’پڑھی لکھی‘ فلمی صنعت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں شرح خواندگی میں اضافے کے لیئے جس قدر سنجیدہ کوششیں صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں ہو رہی ہیں شاید پہلے کبھی نہ ہوئی ہوں۔ اس کی ایک واضح مثال اراکین اسمبلی کے لیئے گریجویشن کی شرط ہے۔ اس حوالے سے کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں برتی گئی اور یہاں تک کہ عابدہ حسین جیسی سینیئر سیاستدان کوبھی اپنے ایام بزرگی میں کمرہ امتحان دیکھنا پڑا۔ اس سے قبل صدرضیاء نے تعلیم بالغاں اور مسجد مکتب کے نام سے تعلیمی پروگرام تو شروع کیئے مگر انہیں وہ رسپانس نہ مل سکا جو صدر پرویز مشرف کو مل رہا ہے۔ صدر مشرف کے وزیر تعلیم جاوید اشرف قاضی تعلیم کوعام کرنے کے لیئے جتنی زیادہ محنت کر رہے ہیں اس کا اندازہ ان کے اس بیان سے بخوبی ہو جاتا ہے جو انہوں نے ٹی وی چینل اے آر وائی کے ایک پروگرام میں دیا کہ’ سکول کے بچوں کو نصاب میں قرآن پاک کے پورے چالیس سپارے پڑھائے جائیں گے‘۔ خیر یہ تو جملۂ معترضہ ہے۔ بات ہو رہی تھی کہ پاکستان میں موجودہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیئے کس قدر سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ اسمبلی کو گریجویٹ بنانے کے بعد اب حکومت نے وزارت ثقافت کو یہ کام سونپا ہے کہ فلم انڈسٹری کو انٹرمیڈیٹ بنایا جائے۔ اس حوالے سے وزارت ثقافت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تمام فلم ڈائریکٹرز فوری طورپر اپنی رجسٹریشن کرائیں جس کے لیئے انٹرمیڈیٹ بنیادی شرط ہے البتہ جو ڈائریکٹر کام کر رہے ہیں اور ان کی تعلیم انٹرمیڈیٹ نہیں ہے انہیں تین سال کی چھوٹ دی گئی ہے۔ رجسٹریشن کے لیئے پانچ ہزار روپے فیس رکھی گئی ہے۔
وزارت ثقافت کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے بعد فلم ڈائریکٹرز تین حصوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ ڈائریکٹرز کے ایک گروپ نے جس میں سید نوراور عجب گل وغیرہ پیش پیش ہیں، رجسٹریشن کے فیصلے کا زبردست خیرمقدم کیا ہے اوراسے فلم انڈسٹری کے لیئے انتہائی مفید قرار دیاہے اور کہا ہے کہ ہم رجسٹریشن کرا رہے ہیں۔ ڈائریکٹرز کے دوسرےگروپ جس میں الطاف حسین پیش پیش ہیں نے اس فیصلے کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم رجسٹریشن کے لیئے درخواست نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ’ایشیا کی سب سے بڑی فلم’مغل اعظم‘ بنانے والے کے آصف میٹرک فیل تھے، محبوب صاحب جنہیں بھارت کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا، پڑھے لکھے نہیں تھے جبکہ شانتا رام میٹرک پاس تھے اور اے آر کاردار مڈل پاس بھی نہیں تھے۔ ان لوگوں نے بڑی بڑی فلمیں بنائیں لہذا ڈائریکشن کے لیے ایف اے یا بی اے کی ضرورت نہیں‘۔ ڈائریکٹرز کا تیسرا گروپ جس کی قیادت اسلم ڈار کر رہے ہیں رجسٹریشن کے خلاف خاموش احتجاج کر رہا ہے۔ اس گروپ نے فیصلے کی حمایت کی ہے اور ساتھ ایف اے والی شرط سے سینیئر ڈائریکٹرز کو استشٰنی دینے کی درخواست کی ہے۔ ادھر فلم سنسر بورڈ کے سیکرٹری خالد بٹ نے اعلان کیا ہے کہ اب وہ کسی غیر رجسٹرڈ ڈائریکٹر کی فلم پاس نہیں کریں گے۔ یاد رہے اس وقت نو فلمیں ایسی بن رہی ہیں جن کی ریلیز عید پر کرنے کے اعلانات کیئے گئے ہیں۔ موجودہ حکومت اسمبلی کو تو گریجوایٹ بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ اس سے حقیقی فائدہے کیا ہوا یہ الگ بحث ہے تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ فلم انڈسٹری کو انٹرمیڈیٹ بنانے میں کامیاب ہو سکے گی اور کیا اسلم ڈار‘پرویز رانا‘یونس ملک اور الطاف حسین جیسے بزرگ ڈائریکٹرز عابدہ حسین کی طرح کمرہ امتحان تک جائیں گے؟ | اسی بارے میں پاکستانی فلم: بیسویں صدی تک08 May, 2006 | فن فنکار نعیم ہاشمی کی یاد میں25 April, 2006 | فن فنکار مغل اعظم کا لاہور میں پریمئر شو23 April, 2006 | فن فنکار مغلِ اعظم کا اصل المیہ21 October, 2006 | فن فنکار محبوب خان: ہندوستانی سنیما کا پہلا شومین22 August, 2006 | فن فنکار ڈوُما کے ناول پر پاکستانی فلم15 December, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||