BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 August, 2006, 10:59 GMT 15:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لالی وڈ: لائٹس آف اور کسمپرسی

دردانہ رحمان
فنکار کی روزی ’ہوائی‘ ہوتی ہے اس لیئے سائیڈ بزنس ضرور کرنا چاہیے: دردانہ رحمان
پاکستان کی فلم انڈسٹری چند برسوں سے زوال کا شکار ہے جس سے سینکڑوں فلمی کارکن بیروزگار ہو رہے ہیں۔ نگارخانے گوداموں میں تبدیل ہو رہے ہیں جبکہ سینما گھروں کی جگہ شاپنگ پلازے تعمیر ہو رہے ہیں۔

فلم انڈسٹری سے وابستہ لوگ جو برس ہا برس سے کسی نہ کسی طرح فن کی خدمت کر رہے تھے‘متبادل روزگار تلاش کرنے لگے۔اداکارہ دردانہ رحمان‘ جنہوں نے تین سوسے زائد فلموں میں کام کیا‘ اب ریسٹورنٹ‘ ڈیپارٹمنٹل سٹور اور پی سی او چلا رہی ہیں اور ساتھ ساتھ اکا دکا فلمیں بھی کر رہی ہیں۔

اسی طرح دیگر کئی فلمی کارکن بھی فلموں کے ساتھ ساتھ غیر فلمی کام کررہے ہیں۔

اداکارہ دردانہ رحمان کا کہنا ہے کہ وہ خوشحال ہیں اور بہت مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فنکار کی روزی ’ہوائی‘ ہوتی ہے اس لیئے سائیڈ بزنس ضرور کرنا چاہیے۔ ’ مجھے پانچ سال ہو گئے ہیں کہ اداکاری کے ساتھ ساتھ بزنس کررہی ہوں۔ پی سی او اورجنرل سٹور تو زیادہ نہیں چلتے البتہ ریستوران کافی چلتا ہے۔ یہ چونکہ شاہنور، باری اور ایورنیو سٹوڈیوز کے قریب ہے اس لیے اکثر فنکار ‘ہدایتکار اور فلمساز شوٹنگ سے فارغ ہو کر میرے ریسٹورنٹ میں چلے آتے ہیں اور رات بھر خوب انجوائے کرتے ہیں۔ اس دوران کئی نئے آیڈیاز بھی سامنے آتے اور ان پر کام بھی کیا جاتاہے۔‘

محمد صدیق کے تن پر گندے اور پھٹے ہوئے کپڑے تھے

دردانہ رحمان کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ فلمسازی میں کمی آئی ہے لیکن ’میں پرامید ہوں کہ فلم انڈسٹری کی رونقیں جلد بحال ہوں گی۔‘

میں نے ریسٹورنٹ شروع کیا تو لوگوں نے مخا لفت کی اب وہی لوگ میرے کام کو سراہ رہے ہیں۔ میرے ریسٹورنٹ کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کے ویٹرز ہیجڑے ہیں جو بہت ملنسار ہیں اور مہمانوں کی خوب تواضع کرتے ہیں۔ میں اب گلوکاری بھی سیکھ رہی ہوں۔ سیاست سے بھی دلچسپی ہے بلدیاتی انتخابات میں حصہ بھی لیا۔ ریسورنٹ کا تجربہ اچھا رہا اب کینیڈا میں ریسٹورنٹ کھولنے کا ارادہ ہے۔‘

دو سو فلمیں بنتی تھیں جبکہ اب دس پندرہ بنتی ہیں:رانا اکرم

ایکسٹرا زری بی بی بیس سال سے فلم انڈسٹری میں کام کررہی ہیں اور اس عرصے میں تین سو کے قریب فلموں میں بھی اداکاری کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نغمہ، عالیہ، ممتاز، نادرہ، بہار، انجمن اورصائمہ کے ساتھ کام کیا ہے۔ زری بی بی نے انڈسٹری کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں سٹوڈیو آتی تو ایک دن کئی فلموں میں کام کر لیتی تھی لیکن اب کئی دنوں کے بعد ایک فلم ملتی ہے۔ میرے شوہر کی آمدنی معمولی ہے تین بچے ہیں ایک بیٹے اور بیٹی کی شادی کر دی ہے دوسری بیٹی بھی جوان ہے بس اسی کی خاطر ویران سٹوڈیو کے چکر کاٹ رہی ہوں۔‘

ایکسٹرا سرفراز بی بی گزشتہ آٹھ برسوں سے فلموں میں کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کہا کہ وہ ان پڑھ ہیں۔ ’میری ایک بیٹی تھی جو فوت ہوچکی ہے مگر اپنے پیچھے پانچ بچے چھوڑ گئی جنہیں پالنے کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرتی ہوں اس کے علاوہ فلم سٹوڈیوز کے چکر بھی کاٹ رہی ہوں۔‘

ایکسٹرا کثیر بی بی نے یہ کہتے ہوئے تصویر بنوانے سے انکار کردیا کہ ’جب بھی میری تصویر بنائی گئی میرے خلاف ہی لکھا گیا کہ یہ نشہ کرتی ہے مگر یہ کسی نے نہیں لکھا کہ میری یہ حالت نشے کی وجہ سے نہیں بلکہ غربت کی وجہ سے ہے۔‘

کثیر بی بی نے مزید کہا ’ میرا ایک بیٹا ہے جو میرا خیال نہیں رکھتا۔ وہ تو خود بھی برباد ہو چکا ہے ۔ میں نے تیس سال فلم انڈسٹری کی خدمت کی مگراب دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے ملتی ہے۔‘

فلمیں تو بن نہیں رہیں مجبورا چائے کی کنٹین کھول لی ہے:محمد شفعیع

محمد صدیق کے تن پر گندے اور پھٹے ہوئے کپڑے تھے اور وہ باری سٹوڈیوز میں لاوارثوں کی طرح پھر رہے تھے۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ باری سٹوڈیوز کے ہیڈلائیٹ مین ڈاکٹر صدیق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پوری عمر سٹوڈیو میں گزاری ہے لیکن اس سے برے حالات پہلے کبھی نہیں دیکھے۔

’میرا اصل نام صدیق ہے۔ فلم سہیلی میں درپن کا نام ڈاکٹر صدیق تھا اور میں اس فلم کا لائیٹ مین تھا۔ سیٹ پر لوگوں نے مجھے ڈاکٹر صدیق کہنا شروع کر دیا۔‘

ہم انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی شوٹنگ کے لیے آئے:الطاف
باری سٹوڈیو کے شفٹ انچارج الطاف نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ فلموں کی شوٹنگ کے لیے لوگوں کو انتظار کرنا پڑتا تھااب ہم انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی فلم کی شوٹنگ کے لیے آئے، البتہ ٹی وی کی کچھ شوٹنگز ملتی رہتی ہیں۔

محمد شفیع نے کہا کہ انہوں نے پچیس سال اسسٹنٹ سیٹ ڈیزائنر کے طور پر کام کیاہے۔ ’اب فلمیں تو بن نہیں رہیں مجبورا چائے کی کنٹین کھول لی ہے۔ میرے گاہک میرے جیسے فلمی کارکن ہی ہیں جن کی مالی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ہاف سیٹ چائے خریدتے ہیں اور پانچ آدمی پیتے ہیں۔‘

سینئر کیمرہ مین رانا اکرم نے کہا کہ جب انہوں نے کیرئر شروع کیا تو سٹوڈیو میں کام اتنا تھا کہ کئی کئی دن گھر نہیں جاتے تھے۔ ’ چنانچہ ہم اپنے کپڑے سٹوڈیو میں ہی رکھتے تھے۔ سال میں دو سو فلمیں بنتی تھیں جبکہ اب دس پندرہ بنتی ہیں۔ میں ٹی وی کے لیے بھی کام کر رہا ہوں جس سے گزربسر ہو رہی ہے۔‘

اداکارحیرت انگیز خان نے کہا کہ انہوں نے دو سو کے قریب فلمیں کیں۔ ’لیکن آج کل میں اداکاری کے ساتھ ساتھ فلموں کے ٹائٹل بھی لکھتا ہوں اس کے علاوہ خطاطی کا کام بھی کرتا ہوں جس سے گزارہ ہو رہا ہے۔‘

بس وقت گزررہا: الطاف قمر

پاکستان فلم ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری الطاف قمر نے کہا کہ وہ چھبیس سال سے انڈسٹری میں کام کر رہے ہیں۔’ پانچ فلمیں ڈائریکٹر کے طور پر اور بیشمار فلمیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کیں۔ اب فلمیں تو بن نہیں رہیں البتہ ٹی وی کے لیے کچھ کام کر رہا ہوں۔ بس وقت گزررہا۔‘
بابرہ شریفاور پھرٹی وی آگیا!
پی ٹی وی کی آمد سے فلم نگری پر کیا اثر پڑا؟
سنتوشساٹھ کی فلمی دہائی
’بُدھو لڑکا اور ذہین لڑکی‘ سپر ہٹ فلم
رقصرقص پر قید نہیں
عدالت نے رقص پر سے پابندی ختم کر دی
فردین خانبالی وڈ اور منشیات
کیا بالی وڈ کے ستارے منشیات لیتے ہیں؟
اسی بارے میں
لالی وڈ: اور پھرٹی وی آگیا!
19 March, 2006 | فن فنکار
لالی وڈ آج اور کل، قسط 11
19 September, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد