محبوب خان: ہندوستانی سنیما کا پہلا شومین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محبوب خان کو لوگ اکثر ہندوستانی سنیما کا سِسل بی ڈی مل کہتے ہیں۔ اِس کی سب سے بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ محبوب خان نے سِسل بی ڈی مل کی ہی طرح اپنی فلموں میں ’سپیکٹکل‘ کو نہ صرف خاص اہمیت دی بلکہ اسے ہندوستانی سنیما کا ایک اہم جُز بنایا۔ اِس بات کی اہمیت اس وقت سامنے آئی جب ہندوستانی سنیما کلر فوٹوگرافی کے سہارے سٹوڈیو سے باہر نکلا۔ جس نے بھی ہندوستانی سنیما کی گولڈن ایج کی فلمیں دیکھی ہوں وہ شاید ہی محبوب پروڈکشنز کے’ لوگو‘ کو بھول پائے۔ کمیونسٹ تحریک کے نشان ’ہیمر اور سکل‘ کے ساتھ رفیق غزنوی کی پُر اثر آواز میں آغا حشر کاشمیری کا یہ شعر کہ ’ مدعی لاکھ بُرا چاہے تو کیا ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے‘۔ محبوب خان کی فلموں کے ذریعے یہ شعر پورے ہندوستان میں مقبول ہوا۔ محبوب خان ایک ایسی اِنڈسٹری میں جہاں مذہب میں یقین رکھنے والوں کی تعداد زیادہ نہ تھی ہمیشہ پانچ وقت کی نماز کے پابند رہے۔ لیکن مذہب کے بارے میں ان کا نظریہ بہت منفرد تھا اور وہ اپنے مذہبی عقائد کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ تحریک میں بھی یقین رکھتے تھے۔ لیکن وجہ چاہے جو بھی رہی ہو وہ اِنڈسٹری کے سب سے مذہب پرست ڈائریکٹرز میں سے تھے۔ روزہ ہو یا نماز، وہ ہمیشہ بنیادی اِسلامی اصولوں کے تو پابند رہے لیکن انہوں نے اِسلام کو اپنی ذاتی اور سیاسی زندگی سے دور رکھا۔
اُنہیں حکومت پاکستان نے 1948 میں لاہور میں ایک بڑا سٹوڈیو آفر کیا تھا جو اُنہوں نے اُس وقت ٹھکرا دیا جب اُردو کے بڑے فلسفی مصنفین پاکستان کا رُخ کر رہے تھے۔ محبوب خان 1907 میں بلی موریا، گجرات میں پیدا ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ بمبئی آئے اس وقت اُن کی جیب میں صرف تین روپے تھے اور وہ گجراتی زبان کے سوا کوئی اور زبان نہیں بول سکتے تھے۔ یہ وہی محبوب خان تھے جنہوں نے اپنے کیرئر میں 25 فلمیں ڈائریکٹ کیں۔ شاید ہی کوئی فلم بین ہو جس نے محبوب خان کی ’مدر اِنڈیا‘ یا ’انداز‘ کا نام نہ سنا ہو۔ اُن کی باقی فلموں میں ’امر‘ ، ’آن‘ اور ’روٹی‘ قابل ذکر ہیں۔ اُنہوں نے نرگس، شیخ مختار، نادرا اور سریندر ناتھ جیسے ادا کاروں کو پہلا موقع دیا- 1943 میں اُنہوں نے اداکارہ جڈن بائی کی بیٹی نرگس کو اداکارہ کے طور پہ فلم ’تقدیر‘ میں پہلی مرتبہ کاسٹ کیا اور اس وقت نرگس کی عمر صرف 14 سال تھی۔ محبوب خان کا فلمی سفر بحیثیت ’ایکسٹرا‘ ارد شیر ایرانی کے اِمپیرئل سٹوڈیو سے شروع ہوا جہاں اُنہیں تیس روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا گیا تھا۔ اُنہو ں نے کافی فلموں میں بحیثیت’ایکسٹرا‘ کام کیا۔ یہاں پر ایک بار کامیابی اس وقت ان کے قدم چومتے چومتے رہ گئی جب وہ ہندوستان کی پہلی بولتی فلم ’عالم آراء‘ کے ہیرو بنتے بنتے رہ گئے۔ 1931 میں محبوب خان اور اُن کے کئی دوستوں نے ساگر مووی ٹونز میں ملازمت اِختیار کی اور یہیں سے اُن کی کامیابی کا سفر بھی شروع ہوا۔ اُن کا لکھا ہوا ایک سکرپٹ ساگر مووی ٹونز کے مالکان کو اِتنا پسند آیا کہ یہاں اُنہیں اپنی پہلی فلم بنانے کا موقع ملا جس کا نام تھا الەلال‘۔ اِس فلم کا انگریزی ٹائٹل تھا ’ججمنٹ آف اللہ‘۔ 1935 میں بننے والی اِس فلم کے بعد محبوب خا ن نے اگلے دس سال سے بھی زیادہ عرصے تک جو فلم بنائی وہ کامیاب رہی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے ہندوستانی سنیما دیکھنے والوں کی نبض پکڑ لی ہو۔ اُنہیں جتنی عزت بابو لال مہتا جیسے بڑے فلم ڈسٹری بیوٹر سے ملی، اِتنی ہی اُس زمانے کے مشہور فلمی ناقد بابو راؤ پینٹر سے بھی ملی۔
اپنی کامیابی کی منزل پر پہنچتے ہی محبوب خان نے وہ فلم بنائی جس میں کئی سال پہلے اُنہوں نے’ایکسٹرا‘ کا کردار ادا کیا تھا اور وہ تھی اُن کی فلم ’علی با با اور چالیس چور‘۔ اِسی فلم کے دوران وہ ادا کارہ سردار اختر کے کافی قریب آ گئے اور یہ قربت شادی پر منتج ہوئی۔ اِس کے بعد اُنہوں نے اپنے کیرئر کی دو اہم فلمیں بنائیں اور وہ تھیں ’نجمہ‘ اور ’عورت‘ جو دونوں بہت کامیاب رہیں۔ 1940 میں بننے والی فلم ’عورت‘ کا ری میک 1957 میں محبوب خان مدر انڈیا کی شکل میں بنایا جس میں سردار اختر کی جگہ نرگس کو کاسٹ کیا گیا۔ یہ فلم نە صرف ہندوستانی سنیما کی بہترین فلموں میں سے ایک مانی جاتی ہے بلکە اسے آسکر کے لئے بهی نامزد کیا گیا۔ محبوب خان کی فلموں میں جہاں ہر کوئی ’مدر انڈیا‘ کا تذکرہ کرتا ہے وہیں اُن کی بقیہ فلموں کا ذکر کم ہوتا ہے جبکہ ان کی فلمیں’نجمہ‘ اور ’ہمایوں‘ اپنے زمانے کی کافی بڑی اور ہِٹ فلمیں تصور کی جاتی ہیں۔ محبوب خان نے اپنے کیرئر کی سب سے بہترین فلمیں دلیپ کمار کے ساتھ بنائیں اور وہ تھیں ’ آن‘، ’امر‘ اور ’انداز‘ اور شاید’ انداز‘ کو آج بھی رومانوی سپیکٹکل میں ہندوستانی سنیما کی سب سے اچھی فلم کہا جا سکتا ہے۔ ’انداز‘ محبوب خان کی سب سے بڑی فلموں میں سے ایک ہے۔ اِس فلم کے لیئے محبُوب خان نے سب سے پہلے نرگس کو چنا جنہوں نے راج کپور کا نام تجویز کیا۔ اِس فلم میں پشاور میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے والے دو اداکار دلیپ کمار اور راج کپور آمنے سامنے تھے اور یہ فلم باکس آفس پہ کافی بڑی ہٹ ثابت ہوئی۔ ’انداز‘ بمبئی کے لبرٹی سنیما میں چلنے والی پہلی فلم تھی۔ ’ آن‘ کو بھلے ہی فلمی ناقدین نے پسند نہ کیا ہو پھر بھی یہ ایک ہٹ فلم رہی۔اِس فلم کی خاص بات یہ رہی کہ یہ نہ صرف لندن میں ریلیز ہوئی بلکہ پورے بارہ ہفتے تک چلی۔ اِس فلم میں محبوب خان نے بمبئی کی ایک یہودی لڑکی نادرا کو پیش کیا۔ فلم میں اداکارہ وحیدن کی بیٹی اور اداکارہ نمی نے بھی اہم کردار ادا کیئے۔ ’امر‘ اچھے تبصروں کے باوجود بھی کامیاب نہ ہو سکی جس کی بنیادی وجہ تھی کہانی کی پیچیدگی۔ اس کے علاوہ اِس فلم کی ناکامی کا سبب اِس فلم میں مشہور فلم سٹار دلیپ کمار کو ایک منفی کردار میں دکھایا جانا بھی تھا۔ فلم کے کرداروں کی نفسیاتی کشمکش فلمی ناقدین کو تو کافی پسند آئی لیکن لوگوں نے اِس فلم کو پسند نہیں کیا۔ اِس کے بعد محبوب خان نے صرف ’مدر اِنڈیا‘ اور ’سن آف اِنڈیا‘ بنائیں۔ ’مدر اِنڈیا‘ جتنی کامیاب رہی، ’سن آف اِنڈیا‘ اُتنی ہی ناکام۔ ’سن آف اِنڈیا‘ کی تکمیل تک محبوب خان کی صحت کافی بگڑ چکی تھی۔ 28 مئی 1964 کو محبوب خان کا اِنتقال پنڈت نہرو کے انتقا ل کے چند گھنٹوں بعد ہوا۔ یہ وہی پنڈت نہرو تھے جن کے بارے میں محبوب نے کہا تھا کہ’نہرو، تو میرا محبوب ہے، تو زندہ ہے تو میں زندہ ہوں‘۔ محبوب خان کا سنیما ہندوستان میں نہرو دور کی ہی کشمکشوں اور جذبوں کی عکاسی کرتا رہا۔ محبوب واقعی ایک سنجیدہ فلم میکر سے پہلے ایک شو مین تھے، ہندوستانی سنیما کے پہلے شومین، جو محض تین روپے لےکر بمبئی آئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||