پاک بھارت ملاقات یکم ستمبر کو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزارتِ خارجہ کےترجمان کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان یکم ستمبر کو اسلام آباد میں ملاقات ہوگی۔ اس ملاقات میں مختلف موضوعات پر وفود کی سطح پر ہونے والی اب تک کی بات چیت کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ بگلیہار ڈیم کے بارے میں سوال پر ترجمان نعیم خان نے کہا کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں عالمی بینک کا مقرر کردہ غیر جانبدار ماہر دونوں ممالک کے ماہرین کے ہمراہ ڈیم کا معائنہ کریں گے۔ ایران سے گیس پائپ لائن بچھانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ آئندہ سال کی ابتدا میں اس منصوبے پر کام شروع ہونے کی توقع ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیاں تعاون بڑھانے اور رابطے کو موثر کرنے کے لیے چوبیس اگست کو ایک اہم اجلاس ہوگا۔ نعیم خان نے کہا کہ بھارت کی جیلوں میں دو سو بائیس پاکستانی قید ہیں جن سے ملاقات کے لیے پاکستان نے بھارتی حکومت سے درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں قید اپنے قیدیوں سے ملنے کے لیے بھارت نے بھی درخواست دی ہے۔ دریں اثناء اسلام آْباد میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر نے ایک ظہرانے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم منموہن سنگھ کے درمیان اہم ملاقات ہوگی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید خبریں بنانے کے لیے بہت ساری باتیں کرتے ہیں۔ ہائی کمشنر نے بتایا کہ ڈیڑھ سو کے قریب پاکستانی بھارت کی جیلوں میں قید ہیں جبکہ بھارت کے تین سو ستر مچھیرے پاکستان کی جیلوں میں بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ ان قیدیوں کو رہا کریں۔ دلی میں واقع جناح ہاؤس پاکستان کے حوالے کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا دونوں ممالک میں بات چیت بے نتیجہ رہی ہے۔ لیکن ان کے بقول رواں سال کے آخر تک کراچی میں وہ اپنا قونصل خانہ کھول دیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||