مغلِ اعظم کا اصل المیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلم مغلِ اعظم کا شہرہ یوں تو نصف صدی سے جاری ہے۔ یہ واحد فلم تھی جسکے ریلیز ہونے سے برسوں پہلے ہی اسکے قصّے زبان زدِ خاص و عام ہو گئے تھے۔ ریلیز ہونے پر اسکی شہرت نے ساری فلم انڈسٹری کو چکا چوند کردیا اور آج چھیالیس برس بعد بھی یہ فلم خبروں میں موجود ہے: کبھی رنگین پرنٹ بننے کے باعث، کبھی لندن میں خصوصی تقریب کے بہانے اور کبھی دلیپ کمار کے متنازعہ بیانات کے حوالے سے۔ اب اس فلم کے تاجِ شہرت میں ایک نیا پر یہ بھی لگ گیا ہے کہ اسکے مکالمات کئی زبانوں میں ایک کتابی شکل میں شائع ہوگئے ہیں۔ یہ بات تو کسی سے بھی پوشیدہ نہیں کہ مغلِ اعظم دراصل ' انارکلی' کی داستان ہے۔اُردو کے اس معروف ترین ڈرامے کو اگرچہ ایک کنیز کا المیہ سمجھا جاتا ہے جو ولی عہدِ سلطنتِ ہند کی جیون ساتھی نہ بن سکی اور درباری سازشوں سے متاثر ہو کر اکبرِ اعظم نے اسے دیوار میں زندہ چُنوا دیا۔ کچھ لوگ اسے شہزادہ سلیم (جہانگیر) کا المیہ بھی قرار دیتے ہیں جو اپنی کمزور شخصیت اور اکبرِاعظم کے دبدبے کے باعث اپنی محبوبہ تک رسائی حاصل نہ کر سکا۔ اُردو کے اس سدا بہار کھیل کو خود اکبرِ اعظم کا المیہ بھی قرار دیا جاتا ہے جو اپنے حرم کی ایک لونڈی کے ساتھ اپنے لختِ جگر کا مستقبل وابستہ ہوتے نہیں دیکھ سکتا کیونکہ منتّوں مرادوں سے حاصل کیا ہوا وہ بیٹا تخت و تاجِ ہند کا واحد وارث بھی ہے۔۔۔ اسی موازنے کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کھیل کو دِلارام کا المیہ بھی قرار دیا جاتا ہے جو شہزادہ سلیم سے محبت کرتی ہے اور شاید عمر بھر اس محبت کو دِل میں دبائے رکھنے کا حوصلہ اور صبر بھی اُس میں موجود ہے لیکن جب اُسی حرم کی ایک اور کنیز انار کلی شہزادے سے اپنی محبت کا اظہار کر سکتی ہے تو دِلارام اس درد کو ساری عمر سینے میں سمیٹے رکھنے پر کیوں مجبور ہو؟ یہ سب دلائل اپنی اپنی جگہ درست سہی لیکن دیکھا جائے تو آج انارکلی کا ڈرامہ خود اپنے مصنّف امتیاز علی تاج کا المیہ بن کے رہ گیا ہے۔
امتیاز علی تاج اردو کے معروف انشاء پرداز مولوی ممتاز علی کے بیٹے تھے اور والد صاحب کی سرپرستی میں عربی فارسی اور اُردو سے انھوں نے نوجوانی ہی میں گہری شناسائی حاصل کر لی تھی۔ لاہور کے دو تاریخ نویسوں ایس لطیف اور کنھیالال نے 1890 کی دہائی میں اس داستان کا ذکر اپنی تحریروں میں کیا تھا۔ لاہور کے سِول سیکرٹیریٹ کی عمارت میں انار کلی کی مبیّنہ قبر بھی موجود ہے جس پر لگی تختی کے ذریعے یہ داستان خاص و عام میں مقبول ہوئی۔ امتیاز علی تاج نے اپنی نوجوانی میں اِن تمام نشانیوں سے اثر لیا ہوگا اور آہستہ آہستہ 1599 کے لاہور دربار کو اپنے ذہن میں پوری طرح آراستہ کر لیا ہوگا۔ 1922 میں جب انار کلی ڈرامہ شائع ہوا تو کتابی شکل میں ڈرامے ناپید تھے اور جِس طرح کے کھیل سٹیج پر پیش کئے جا رہے تھے وہ اس قابل بھی نہیں تھے کہ انھیں زیورِطبع سے آراستہ کیا جاتا۔ سٹیج ڈراموں کی اس کاروباری بھاگ دوڑ میں انار کلی ایک بالکل مختلف طرز کی چیز ثابت ہوئی اور ناٹک والوں نے اسے مُسترد کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ ڈرامے کی زبان بہت مشکل ہے اور اس میں تفریح کا عنصر ناپید ہے۔ انار کلی کی طباعت کے دو برس بعد ہی لاہور میں فلم سازی کا کام شروع ہوگیا اور نوجوان امتیاز علی تاج کو محسوس ہوا کہ اس کھیل کے لئے فلم کا میڈیم بہترین ثابت ہوگا جہاں زبان کی مشکل خود ہی حل ہوجائے گی (اس زمانے میں صرف خاموش فلمیں بنتی تھیں) البتہ محّلات و باغات کی جو منظر نگاری ڈرامے میں موجود ہے وہ ضرور سکرین پر نظر آجائے گی۔
1928 میں امتیاز کے ڈرامے کی فلم بندی لاہور میں شروع ہوئی لیکن اسی دوران انارکلی ڈرامے کی ایک جِلد بمبئی پہنچ چُکی تھی جہاں زیادہ سرمائے اور معروف فلمی ستاروں کے ساتھ ایک فلم لاہور والی انار کلی سے پہلے ہی تیار کرلی گئی اور اسطرح ایک ساتھ دو فلمیں مارکیٹ میں آگئیں۔ بمبئی والی خاموش فلم امپیریل فلم کمپنی نے بنائی تھی اور اس کے ڈائرکٹر آر۔ ایس چوہدری تھےجبکہ اداکاروں میں اُس زمانے کے مشہور سٹار سلوچنا، ڈی بلیموریا اور جلو بائی وغیرہ شامل تھے۔ 1935 میں ہدایتکار آر۔ایس چوہدری نے ایک بار پھر سلوچنا اور ڈی بلیموریا کو لے کر اسی کہانی کو آواز کے ساتھ فلمایا لیکن دونوں مرتبہ امتیاز علی تاج کو کوئی کریڈٹ نہ دیا گیا۔ امتیاز علی تاج کے ساتھ ہونے والی اِس نا انصافی کا کفّارہ آج تک ادا نہیں ہو سکا بلکہ گزشتہ 80 برس کے دوران مصنّف کو فراموش کرنے کی یہ زیادتی بار بار دہرائی گئی ہے ۔ انیس سو پینتیس، انیس سوتریپن، انیس سو پچپن، انیس سو اٹھاون، انیس سو ساٹھ، انیس سوچھیاسٹھ اور انیس سو اٹھہتر کی پروڈکشنز میں صرف ایک مرتبہ مصنّف کو اسکا حق ملا جب 1958 میں لاہور کی نگار پکچرز کے بینر تلے انارکلی کو فلمایا گیا۔ امتیاز علی تاج نے ایک بار پھر اس فلم کا منظر نامہ اور مکالمے لکھے اور انور کمال نے اسکی ہدایات دیں۔ انار کلی کا کردار نورجہاں نے ادا کیا اور اس فلم کے لازوال گیت بھی گائے۔ دیگر اداکاروں میں سدھیر (شہزادہ سلیم) شمیم آراء (ثریا) راگنی (دلارام) اور ہمالیہ والا (اکبرِ اعظم) شامل تھے۔ اس سے پانچ سال قبل بمبئی میں نندلال، جسونت لال کی ہدایتکاری میں انارکلی بن چکی تھی لیکن مکالمہ نگار کے خانے میں کسی حمیددت کا نام درج تھا۔ 1953 میں بننے والی یہ انارکلی، سی رام چندر کی موسیقی اور ہیمنت کمار اور لتا کے گانوں کی وجہ سے خاصی مقبول ہوئی۔ اس میں شہزادہ سلیم کا کردار پردیپ کمار نے، انارکلی کا کردار وینا نے، دلارام کا کردار کلدیپ کور نے اور اکبرِ اعظم کا رول مبارک نے ادا کیا تھا۔ امتیاز علی تاج کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی 1960 میں ہوئی جب مغلِ اعظم کے کارکنوں کی فہرست میں اُن کا نام داخل نہ کیا گیا۔
یہ درست ہے کہ فلم ساز و ہدایتکار کے۔ آصف نے مغلِ اعظم میں انار کلی کے روائتی انجام سے گریز کیا تھا اور اکبرِ اعظم کی شبیہہ بہتر کرنے کےلئے اسکے دِل میں انار کلی کے لئے رحم ڈال دیا تھا اور پھر یہ بھی درست ہے کہ شہزادہ سلیم کے دوست بختیار کو ایک جیالے راجپوت دُرجن کی صُورت دیکر کہانی میں ہندو مسلم توازن قائم کیا گیا تھا، لیکن مغلِ اعظم کی کہانی کا بنیادی ڈھانچہ بہرحال وہی تھا جو امتیاز علی تاج نے برسوں پہلے انار کلی میں پیش کیا تھا۔ کے ۔ آصف کی فلم میں نہ تو کلیدی کرداروں کی مثلث تبدیل ہوئی تھی اور نہ ہی المیے کی نوعیت بدلی تھی۔ شہزادہ سلیم یہاں بھی تہی دامن رہ جاتا ہے۔ انارکلی دیوار میں زندہ چُنی جائے یا ایک زندہ لاش کی صورت میں ملک بدر کر دی جائے – اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اصل مصنف کی تخلیق کی ہوئی اکثر سچوایشنز اور اُن کے تحریر کردہ مکالمے جوں کے توں مغلِ اعظم میں موجود ہیں لیکن جو چیز موجود نہیں وہ امتیاز علی تاج کا نام ہے۔ اس لئے شاید یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کے کھیل انارکلی اب خود امتیاز علی تاج کا المیہ بن کے رہ گیا ہے۔ | اسی بارے میں فلمی صنعت، پنچولی کے بعد 16 June, 2005 | فن فنکار لالی ووڈ کل اور آج: نویں قسط23 August, 2005 | فن فنکار ’عشق محبت اپناپن‘02 October, 2003 | فن فنکار میڈم نورجہاں کے کئی رنگ21 December, 2005 | فن فنکار مغل اعظم کا لاہور میں پریمئر شو23 April, 2006 | فن فنکار فلم مغل اعظم: مکالموں پر مبنی کتاب17 October, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||