BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 December, 2006, 04:14 GMT 09:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قصہ فلمی کسنگ کا

یہ تاثر غلط ہے کہ بھارت میں کسنگ کے سین فلم بند کرانے پر کوئی قانونی پابندی ہے
نئی فلم دھوم ۔ ٹُو میں ریتک روشن اور ایشوریا کے بوسے کا تنازعہ مسلسل جاری ہے۔ دانائے راز لوگوں کا کہنا ہے کہ فلم کی کامیاب تشہیر کےلئے اس بحث کو جاری رکھنا بے حد مفید ہے۔

فلم بینوں کو یاد ہو گا کہ ڈھائی برس پہلے ایشوریا نے جیمزبانڈ سلسلے کی ایک فلم میں کام کرنے سے معذرت کر لی تھی کیونکہ اس میں کِسنگ کے مناظر تھے اور ایشوریا کروڑوں کی تعداد

رکشیتا: منگنی کے بعد بوسے بازی کے مناظر فلم بند کرانے سے انکار

میں اپنے دیسی ناظرین کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ٰ ٰ برائیڈ اینڈ پریجوڈس ٰ ٰ میں بھی انھوں نے ہیرو کو کِس نہیں کیا اور نہ ہی فلم کی خاتون ڈائریکٹر نے انھیں اس پر مجبور کیا۔

پاک و ہند میں ایک عام تاثر یہ ہے کہ بمبئی کی فلموں میں بوسے بازی پر پابندی ہے اور کبھی کبھار کِسنگ کے جو مناظر دیکھنے میں آجاتے ہیں وہ قانون کی خلاف ورزی کر کے ڈالے جاتے ہیں۔

بوسوں پر پابندی
 ٰ ٰ یہ تاثر غلط ہے کہ ہماری فلموں میں بوسہ بازی دکھانے کی اجازت نہیں۔ 1969 کی کھوسلہ کمیٹی رپورٹ کے مطابق کسی منظر کے فحش ہونے کا فیصلہ صرف عدالت ہی کر سکتی ہےٰ ٰ

اس سلسلے میں قانونی پوزیشن یہ ہے کہ 1969 میں ٰ ٰ کھوسلہ کمیٹی رپورٹٰ ٰ کے بعد یہ پابندی عملاً ختم ہو چکی ہے کیونکہ جسٹس کھوسلہ نے قرار دیا تھا کہ کسی منظر کو فحش کہہ کر خارج کر دینا سینسر بورڈ کا کام نہیں کیونکہ کسی منظر میں برہنگی یا بوسے بازی پر اُس وقت تک پابندی نہیں لگائی جاسکتی جب تک عدالت اُس خاص منظر کو فحش قرار نہ دے۔

37 برس پہلے ہونے والے اس عدالتی فیصلے کے بعد اگرچہ فلم سازوں کو بوسے بازی کے مناظر ڈالنے کی چھوٹ مِل گئی تھی لیکن انھوں نے اس سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا۔

گزشتہ برس کی منتازعہ فلم نظر میں پاکستانی اداکارہ میرا اور بھارت اداکار اشمِت پٹیل

معاشرے کی عمومی قدامت پسندی کے ساتھ ساتھ اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بائیس برس تک فلمسازوں نے سینسر کی پابندیوں میں کام کیا تھا اور اب وہ خود بھی اسکے بہت عادی ہو چکے تھے:

اتنے مانوس صیاّد سے ہو گئے
اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے

1947 میں آزادی کے فوراً بعد فلموں میں بوسے بازی کو ممنوع قرار دے دیا گیا تھا، نہ صرف ہندوستانی فلموں میں بلکہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی فلموں میں بھی کِسنگ کے مناظر دکھانے کی اجازت نہیں تھی۔ چنانچہ انگریزی فلموں میں اکثر یہ صورتِ حال پیدا ہوتی کہ ہیرو شدید جذباتی انداز میں اپنے ہونٹ ہیروئن کے ہونٹوں کی طرف لے جاتا لیکن اس سے پہلے کہ ہونٹ اپنی پیاس بجھائیں۔۔۔ ایک جھٹکے سے ان دونوں کے چہرے پیچھے ہٹ جاتے۔ ظاہر ہے کہ یہ جھٹکا سینسر کی قینچی کا پیدا کردہ ہوتاتھا۔

فردین اور کرینا: ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں

اس صورتِ حال کا موازنہ ضیاالحق دور کی پاکستانی فلموں سے کیا جا سکتا ہے جب شراب نوشی کے مناظر پر پابندی لگا دی گئی تھی لیکن
ٰ ٰ پیتے ہوئے نہیں دِکھا سکتےٰ ٰ کی تشریح کچھ یوں کی گئی کہ ہونٹوں سے جام لگا کر مشروب کو حلق میں انڈیلتے نہیں دکھا سکتے۔

چنانچہ جن فلموں کی شوٹنگ اس پابندی سے پہلے ہو چکی تھی ان میں اسطرح کے مناظر عام تھے کہ وِلّن یا اُس کے دوستوں نے جام اٹھا کر منہ کی طرف بڑھایا لیکن لبوں کو چھونے سے پہلے ہی سینسر کے جھٹکے نے جام خالی کردیا اور اب صرف وِلن کے قہقے سے پتہ چلتا ہے کہ گھونٹ اندر جاچکا ہے۔

ایک مشہور فلمی جوڑے کا معروف فلمی منظر

شاید اس بات کا ذکر بے جا نہ ہو کہ تقسیمِ ہند سے قبل فلموں میں بوسے بازی پر کوئی پابندی نہیں تھی، چنانچہ لائٹ آف ایشیا اور کرما جیسی کلاسیکی فلموں میں اور پی سی بروا، ہمنسورائے، دیوکا رانی اور سلوچنا کی دیگر فلموں میں کِسنگ کے مناظر آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ بعد کے اداکاروں میں اشوک کمار اور نجم الحسن بھر پور کِسنگ کے لئے بہت مشہور ہوئے تھے۔ (نجم الحسن وہی ہیرو ہیں جو بعد میں پاکستان آگئے اور کریکٹر رول کرنے لگے۔ رنگین فلم ٰ ہیر ٰ میں فردوس کے والد بنے تھے)
میرا کا ایک اور جذباتی سین جس پر پاکستان میں تنقید بھی ہوئی

قیامِ پاکستان کے بعد لاہور میں ببنے والی فلموں سے بھی کِسنگ کے مناظر ختم ہوگئے۔ 1952 کی فلم دوپٹہ کے ایک منظر میں اچانک بجلی چلی جاتی ہے تو کریکٹر ایکٹر غلام محمد کھسک کر اپنی بیوی کے پاس آجاتا ہے اور اندھیرے میں اسےچوم لیتا ہے۔۔۔ بس زیادہ سے زیادہ اتنی ہی آزاد خیالی کا مظاہرہ ممکن تھا۔

1956 کی پاکستانی فلم ٰ ٰ سوسائٹیٰ ٰ میں لالہ سدھیر نے مسرت نذیر کی گردن سے اپنے ہونٹ چھُوئے تھے جس پر ارکانِ سینسر بورڈ میں گرما گرم بحث ہوگئی تھی اور بالآخر اس دلیل پر منظر بچ گیا کہ سوسائٹی کے ایک خاص طبقے کی نمائندگی کرتا تھا۔

پاکستان میں نہ تو کبھی فلم سازوں نے کِسنگ کے مناظر دکھانے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کبھی کسی محرومی کا اظہار کیا ہے البتہ گزشتہ برس ایک پاکستانی اداکارہ کی بوسے بازی کے مناظر سارے برِصغیر میں فلمی سرخیوں کا موضوع بنے رہے۔

مِیرا اور اشمِت پٹیل کی کِسنگ کے یہ مناظر مہیش بھٹ کی فلم نظر میں فلمائے گئے تھے اور اِن کی بدولت کاروباری طور پر ایک ناکام فلم کو تھوڑا سا مالی سہارا مِل گیا تھا۔

جنوبی ہند کے فلمی حلقوں میں آجکل اداکارہ رکشتا کا بھی بہت چرچا ہے جس نے ایک کنّڑ فلم میں اپنے ہیرو کے ہونٹ چوم کر ناظرین کو ششدر کردیا ہے، لیکن اخباری بیانات میں کنّڑ اداکارہ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ منظر اپنی منگنی سے پہلے فلم بند کرایا تھا اور اب جبکہ وہ پریم نامی ایک نوجوان سے منسوب ہوچکی ہے، وہ ایسے مناظر کبھی نہیں فلمائے گی۔ پریم صاحب کو اپنی منگیتر کا یہ بیان پڑھ کر یقیناً بہت مسرت ہوئی ہوگی لیکن ابھیشک بچن کی نگاہ سے ابھی تک ایشوریا کا ایسا کوئی بیان نہیں گزرا۔

اسی بارے میں
میرا کی فلم تنازعہ کا شکار
12 February, 2005 | فن فنکار
’پیرس میں عوامی بوسے بازی‘
10 November, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد