BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 June, 2005, 18:56 GMT 23:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منموہن سنگھ کے بیان کا خیر مقدم

منموہمن سنگھ
منموہمن سنگھ نے یہ بیان سیاچن کے حالیہ دورے کے موقع پر دیا تھا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے سیاچن کو امن کا پہاڑ بنانے کی بات کی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ یہ بیان سیاچن کے بارے میں بھارتی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے سیاچن کے تنازعے کے پر امن حل کا حامی رہا ہے اور بھارت پر الزام لگایا کہ اس نے سیاچن کے حصے پر زبردستی قبضہ جما رکھا ہے۔

ترجمان کے مطابق سیاچن پاکستان کا حصہ ہے اور بھارت نے کراچی اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاچن کے ایک حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ بھارت غیر مشروط طور پر سیاچن سے اپنی فوجیں نکال لے گا جیسا کہ دونوں ممالک کے درمیان 1989 میں ہونے والے معاہدے میں طے پایا تھا۔ترجمان کے مطابق اگر بھارت سیاچن سے اپنی فوجیں نکال لے تو سیاچن خود بخود امن کا پہاڑ بن جائے گا۔

ترجمان سے جب بھارتی وزیر اعظم کے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا جس میں انہوں نے پاکستان کے شمالی علاقے بلتستان کو بھی متنازعہ قرار دیا تھا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا تو موقف ہی یہ ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات کو اقوام متحدہ کے ذریعے رائے شماری کے مطابق حل کرنا چاہئے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت اب تک بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو اپنی سرزمین قرار دیتا رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اگر بھارت جموں اور کشمیر کے تمام علاقے کو متنازعہ تسلیم کرنے پر راضی ہو جائے تو یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جا سکتا ہے۔

ترجمان نے سابق امریکی سفیر بلیک ول کے اس بیان کو غیر حقیقی قرار دیا جس میں سابق امریکی سفیر نے کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کا واحد حل لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد بنانا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ سابق امریکی سفیر کو کشمریوں کی خواہشات کا احترام کرنا چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ اگر لائن آف کنٹرول کو ہی مستقل سرحد تسلیم کرنا ہے تو پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا کوئی تنازعہ نہ ہوتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد