BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 August, 2005, 00:31 GMT 05:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسانی سمگلنگ کے خلاف نئے اقدامات

غیر قانونی تارکین وطن
ترکی کے جیلوں میں سات ہزار کے قریب پاکستانی مقید ہیں جو غیر قانونی طریقے سے یورپ لے جائے جا رہے تھے
پاکستان میں انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے بارے میں بھی ایک سرخ کتاب چھاپی جائے گی اور اشتہاری قرار دیئے جانے والے ملزمان کے نام اور تصاویر اخبارات میں شائع کی جائیں گی اور ان کی گرفتار ی کے لیے انعامات مقرر کیے جائیں گے۔

یہ بات پاکستان میں وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ’ایف آئی اے‘ کے سربراہ طارق پرویز نے لاہور میں ایف آئی اے ہیڈ کواٹر میں ایک کھلی کچہری لگانے کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث مفرور ملزمان کا پاکستان میں اسی طرز پر ڈیٹا تیار کیا جائے گا جیسا ان افراد کے بارے میں تیار کیا جاتا ہے جن پر دہشت گردی کے الزمات عائد کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چھ ماہ کے دوران مختلف الزمات کے تحت ایف آئی اے کے چالیس افسروں کو برطرف کیا جاچکا ہے جبکہ دو سب انسپکٹروں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ان دونوں سب انسپکٹروں سمیت سزا پانے والے بیشتر ملازمین انسانوں کی سمگلنگ میں ملوث پائے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس تاثر کو زائل کیا جارہا ہے کہ انسانی سمگلنگ کو روکنے کے ذمہ دار ادارے ایف آئی اے کے اہلکار ہی انسانی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے انسانی سمگلنگ کے حوالے سے پاکستان کو پہلے واچ لِسٹ پر رکھا ہوا تھا لیکن اب اسے اس فہرست سے نکال دیا گیا ہے جو پاکستان کے امیج کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس کا کریڈٹ ان کے بقول ایف آئی اے کو بھی جاتا ہے۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ پاکستان میں گجرات اور کھاریاں سے لیکر جہلم تک کے علاقے سے بڑی تعداد میں لوگ بیرون ملک جاتے ہیں اور ان علاقوں کی نگرانی کے لیے خفیہ انٹیلی جنس یونٹ قائم کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک بدنام پاکستانی انسانی سمگلروں کی گرفتاری کے لیے انٹر پول کی مدد لی جائے گی جبکہ اس سال کے اختتام تک پاکستان ، ایران ، ترکی اور یونان کے حکام کی ایک کانفرنس ہوگی جس میں پاکستان سے ایران اور ترکی کے راستے یونان اور دوسرے یورپی ملکوں تک غیر قانونی طور پر جانے والے پاکستانیوں کے معاملات زیر بحث آئیں گے اور یہ بھی دیکھا جائے گا کہ انسانوں کی اس غیر قانونی نقل مکانی کو کس طرح روکا جائے۔

اس وقت صرف ترکی کی مختلف جیلوں میں سات ہزار کے قریب ایسے پاکستانی مقید ہیں جنہوں نے یونان جانے کی خواہش میں غیر قانونی طور پر ترکی کی سرحد عبور کرلی تھی۔ اس کانفرنس میں ان قیدیوں کی رہائی کی بات بھی کی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد