BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 April, 2006, 18:00 GMT 23:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نعیم ہاشمی کی یاد میں

نعیم ہاشمی کو ہم سے جدا ہوئے آج پورے تیس برس ہو گئے ہیں
پاکستان میں کسی راہ چلتے آدمی سے سوال کیجئے کہ پچھلے پچاس برسوں کے دوران سب سے مقبول فلمی نعت کونسی رہی ہے۔
فوراً جواب ملے گا:
شاہِ مدینہ!
یثرب کے والی
سارے نبی تیرے در کے سوالی۔

لوگوں کی اکثریت کو اس نعت کی دُھن بھی یاد ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ یہ نعت اداکار نعیم ہاشمی کی لکھی ہوئی ہے۔

نعیم ہاشمی کو ہم سے جدا ہوئے آج پورے تیس برس ہو گئے ہیں۔ (وفات 27اپریل 1976 ) وہ ایک اداکار ہی نہیں، اعلٰی درجے کے قلمکار بھی تھے اور انھیں فلم کے کئی شعبوں میں اوّلیت کا شرف بھی حاصل ہوا لیکن قسمت نے کچھ مقامات پر اُن کا ساتھ نہ دیا اور اعزاز کسی اور کی جھولی میں جا گرا۔ مثلاً پاکستان کی سب سے پہلی فلم بھی دراصل نعیم ہاشمی نے پروڈیوس کی تھی جو کہ کشمیر کی تحریکِ آزادی کے بارے میں تھی لیکن ’انقلابِ کشمیر‘ نامی اِس فلم کا لاہور کے رٹز سینما میں ابھی پہلا ہی شو ہوا تھا کہ سیاسی وجوہ سے اِس کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی۔

نعیم ہاشمی اور محمد علی فلم انجان میں
یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ 1948 میں بننے والی مختصر دورانیئے کی اس فیچر فلم کے مقابل بھارت نے بھی ’انقلابِ کشمیر‘ نام کی ایک فلم پروڈیوس کی جو کہ 1949 میں نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ بھارتی فلم کا پرنٹ آج تک محفوظ ہے لیکن پاکستانی فلم کا ریکارڈ محض چند کاغذی دستاویزات کی شکل میں ہی باقی رہ گیا ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سردار ابراہیم جو بعد میں آزاد کشمیر کے صدر بنے اس فلم میں ایک اداکار کے طور پر نمودار ہوئے تھے۔

پاکستان کا قومی ترانہ تو 1954 میں تیار ہوا تھا لیکن اس سے پہلے چھ سات برس تک سنیما گھروں میں ایک اور ترانہ گونجا کرتا تھا جسکے بول تھے:

سلام اے قائدِاعظم تِری عظمت ہے پائندہ
ترا پرچم ہے تابندہ، ترا پیغام ہے زندہ

یہ مِلّی نغمہ نعیم ہاشمی نے اپنی فلم انقلابِ کشمیر کے لئے لکھا تھا اور اسے کسی مشہور سِنگر نے نہیں بلکہ اردو کے درویش صفت شاعر ساغر صدیقی نے گایا تھا۔

نعیم ہاشمی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد لاہور میں سب سے پہلا سٹیج ڈرامہ انھوں نے پیش کیا تھا۔ ’شادی‘ نام کا یہ ڈرامہ 1948 میں لاہور کے اوڈین سینما میں دکھایا گیا۔

 نعیم ہاشمی کی اداکاری کو آج کے جدید دور میں ایک اکیڈمی کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ ’بنارسی ٹھگ‘ نعیم ہاشمی کی آخری فلموں میں سے ایک ہے، وہ اس فلم میں سلطان راہی کے مقابل ولن تھے۔ اسی طرح اقبال کاشمیری کی فلم ’بابل‘ یا انور کمال پاشا کی پنجابی فلم ’پروہنا‘ کو نعیم ہاشمی کی پرانی فلموں کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو خود بخود پتہ چل جاتا ہے کہ وہ ایک مکمل ایکٹر تھے۔ بنیادی طور پر شاعر نعیم ہاشمی نے ہمیشہ قافیہ ردیف، لے اور سُر کے ساتھ ایکٹنگ کی، اسکی سب سے بڑی مثال خود ان کی موت ہے
منیر نیازی
نعیم ہاشمی کی ابتدائی فنّی تربیت کلکتہ میں ہوئی تھی جہاں 1946 میں اُن کی پہلی فلم ’چاندنی چوک‘ ریلیز ہوئی تھی۔ کلکتے اور بمبئی میں یہ ٹِیم ورک کا زمانہ تھا۔ جسطرح سن پچاس کے عشرے میں محبوب صاحب کے گِرد نوشاد، شکیل بدایونی، دلیپ کمار، محمد رفیع وغیرہ کی ٹِیم موجود تھی اور راج کپور کے حلقہ احباب میں خواجہ احمد عباس، نرگس، حسرت جے پوری اور شنکر جےکشن وغیرہ موجود تھے۔ اسی طرح کلکتے میں ٹھاکر ہِمت سنگھ نے اپنی ایک مضبوط ٹیم بنا رکھی تھی۔ اُن کے مستقل ہیرو سلیم رضا تھےجن کے ساتھ لچکیلے بدن اور تیکھی آنکھوں والی ایک رقاصہ ہیروئن کے طور پر نمودار ہوتی تھی۔ اس لڑکی کا نام ایریکا تھا۔ شاعر اور مصنّف سیف الدین سیف بھی ٹھاکر ہمت سنگھ کی ٹیم کا حصّہ تھے۔ انھی کے توسط سے ایک پنجابی نوجوان کلکتے تک پہنچا۔ ٹھاکر کو یہ لڑکا اتنا پسند آیا کہ انھوں نے اپنی فلموں کی مستقل جوڑی میں پہلی بار کچھ ردوبدل کی اور ایریکا کے ساتھ نووارد نعیم ہاشمی کو ہیرو بنادیا جبکہ سلیم رضا کو وِلّن کا کردار دیا گیا۔

یہاں یہ وضاحت مناسب ہوگی کہ اداکار سلیم رضا کا گلوکار سلیم رضا سے کوئی تعلق نہیں، یہ دو الگ الگ شخصیات تھیں۔ اداکارہ اور رقاصہ ایریکا بعد میں پاکستان آگئیں اور ’رخشی‘ کے نام سے مشہور ہوئیں۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں انھوں نے یہاں کی معروف ترین فلمی رقاصہ کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ ماشااللہ ابھی تک حیات ہیں اور لاہور میں رہتی ہیں۔

نعیم ہاشمی نے قیامِ پاکستان کے بعد لاہور آکر اداکار، فلم ساز و ہدایتکار نذیر کے ادارے میں کام شروع کر دیا۔ نذیر خود بھی فلم کے کئی شعبوں میں دسترس رکھتے تھے اور نعیم ہاشمی کی صلاحیتوں کے قائل تھے چنانچہ اس ادارے کے لئے نعیم ہاشمی نے خاتون، نوراسلام، شمع اور عظمتِ اسلام جیسی فلمیں تحریر کیں اور جہاں جہاں موقع ملا اپنی اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔

پرویز مہدیپرویز مہدی چل بسے
مہدی حسن کے پہلے اعلانیہ شاگرد چل بسے
کرسٹوفر ریوسپرمین کی یادیں
سپرمین 52 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
امریش پوری گزر گئے
بالی وڈ کا ایک لازوال ’ولن‘ اور بہترین ایکٹر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد