‘18 January, 2006 | انڈیا ہند- پاک مذاکرات کا تیسرا دور16 January, 2006 | انڈیا قیدیوں پر بات چیت ہو سکتی ہے28 August, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||