قیدیوں پر بات چیت ہو سکتی ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے داخلہ سکریٹریوں کے درمیان تیس اگست سے دہشت گردی اور منشیات جیسے امور پر مذاکرات شروع ہوں گے۔ کمپوزٹ ڈائیلاگ کے تحت داخلہ سکریٹریوں کے درمیان یہ تیسرے دور کی بات چيت ہے اور اس بار فریقین کے درمیان دونوں ملکوں کے قیدیوں کے بارے میں بات چيت ہوسکتی ہے۔ پاکستان کے داخلہ سکریٹری سید کمال شاہ کی قیادت میں ایک گيارہ رکنی وفد نئی دلی پہنچا ہے۔ کمال شاہ اور ان کے ہندوستانی ہم منصب وی کے دگّل کے درمیان مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ہندوستان کی جانب سے سرب جیت سنگھ کی جان بخشی کی اپیل کی گئی ہے۔ پاکستانی سپریم کورٹ نے ہندوستانی شہری سرب جیت سنگھ کو دہشت گردی کے جرم موت کی سزا سنائي تھی۔ نئی دلی پہنچنے کے بعد پاکستانی سکریٹری داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ’ میں بڑے کھلے ذہن سے آیا ہوں‘۔ جب ان سے سوال کیا گيا کہ کیا وہ سرب جیت سنگھ کے متعلق بھی بات چیت کریں گے تو بغیر کوئی واضح جواب دینے انہوں نے کہا کہ’دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے‘۔ بات چیت کے ایجنڈے کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ’ عام طور پر ہوم سکریٹریوں کے درمیان دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ پر گفتگو ہوتی ہے لیکن اس بار ہم نے گزارش کی ہے کہ ہم دونوں ملکوں کے قیدیوں کے متعلق بھی بات چيت کے خواہشمند ہیں‘۔ ہندوستانی داخلہ سکریٹری وی کے دگل نے کہا کہ’ہندوستان پر امید ہے کہ بات چیت مثبت رہےگی‘۔ امکان ہے کہ بات چیت کے بعد دونوں کی جانب سے فریقین ایک مشترکہ بیان جاری کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||