مشترکہ فلم سازی، مگر کس کے ساتھ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں منعقدہ کارا فلم فیسٹیول کے دوران ایک مرتبہ پھر پاکستانی اور بھارتی فنکاروں نے مل جُل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے لیکن یہ خواہش کوئی عملی شکل اختیار کرتی ہوئی نظر نہیں آرہی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان فلموں کے تبادلے اور مشترکہ فلم سازی کے بہت سے نیم پخت منصوبے التواء میں پڑے ہوئے ہیں اور اس تعّطل کا الزام عموماً پاکستان کی خارجہ اور تجارتی پالیسی کو دیا جاتا ہے، لیکن ذرا گہرائی میں جا کر معاملے کا جائزہ لیا جائے تو دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری ’بالی وُڈ‘ کی نگاہیں اس وقت عالمی منڈی پر ہیں اور پاکستان سے زیادہ انہیں اس وقت چین کی فکر ہے جو کہ فلموں کی مغربی مارکیٹ میں ایک مضبوط مقام پیدا کر رہا ہے۔ اسے بھارت کی خوش قسمتی سمجھنا چاہیئے کہ چین نے حال ہی میں بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق کچھ قوانین کو تبدیل کر دیا ہے۔ قبل ازیں بیرونی کمپنیاں کسی بھی فلم پروڈکشن میں پچہتر فی صد تک حصّے دار ہو سکتی تھیں، چنانچہ بہت سے فلم ساز ادارے چین میں مشترکہ فلم سازی کے خواہش مند تھے لیکن اب حصّے داری کا تناسب کم ہو جانے پر سب سے پہلے ٹائم۔وارنر کمپنی نے چین میں اپنے فلم سازی کے منصوبے لپیٹ لیے ہیں اور وہ بھارت کی طرف راغب ہو رہی ہے جہاں بیرونی سرمایہ کاری کےلیے دلکش حالات پیدا ہوچکے ہیں۔
اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کےلیے اس وقت ہالی وُڈ کا سرمایہ کار سب سے اتاؤلا ہو رہا ہے۔ بھارت کے فلمی مراکز میں ہر طرف اس بات کا شہرہ ہے کہ ہالی وُڈ کی سرحدیں اب ممبئی تک پھیل جائیں گی۔ اس بات میں ایک بہت بڑی کاروباری سچائی پوشیدہ ہے کیونکہ سرمایہ کار کی بنیادی خواہش کم لاگت میں چیز تیار کرنا اور زیادہ سے زیادہ منافع پر بیچنا ہے اور بھارت میں فلمیں تیار کر کے یہ دونوں خواہشیں بطریقِ احسن پوری ہو سکتی ہیں۔ بھارت کی انڈسٹری میں جن لوگوں نے پاکستان کے ساتھ کو۔پروڈکشن کی کوششیں کی ہیں انھیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ مہیش بھٹ نے کئی بار پاکستان یاترا کی اور ہر بار مشترکہ فلم سازی کے بلند بانگ دعوے بھی کئے لیکن اس تمام تر واویلے کے بعد صرف اتنا کیا کہ پاکستانی سنگر جواد اور ایس پی جان سے اپنی فلم ’وہ لمحے‘ کے لیے کچھ کام لے لیا اور پاکستانی اداکارہ مِیرا کو اپنی فلم ’نظر‘ میں ایک کردار دے دیا۔ یہ فلم بھی محض متنازعہ نیم برہنہ مناظر کی وجہ سے کچھ عرصہ خبروں میں جگہ پا سکی لیکن پاک بھارت مشترکہ فلم سازی کے میدان میں اس فلم سے کوئی مدد حاصل نہ کی جاسکی۔
اس شاندار کامیابی کے باوجود شیکھر کپور نے اندھا دھند فلمیں قبول نہیں کیں بلکہ چار برس تک کسی اچھے موضوع کی تلاش کی اور 1987 میں ’مِسٹر انڈیا‘ کے ساتھ پہلے سے بھی بڑا دھماکہ کر دکھایا۔ اسکے بعد بالی وُڈ کے ساتھ شیکھر کا تعلق تقریباً ختم ہوگیا اور اس نے لندن کے چینل فور سے مل کر پھولن دیوی کی زندگی پر فلم ’بینڈٹ کوئین‘ بنائی جو اپنی تمام تر متنازعہ حیثیت کے باوجود ایک زبردست کامیابی تھی۔ یہیں سے شیکھر کپور کا مغربی دور شروع ہوا اور اسے فلم ’ایلزبتھ‘ کی ہدایتکاری کا کام سونپا گیا۔ یہاں بھی کامیابی نے اسکے قدم چومے اور اسکی اگلی منزل تھی فلم ’فور فیدرز‘۔ فلم ’گُرو‘ میں بھی شیکھر کپور نے ایگزیکٹیو پروڈیوسر کے طور پر فرائض نبھائے۔
مشرق و مغرب میں بیک وقت کام کرنے کے باعث شیکھر کپور دونوں فلمی ثقافتوں کا بہت اچھا موازنہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فلموں کا تکنیکی معیار تو اب بہت بہتر ہوگیا ہے لیکن موضوعات میں کوئی انقلابی تبدیلی نہیں آسکی اور اسکا سبب محض ہندوستانی فلم سازوں کی محدود سوچ نہیں بلکہ بیرونِ ملک آباد برِصغیر کے وہ لوگ بھی ہیں جو وطنِ عزیز کی وہی تصویر دیکھنا چاہتے ہیں جو وہ برسوں پہلے چھوڑ کر آئے تھے۔ وطنِ مالوف کی یادوں میں ڈوبے ہوئے ان لوگوں کی خواہش ہے کہ دیسی فلموں کی فوٹو گرافی اور ساؤنڈ ریکارڈنگ تو یورپی اور امریکی معیار کی ہونی چاہیئے لیکن اِن کے موضوعات خالص دیسی ہونے چاہئیں۔ چونکہ بیرونِ وطن آباد اِن باشندوں کی قوتِ خرید بہت زیادہ ہے اس لیے یہ دس پاؤنڈ یا پندرہ ڈالر کا ٹکٹ بھی ہنسی خوشی خرید لیتے ہیں جبکہ ہندوستان یا پاکستان میں کوئی شخص ہزار روپے کا ٹکٹ خرید کر سنیما نہیں جائے گا۔ چنانچہ ایک ہندوستانی فلم ساز کو بیرونِ وطن آباد ہم وطنوں کی خواہشات کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ یہ نکتہ اُن مغربی فلم سازوں کی سمجھ میں بھی آگیا ہے جو بمبئی میں اپنے مراکز قائم کر رہے ہیں۔ ان فلم ساز اداروں میں رچرڈ برین سن، دیپک مہتہ اور شیکھر کپور کی مشترکہ کمپنی ’ورجن کا مِکس‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔
لاس اینجلیز میں قائم ہائیڈ پارک اینٹر ٹینمنٹ کمپنی نے بھی بھارت کے مقامی فلم سازوں کے ساتھ مل کر فلم سازی کا کام شروع کردیا ہے ’وِیاکام انکارپورٹیڈ‘ نامی ادارہ بھی اپنی فلم سازی کے لیے بھارتی ساجھے داروں کی تلاش میں ہے۔ امریکی اور بھارتی فلم سازوں کی بھارت میں پذیرائی کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ بیرونی مارکیٹ میں بھارت کی فلمیں وہاں پہ آباد ہندوستانی اور پاکستانی باشندے تو بڑے شوق سے دیکھتے ہیں لیکن مغرب کے باشندے اِن میں اُس طرح کی دلچسپی نہیں لیتے جیسی مثال کے طور پر چینی فلموں میں لی جاتی ہے۔ بھارت میں کاروبار شروع کرنے والی امریکی فلم کمپنیوں کا دعوٰی ہے کہ وہ بھارتی فلموں کا معیار اتنا بلند کردیں گی کہ وہ عالمی منڈی میں چین، ہانگ کانگ، جاپان، سپین اور ایران کی فلموں کا مقابلہ کر سکیں۔ | اسی بارے میں سرحد پار سچی محبت، فلم ’ہندو‘18 May, 2006 | فن فنکار پاکستانی فلم ساز کو ویزا نہیں 29 July, 2006 | فن فنکار ’رنگ دے بسنتی ایک خاص فلم ہے‘26 September, 2006 | فن فنکار ’لگے رہو منا بھائی‘ بھی آسکر میں 29 September, 2006 | فن فنکار بالی وڈ: فلمسازی ایک نیا رجحان23 October, 2006 | فن فنکار قصہ فلمی کسنگ کا09 December, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||