BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 April, 2006, 11:56 GMT 16:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حملہ کرنے والوں کے ساتھ نہیں‘
سیاچن
سیاچن پر سمجھوتہ سے کشمیر کے تنازعہ کے حل میں بھی مدد ملے گی: پاکستان
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پاکستان حملہ کرنے والوں کا ساتھ نہیں دے گا۔

بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے کہا ایران کے معاملے پر پاکستان کی پوزیشن بالکل واضح ہے۔ ’یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں۔ امریکہ اور یورپی یونین کو اس کا علم ہے۔‘

خورشید قصوری نے کہا کہ پاکستان ایران کے خلاف فوجی ایکشن کے خلاف ہے اور پاکستان یہ سمجھتا ہے ایران پر حملہ پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ ’یہ نہ امریکہ کہ مفاد میں ہے اور نہ دنیا کے مفاد میں ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ دنیا ایک نئی مشکل سے دو چار ہوجائے۔‘

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کیئے ہوئے ہیں لہذا اس کو اس کے فوائد اور اس سے وابستہ حقوق ملنے چاہئیں لیکن ایران کو اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کرنی چاہئیں۔

اس سے قبل لاہور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاچن اور سرکریک کے تنازعات پر سمجھوتہ ہوجائے گا۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات آگے بڑھ رہے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں جنوب ایشیا کے تمام ملکوں سے آزادانہ تجارت کے معاہدہ سافٹا کی توثیق کی ہے۔

اسی نکتہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا انہیں امید ہے کہ اب پاکستان اور بھارت سیاچن اور سر کریک پر سمجھوتہ کرلیں گے۔

خورشید قصوری نے کہا کہ وہ یہ بات کہہ کر ریاست کے کسی راز کو افشا نہیں کررہے کیونکہ بھارت کےوزیراعظم من موہن سنگھ نے بھی حال میں اس بات کا عندیہ دیا ہے۔

صدر مشرف کی کئی تجاویز ہیں
 پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کشمیر کے حل کے لیے کئی تجاویز دی ہیں جبکہ بھارت کے وزیراعظم نے کشمیر کے حل کے لیے عملیت پسندانہ اور قابل عمل حل کی بات کی ہے

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کشمیر کے حل کے لیے کئی تجاویز دی ہیں جبکہ بھارت کے وزیراعظم نے کشمیر کے حل کے لیے عملیت پسندانہ اور قابل عمل حل کی بات کی ہے

خورشید قصوری نے تسلیم کیا کہ دونوں ملکوں کے عوام کو ویزوں کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے اور ویزوں کے اجراء کی پالیسی میں ویسی تبدیلی نہیں ہوئی جس کا بدلتے ہوئے تعلقات تقاضا کرتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ چند برسوں کی نسبت حالات بہتر ہوئے ہیں اور دونوں ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارت کو کراچی میں قونصل خانہ کھولنے کی اجازت دینے کے لیے تیار تھا لیکن پاکستان کو ممبئی میں قونصل خانہ کھولنے کے لیے مشکل پیش آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی ممبئی میں پاکستان کا قونصل خانہ کھلے گا ہم بھارت کو کراچی میں اجازت دے دیں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایران پر جارحیت کے خلاف ہے اور اس کے ایٹمی پروگرام کے تنازعہ کا غیر متشددانہ حل چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے سلسلہ میں سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ ایران کو این پی ٹی کے رکن ہونے کے فوائد ملنے چاہئیں جبکہ رکن کی حیثیت سے ایران کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن بچھانے پر بات چیت کررہا ہے کیونکہ پاکستان میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اس کے گیس کے ذخائر صرف پندرہ سال تک ملکی ضروریات پوری کرسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے بھی کہا ہے کہ وہ ایران پائپ لائن منصوبہ پر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ خورشید قصوری نے کہا کہ ایران نے بات چیت کے گزشتہ دور میں پاکستان اور بھارت کو اپنی گیس کی قیمت فروخت بتائی ہے اور اب یہ دونوں ملک بتائیں گے کہ وہ ایران کو کیا قیمت ادا کرنا چاہتے ہیں۔

خورشید قصوری کل سے ترکی اور جرمنی کے سرکاری دروہ پر روانہ ہورہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد