| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’عشق محبت اپناپن‘
گانا ’عشق محبت اپنا پن‘ آ ج کل پاکستان کے ہر سرکاری اور نجی ٹی وی چینل پرچھایا ہوا ہے۔ مقبولیت کی نئی منزلیں طے کرنے والے اس گانے کے پیچھے ایک چائے ساز ادارے کا ہاتھ ہے جو نہ صرف سات منٹ کے دورانیے کے اس گانے کے لیے ٹی وی سے وقت خرید رہا ہے بلکہ اس گانے کو تیار بھی اسی ادارے نے کیا ہے۔ اس گانے کو بھارت اور پاکستان میں انار کلی کے موضوع پر بننے والی مغل اعظم اور انار کلی نامی فلموں کا مختصر ترین خلاصہ کہا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کی مقبولیت کی وجہ صرف یہ نہیں کہ یہ مشہور قصے انار کلی پر بنایا گیا ہے بلکہ اس کے درپردہ سبب یہ ہے کہ اس گانے کے بول اسے گانے والی آواز اور جس طرح سے اس گانے کو فلمایا گیا یہ سب دیکھنے اور سننے والوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔
یہ گانا مشہور ٹی وی پروڈیوسر شعیب منصور کی کاوشوں کا ثمر ہے جنہوں نے اس گانے کو لکھا، اس کی موسیقی ترتیب دی اور ہدایات دیں۔ اس وڈیو فلم کا آغاز قلعہ لاہور کے ایک دروازے کے منظر سے ہوتا ہے اور پھر شہنشاہ اکبر کا دربار دکھایا جاتا ہے۔دربار کا سیٹ اتنا خوبصورت ہے کہ اس موضوع پر بننے والی فلم مغل اعظم کے سیٹ کو بھی مات دیتا ہیں۔ کرداروں کے لباس نہ صرف بیش قیمت ہیں بلکہ اس دور کی عکاسی بھی بجا طور پر کرتے ہیں۔ پشاور کے اداکار رشید ناز نے اکبر کا کردار سے ادا کیا ہے۔ اکبر اپنے مشیر خاص مان سنگھ سے فارسی زبان میں اپنے ولی عہد شیخو یعنی شہزادہ سلیم کے بارے میں دریافت کرتا ہے۔مان سنگھ جواب میں انار کی ایک کلی بادشاہ کو پیش کرتا ہے جسے بادشاہ مسل دیتا ہے۔
دوسرے منظر میں شہزادہ سلیم اور انار کلی کو دنیا سے بے نیاز ایک دوسرے کے پیار میں محو دکھایا گیا۔ انار کلی کا کردار معروف اداکار عابد علی کی بیٹی ایمان علی نے ادا کیا ۔اس کردار کے لیے ایمان علی کے انتخاب کے بارے میں شعیب منصور کا کہنا ہے انہیں انار کلی کے لیے ایسے چہرے کی ضرورت تھی جو اس کردار کے لیے انکے تخیل کے بالکل قریب ہو ۔ایمان علی کچھ عرصے سے ماڈلنگ کے میدان میں ہیں۔ شہزادہ سلیم کا کردار ایک نئے چہرے رضوان حیدر نے کیا۔اس سین میں بادشاہ کا سپاہی انار کلی کو تلوار کی نوک پر اس وقت گرفتار کر لیتا ہے جب وہ سوئے ہوئے شہزادے کی تصویر بنا رہی ہوتی ہے۔ اگلے سین میں انار کلی زنجیروں میں جکڑی ہوئی اکبر بادشاہ کے دربار میں پیش کی جاتی ہے اس وقت دربار میں کوئی درجن بھر رقاصائیں رقص کرتی ہوئی دکھائی گئی ہیں اور یہیں انارکلی گیت گاتے ہوئے تخت و تاج اور مال وزر سے عشق محبت کو برتر قرار دیتے ہوئے بادشاہ کا حکم ماننے سے انکار کرتی ہے جس کے نتیجے میں اسے قید میں ڈال دیا جاتا ہے۔
اگلے سین میں بادشاہ اکبر اور شہزادہ سلیم کو فارسی زبان میں جھگڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وڈیو میں فارسی زبان کو استعمال کرنے کی وجہ شعیب منصور نے یہ بتائی کے وہ اس وڈیو کے ذریعے پاکستان کی نئی نسل کو بتانا چاہتے ہیں کہ مغلوں کی زبان فارسی تھی اور یوں بھی فارسی ایک خوبصورت اور میٹھی زبان ہے۔ قید خانے میں انار کلی گیت کے ذریعے اکبر کے جاہ وجلال اور شہنشاہیت پر طنز کرتی ہے اس دوران شہزادہ سلیم اسے آزاد کروا کر لے جاتا ہے مگر جلد ہی شاہی فوج کے سپاہی انہیں پکڑ لیتے ہیں اور انار کلی کو رسوں کے ذریعے ایک کنویں میں اتار کر کنویں کو ایک سل سے بند کر دیا جاتا ہے ۔ مگر انار کلی جاتے جاتے بھی گا رہی ہے ’عشق محبت اپنا پن‘۔ اکبر کی وفات کے بعد جب شہزادہ سلیم شہنشاہ جہانگیر کے روپ میں جلوہ افروز ہوتا ہے تو اپنی محبت کی یاد میں اس کا مزار تعمیر کرتا ہے۔ جس کی تعمیر کے دو سو سال کے بعد جب لاہور پر سکھوں کی حکومت ہوتی ہے تو اس مزار کو شہزادہ کھڑک سنگھ کی رہائش گاہ بنا دیا جاتا ہے۔ انگریزوں کے آنے کے بعد مزار کے گنبد پر صلیب گاڑ کر ساری عمارت کو سفید چونے سے رنگ دیا گيا۔ چالیس سال تک اس مزار میں ’ہے لے لویا،‘ کی گونج کے بعد عمارت کو سرکاری دفتر بنا دیا گیا اور اب وہاں سارا دن فون کی گھنٹیاں بجتی ہیں اور کلرک شور مچاتے ہیں ۔ اگرچہ شیعب نے اس گانے کے لیے کافی تحقیق کی مگر گانے کے آغاز میں انہوں نے بادشاہی قلعے کا جو دروازہ دکھایا اس پر پندرہ سو ننانوے کا سنہ دکھایا گیا ہے لیکن عالمگیری دروازہ ہے جو کہ اکبر کے دور میں موجود ہی نہ تھا۔اکبر کے دور میں قلعے کا دروازہ مستی گیٹ ہوتا تھا جو اس وقت کافی بری حالت میں ہے۔ اگرچہ وڈیو میں اس طرح کی معمولی تکنیکی خامیاں تلاش کی جا سکتی ہیں لیکن اس کا خاصہ وہ خوبصورت آواز ہے جس میں یہ گانا گایا گيا ہے۔ شبنم مجید کی آواز سو فیصدی اس گانے کے لیے موزوں محسوس ہوتی ہے۔ شعیب منصور کے مطابق اس گانے کے لیے ’میرے تخیل میں جو آواز تھی اس پر شبنم مجید کی آواز ہی پوری اترتی تھی‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||