سرکریک مذاکرات کا ایک نیا دور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سرکریک کی سمندری کھاڑی کے تنازعے کے حل کے لیئے نئی دلی میں جمعرات سے دو روزہ مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔ سر کریک مسئلے پر مذاکرات کے اس دور میں فریقین کی کوشش ہے کہ اس بار اس سمندری کھاڑی کی سرحدیں طے کر لی جائیں۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزارتِ دفاع کے ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمرل احسان الحق چوہدری کر رہے ہیں جبکہ بھارتی وفد کے قائد سرویئر جنرل، میجر جنرل گوپال راؤ ہیں۔فریقین نے اسی سلسلے میں گزشتہ برس دسمبر میں بھی نئی دلی میں بات چیت کی تھی۔ سرکریک کا علاقہ بھارت میں ریاست گجرات کے رن آف کچھ سے پاکستان کے صوبہ سندھ تک پھیلا ہوا ہے اور اس کی لمبائی تقریباً سو کلو میٹر میل ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف اس بات پر ہے کہ آخر سرحد کس جگہ ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ سرکریک کا پورا علاقہ اسکا اپنا ہے ۔ لیکن ہندوستان اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ سرکریک کے علاقے میں سرحدی برجیاں لگانے کے لیے دونوں ممالک نے گزشتہ برس ایک مشترکہ سروے کیا تھا جس کو مقررہ وقت سے پہلے ہی مکمل کر لیا گیا تھا۔ اس علاقے کا تنازعہ 1960 کی دہائی میں سامنے آیا تھا۔ 1969 سے اب تک اس مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے کئی دور ہوچکے ہیں مگر اس علاقے کی ملکیت کا تنازعہ حل نہیں ہو سکا۔ بعض دفاعی مبصرین کا خیال ہے کہ سر کریک کی دفاعی اعتبار سے اہمیت اپنی جگہ لیکن تنازعے کی وجہ اس علاقے میں پا ئے جانے والے تیل اور گیس کے ممکنہ ذخائر بھی ہیں۔ | اسی بارے میں سر کریک: پاک بھارت مذاکرات 28 May, 2005 | پاکستان سر کریک مذاکرات: پہلا دور مکمل28 May, 2005 | پاکستان سر کریک مذاکرات بھی بے نتیجہ29 May, 2005 | پاکستان ’حملہ کرنے والوں کے ساتھ نہیں‘18 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||