سر کریک مذاکرات بھی بے نتیجہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے فوجی حکام کے درمیان سر کریک کے مسئلے پر بات چیت بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی ہے۔ دو روزہ بات چیت کے اختتام کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات چیت مفید رہی اور اس بات چیت کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا جائے گا تاکہ اس مسئلے کا ایسا حل تلاش کیا جائے جو دونوں ممالک کے باہمی مفاد میں ہو۔ ان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی نمائندگی وزارت دفاع کے ایڈیشنل سیکریٹری احسان الحق چوہدری جبکہ بھارتی وفد کی نمائندگی ایڈیشنل سرویئر جنرل گوپال راؤ کر رہے تھے۔ یہ سرکریک پر دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت کا آٹھواں راؤنڈ تھا۔ سرکریک کے علاقے میں سرحدی برجیاں لگانے کے لئے دونوں ممالک نے اس سال جنوری کے پہلے ہفتے میں ایک مشترکہ سروے کیا تھا ۔ سرکریک کا علاقہ بھارتی علاقے رن آف کچھ سے پاکستان کے صوبہ سندھ تک پھیلا ہوا ہے جس کی لمبائی ساٹھ میل ہے۔ اس علاقے کا تنازعہ 1960 کی دہائی میں سامنے آیا۔ 1969 سے اب تک اس مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے سات راؤنڈ ہوئے ہیں مگر اس علاقے کی ملکیت کا تنازعہ حل نہیں ہو سکا۔ سر کریک کے تنازعے کی وجہ اس علاقے میں تیل اور گیس کے ذخائر ہیں اسی لئے اس سے دستبردار ہونے کے لئے نہ بھارت تیار ہے اور نہ پاکستان۔ دونوں ممالک کی حکومتیں اس علاقے میں مچھلیاں پکڑنے والے غریب مچھیروں کو بھی اکثر پکڑ لیتی ہیں۔ سرکریک سے پہلے دونوں ممالک کے حکام نے چھبیس اور ستائیس مئی کو سیاچن کے بارے میں مذاکرات کئے تھے۔ یہ مذاکرات بھی بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||