نصف صدی کا فلمی قصّہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سنیما کو ایک آرٹ کے طور پر جس کسمپرسی کا سامنا رہا ہے اس سے ہم سب بخوبی آگاہ ہیں۔ آرٹ کے سنجیدہ ناقدین نے کبھی اِس جانب توجہ نہیں کی اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے ابتدائی ایام سے قطع نظر، پاکستان سرکار نے ایک آرٹ تو کُجا، ایک صنعت کے طور پر بھی کبھی سنیما کی سرپرستی نہیں کی۔ اِن حالات میں محمد یاسین گوریجہ جیسے لوگوں کا وجود غنیمت تھا جو کسی ستائش کی تمنا یا صلے کی پرواہ کئے بغیر: یاسین گوریجہ کی یہ حکایات کراچی کے فلمی ہفت روزہ نگار میں باقاعدگی سے شائع ہوتی رہی تھیں اور بعد میں’ لکشمی چوک‘ نامی کتاب میں مرتّب بھی کر دی گئیں۔ جو کالم انھوں نے بعد میں لکھے وہ ایک نئی کتاب’ رائل پارک‘ میں جمع کر دیئے گئے ہیں اور ترتیب و اشاعت کا یہ سارا بار طفیل اختر کے توانا کاندھوں پر ہے، جنھیں ٹھیک ایک برس پہلے اس عظیم ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑا جب یاسین گوریجہ اچانک ہمیں داغِ مفارقت دےگئے۔
یاسین گوریجہ کی سب سے بڑی خدمت فلم ڈائریکٹری کا اجراء تھا جو پاکستان میں سنیما کی اِئر بُک کے طور پر چالیس سال سے استعمال ہو رہی ہے۔ 1997 میں آزادی کی پچاس سالہ تقریبات کے موقعے پر انتہائی عجلت میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے پاکستانی سنیما پر جو پہلی انگریزی کتاب شائع کی تھی اسکا بیشتر مواد بھی یاسین گوریجہ کی ڈائریکٹری سے لیا گیا تھا۔ پاکستانی سنیما کے اس واحد وقائع نگار کا وہ بہت سا کام جو انکی زندگی میں مرتب نہ ہوسکا، اب اُن کےجانشین طفیل اختر کی بدولت زیورِ طبع سے آراستہ ہو رہا ہے۔ اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی’پاکستانی سنیما کی آدھی صدی‘ ہے۔ کتاب کا انتساب پڑھ کر مرتبین کے خلوصِ نیت اور دردمندی کا جو تاثر ابھرتاہے، کتاب کے مندرجات اسے بھرپور طور پر سامنے لاتے ہیں۔ ’ناظرین کے نام، جو دور دراز گھروں سے چلے، سنیما کے باہر کھڑکیوں کے سامنے بارش میں بھیگے، دھوپ میں جلے اور جوق در جوق خون پسینے کی کمائی سے ٹکٹ خرید کر پاکستانی سنیما کی تعمیر و ترقی اور ہنر کاروں اور فنکاروں کی شان و شوکت بنانے اور بڑھانے کا ہمیشہ موجب بنے‘۔
پاکستانی سنیما کی پچاس سالہ تاریخ کو مصنف نے دس دس برس کے پانچ حصّوں میں تقسیم کیا تھا جو کہ 1947 سے 1997 کا احاطہ کرتے تھے۔ 26 دسمبر 2005 کو مصنف کی ناگہانی موت کے وقت اس کتاب کا مسودہ اشاعت کے لئے تیار تھا جسے اب کچھ اضافے کے ساتھ ُمّرتِب نے شائع کر دیا ہے۔ یہ اضافہ دراصل 1997 سے (جون) 2006 تک کی پاکستانی فلموں کی فہرست ہے، جنھیں سال بہ سال ترتیب میں شائع کردیا گیا ہے۔ مصنف نے ہر عشرے کی ابتداء اُس دس سالہ دور پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر کی ہے اور اس دہائی کے عمومی رجحانات کا جائزہ لیا ہے، بعد میں اس اجمال کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔
نصف صدی کے اس عرصے میں چونکہ مصنّف خود بھی ایک فعّال کردار کے طور پر منظر میں موجود رہے ہیں اس لئے کئی اہم مقامات پر وہ براہِ راست قاری سے مخاطب ہو کر بیانئیے کو ذاتی تجربے کی شکل میں اُس تک پہنچاتے ہیں۔ 2007 میں پاکستان کی فلمی صنعت ساٹھ برس کی پُختہ عمر کو پہنچ چکی ہے۔ مُرتبین سے توقع کرنی چاہیئے کہ کتاب کے اگلے ایڈیشن میں اس آخری دہائی کو بھی باقاعدہ ایک باب کے طور پر شامل کیا جائے گا اور اِس عشرے کے فلمی رجحانات کی بھی واضح نشان دہی کی جائے گی۔ | اسی بارے میں فِلمی صحافت کے گمنام سپاہی11 March, 2006 | فن فنکار 1979 فلمی صنعت کا تاریخ ساز سال31 March, 2006 | فن فنکار پاکستانی فلموں کا ’دورِ سلطانی‘ 06 April, 2006 | فن فنکار پاکستانی فلم: بیسویں صدی تک08 May, 2006 | فن فنکار ’آوارہ‘ دنیا کی مقبول ترین فلم؟07 October, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||