سر کریک مذاکرات: پہلا دور مکمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان سرکریک کی سمندری کھاڑی کے تنازعے کے حل کے لیے دو روزہ مذاکرات کا پہلا دور سنیچر کے روز راولپنڈی میں مکمل ہوگیا۔ بھارتی وفد کی قیادت سرویئر جنرل، میجر جنرل گوپال راؤ نے جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت وزارت دفاع کے ایڈیشنل سیکریٹری ریئر ایڈمرل احسان الحق چودھری کر رہے ہیں۔ پہلے روز کی بات چیت کے بارے میں جاری ہونے والے بیان میں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ سروے کے بارے میں انیس سو چوبیس میں لگائے گئے ستونوں کی پوزیشن کے بارے میں جائزہ پیش کیا۔ سنیچر کے روز دونوں وفود میں خلاف توقع طویل بات چیت کا دور ہوا لیکن اس کی وجہ حکام کے مطابق پیچیدہ فنی نوعیت کی معلومات کو سمجھنا تھا۔ دونوں وفود غیر رسمی بات چیت رات کو کھانے کی میز پر بھی جاری رکھیں گے۔ دو روزہ ان مزاکرات کا حتمی دور اتوار کے روز ہوگا جس کے بعد مشترکہ بیان بھی جاری کیا جائے گا۔ سیاچین گلیشیر اور سرکریک کے متنازعہ معاملات پر بات چیت کے لیے بھارت کا وفد پچیس مئی کی شب پاکستان پہنچا تھا۔ سیاچین کے بارے میں دو روزہ مذاکرات میں جو جمعہ کے روز اختتام پذیر ہوئے کوئی بڑی پیش رفت تو نہیں ہوسکی البتہ دونوں ممالک نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ سیاچین کی نسبت ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان سرکریک کے بارے میں خاصی پیش رفت دیکھی گئی ہے اور سنیچر سے شروع ہونے والےمذاکرات میں بھی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ شاید مزید پیش رفت ہوگی۔ دو روزہ مذاکرات کے پہلے دن دونوں ممالک کے نمائندے گزشتہ جنوری میں کیے گئے مشترکہ سروے کے تناظر میں تبادلہ خیال کریں گے۔ سرکریک کے علاقے میں سرحدی برجیاں لگانے کے لیے دونوں ممالک نے اس سال جنوری کے پہلے ہفتے میں ایک مشترکہ سروے کیا تھا جس کو مقررہ وقت سے پہلے ہی مکمل کر لیا گیا تھا۔ سرکریک کا علاقہ بھارتی علاقے رن آف کچھ سے پاکستان کے صوبہ سندھ تک پھیلا ہوا ہے اور اس کی لمبائی ساٹھ میل ہے۔ اس علاقے کا تنازعہ 1960 کی دہائی میں سامنے آیا۔ 1969 سے اب تک اس مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے سات دور ہوچکے ہیں مگر اس علاقے کی ملکیت کا تنازعہ حل نہیں ہو سکا۔ کچھ دفاعی مبصرین کی رائے ہے کہ سر کریک کی دفاعی اعتبار سے اہمیت اپنی جگہ لیکن تنازعے کی وجہ اس علاقے میں پا ئے جانے والے تیل اور گیس کے ذخائر بھی ہیں۔ مہمان وفد نے پاکستان کے سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طارق وسیم غازی سے بھی ملاقات کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||