تارکین وطن، قاتلوں کو معافی نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقدونیا کے صدر نےچھ پاکستانیوں کو ہلاک کرنے کے مقدمے میں ملوث اعلیٰ پولیس اہلکاروں اور ایک بزنس مین کو معاف کرنے امکان کو رد کر دیا ہے۔ مقدونیا میں آج سے تین سال پہلے چھ پاکستانیوں اور ایک بھارتی شہری کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا ـ مقدونیا کی پولیس نے ان لوگوں کو دہشت گرد قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ لوگ مقدونیا میں غیر ملکی سفارت خانوں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ تاہم بعد میں سامنے آنے والے حقائق سے معلوم ہوا کہ یہ تارکین وطن تھے اور اس وقت کی مقدونیا کی حکومت نےصرف امریکہ کو خوش کرنے کے لیے ان لوگوں پر جھوٹا الزام عائد کر کے انھیں ہلاک کر دیا تھا۔ اس وقت کی حکومتی پارٹی نے جو اب حزب مخالف میں ہے، موجودہ صدر سے ان ملزمان کو معاف کرنے کی اپیل کی تھی جو صدر نے رد کر دی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||