کراچی: پاکستانی سنیما کی نئی اُمید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اُردو اور ہندی کی سب سے زیادہ فلمیں چونکہ ممبئی میں بنتی ہیں اس لیے کہانیوں میں ممبئی کاشہر ہی پس منظر میں ہوتا ہے۔ ساٹھ ستّر برس پہلے یہ اعزاز کلکتے کو بھی حاصل تھا لیکن بعد میں وہ محض بنگالی فلموں کا مرکز بن کے رہ گیا۔ بہت مختصر سے عرصے کے لیے پاکستان کی اُردو فلموں کا مرکز ڈھاکہ بھی بنا لیکن اس سے کہیں زیادہ طویل دورانیے کے لیے کراچی کو اُردو فلموں کے پس منظری شہر کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ سن ساٹھ کا عشرہ کراچی کےلیے بہت ساز گار ثابت ہوا جب محمد علی، زیبا، دیبا، جمیلہ رزاق، کمال ایرانی، سکندر، جعفری، لہری اور نرالا جیسے اداکار اس سرزمین سے اُبھرے۔ بعد میں ممبئی سے کمال بھی آگئے اور یوں کراچی میں اُردو فلموں کا ایک سنہری دور شروع ہوگیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک ایک کر کے یہ تمام اداکار بعد میں لاہور منتقل ہوگئے جو کہ فلم سازی کا قدیم مرکز تھا اور جہاں 1924 سے باقاعدہ فلم سازی ہو رہی تھی۔ پاکستان میں ممبئی کا قریب ترین متبادل شہر کراچی ہے جو کہ ممبئی کی طرح ایک بندرگاہ ہےاور ملک کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بھی ہے۔ یہ تمام بڑے بڑے کاروباری اور تجارتی اداروں کا گڑھ ہے اور پاکستان کا ایک چوتھائی کاروبار صرف شہر کراچی میں ہوتا ہے۔ ساحلی شہر ہونے کے باعث اس کی آب و ہوا بھی ممبئی جیسی ہے اور آبادی میں بھی یہ عرصہ ہوا ایک کروڑ کے ہندسے کو پار کر چکا ہے۔
لیکن کراچی ایک بات میں ممبئی سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ یہاں فلمی صنعت نہیں پنپ سکی۔ اِس کے برعکس ٹیلی ویژن پروگراموں کی پروڈکشن میں یہ شہر پیش پیش رہا ہے اور اس وقت پاکستان میں ٹیلی ویژن کے اسّی فیصد پروگرام کراچی میں تیار ہورہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں کراچی ایک بار پھر فلم سازی کا بہت بڑا مرکز بن جائے گا کیونکہ لاہوری طرز کی فلموں کا زمانہ اب ختم ہوتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ سالِ گزشتہ کے دوران لاہور میں تیار ہونے والی 23 فلموں میں سے 22 بُری طرح فلاپ ہوگئیں جبکہ کراچی میں تیار ہونے والی ٹیلی فلمیں اور دیگر ٹیلی ویژن پروگرام انتہائی کامیاب رہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی فلمی صنعت کو سہارا دینے کےلئے کراچی ایک اہم کردار ادا کرے گا اور گھسی پٹی ڈگر سے ہٹ کر فلمیں بنانے میں کراچی والے پہل کریں گے۔ چونکہ ٹیلی فلموں کے ذریعے تازہ فکر نوجوانوں کی ایک کھیپ منظرِعام پر آچکی ہے اور کراچی جیسے شہر میں سرمائے کی بھی کمی نہیں اس لئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس برس کے دوران کراچی سے کچھ اچھی فلمیں نکلیں گی۔
کراچی کے جواں سال رائیٹر اور ڈائریکٹر احتشام الدین نے ’شاہ رُخ خان کی موت‘ جیسی ٹیلی فلم بنا کر ثابت کردیا ہے کہ شہر کراچی میں کہانی کاری اور ہدایت کاری سے لے کر اداکاری تک ہر شعبۂ فن میں بہترین کارکن موجود ہیں۔ ٹی۔وی کےلئے کئی عمدہ کھیل تیار کرنے والی مہرین جبّار نے آج کل کراچی میں ایک فیچر فلم پرکام شروع کر رکھا ہے۔ اسی طرح اشتہار سازی اور میوزیک وِڈیو میں نام پیدا کرنے کے بعد کراچی کے پروڈیوسر ثاقب ملک نے بھی ایک فیچر فلم شروع کر رکھی ہے۔ کارا فلم فیسٹیول کے روح و رواں اور ’رات چلی ہے جھوم کے‘ جیسی کامیاب ٹیلی فلم کے ہدایت کار حسن زیدی بھی اب کراچی میں اپنی فلم کا آغاز کر رہے ہیں۔ عائشہ خان نامی ایک نئی پروڈیوسر جو ابھی ابھی امریکہ سے پاکستان منتقل ہوئی ہیں، آج کل کراچی میں اپنی فیچر فلم کی کاغذی تیاریاں مکمل کر رہی ہیں۔ ٹیلی فلم ’دنیا گول ہےٰ‘ کی پروڈیوسر امبر رحیم اور ٹیلی فلموں کے نامور پروڈیوسر، اداکار ہمایوں سعید بھی اب فیچر فلم کی طرف گامزن ہیں۔ اس سلسے میں دلچسپ ترین خبر ایک ’ہولناک‘ فلم کے بارے میں ہے۔ آج سے چالیس برس پہلے پاکستان میں پہلی ہارر فلم ’زندہ لاش‘ بنی تھی۔ شاید اپنے وقت سے پہلے بننے کے باعث یہ فلم گمنام رہ گئی اور اسے وہ مقام حاصل نہ ہوسکا جس کی وہ حقدار تھی۔
چند برس پہلے پاکستانی فلموں میں گہری دلچسپی رکھنے والے ایک شہری، عمر اے خان نے اس فلم کے حقوق حاصل کیے اور اسے انگریزی ترجمے کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں پیش کیا۔ یہ ایک خراجِ عقیدت تھا پاکستان کی پہلی ہولناک فلم کو، کیمرہ مین نبی احمد اور رضا میر کو اور مرکزی کردار ادا کرنے والے کریکٹر ایکٹر ریحان کو۔ آج کی نشست میں عمر اے خان کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ انھوں نے اب کراچی میں فلم سازی کا آغازکر دیا ہے اور شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ ایک ایسی فلم بنا رہے ہیں جس سے ہال میں بیٹھے ہوئے ناظرین فرطِ اضطراب سے کروٹیں بدلتے رہیں گے اور اگلے لمحے پیش آنے والی ہولناک صورتِ حال کے تصور سے تھر تھر کانپتے رہیں گے۔ پاکستان کی ساٹھ سالہ فلمی تاریخ میں یہ صرف تیسری ہارر فلم ہوگی اور گزشتہ چالیس سال کے دوران بننے والی واحد ہارر فلم۔ یوں چار عشروں کے بعد ایک ہولناک فلم بنانے کا اعزاز بھی کراچی ہی کو حاصل ہو رہا ہے۔ اِس صورتِ حال کا موازنہ حیدرآباد دکن میں فلم سازی کی نئی لہر کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ عرصۂ دراز تک ممبئی کو ہر فلم کے پس منظر میں دیکھنے کے بعد ناظرین کو اُس وقت ایک بریک ملی جب انھیں ’کلکتہ میل‘ میں ہاوڑا پُل اور دریائے ہُگلی کے مناظر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔
اس تجربے کی راہ اصل میں ’حیدر آباد بلوز‘ نے ہموار کی تھی۔ ناگیش کُکو نور کی یہ فلم منظرِ عام پر آئی تو فلم بین طبقے کو گویا تازہ ہوا کا ایک جھونکا محسوس ہوا۔ گیٹ وے آف انڈیا کی جگہ چار مینار کا منظر یقیناً ایک خوشگوار تبدیلی تھی لیکن اصل فرق اس زبان اور کلچر سے پیدا ہوا جس کی نمائندگی اس حیدر آبادی فلم میں کی گئی تھی۔ بھگارے بینگن کی طرح حیدرآبادی چُٹکلے بھی اپنا خاص لطف رکھتے ہیں۔ اسی لیے فلم بینوں نے معروف اداکاروں کی عدم موجودگی میں بھی اِس فلم کو پسند کیا۔ کراچی میں فلمیں شروع کرنے والے نوجوانوں کے لئے یہ مثال مشعلِ راہ ثابت ہونی چاہیئے اور انھیں بھی کراچی کی ثقافت کے دلچسپ پہلوؤں کو اپنی فلموں کے ذریعے منظرِعام پر لانا چاہیئے۔ | اسی بارے میں مشترکہ فلم سازی، مگر کس کے ساتھ؟22 December, 2006 | فن فنکار ’پڑھی لکھی‘ فلمی صنعت17 December, 2006 | فن فنکار لالی وڈ: لائٹس آف اور کسمپرسی22 August, 2006 | فن فنکار پاکستانی فلم نئی صدی کی دہلیز پر18 May, 2006 | فن فنکار پاکستانی فلم: بیسویں صدی تک08 May, 2006 | فن فنکار پاکستانی فلموں کا ’دورِ سلطانی‘ 06 April, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||