BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 July, 2006, 17:41 GMT 22:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی فلم ساز کو ویزا نہیں

مغل اعظم کی پاکستان میں ریلیز سے تعلقات میں بہتری کے آثار دکھائی دے رہے تھے
ممبئی بم دھماکوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان امن کی کوششوں کو جہاں دھچکا لگا ہے وہیں اب دونوں ممالک کے فنکاروں کے ذہنوں میں کئی سوالات سر اٹھا رہے ہیں۔ کئی فنکاروں نے اس صورت حال پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔

مکالمہ نویس اور کہانی کار جاوید صدیقی پاکستانی فلمساز شہزاد رفیق کی ایک فلم پر کام کر رہے ہیں۔ اس فلم کی کہانی اور مکالمے انہوں نے لکھے ہیں۔ نغمے گلزار کے ہیں اور فلم کی ہیروئین مہیما چودھری ہیں۔ ابھی اس فلم پر کام شروع نہیں ہواہے۔ شہزاد رفیق اپنی پنجابی فلم کی شوٹنگ پاکستان میں ختم کر کے ممبئی میں فلم کا پوسٹ پروڈکشن مکمل کرنا چاہتے تھے لیکن بھارتی حکومت نے انہیں ویزا نہیں دیاہے۔

شہزاد رفیق مایوس ہیں اور انہوں نے اب فلم کا کام بنکاک میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر حکومت نے انہیں آئندہ بھی ویزا نہیں دیا تو ان کا دوسرا پروجیکٹ بھی نہیں شروع ہوپائے گا۔

جاوید صدیقی کو بہت افسوس ہے ۔’اس طرح کے حالات دونوں ممالک کے عوام کو ذہنی طور پر اذیت پہنچاتے ہیں۔ کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی خیریت فون کے ذریعہ معلوم کرتے ہیں۔ کبھی ماحول گھریلو ہوتا ہے اور پھر اچانک تعلقات کے درمیان سرد مہری آجاتی ہے۔‘

جاوید صدیقی کے مطابق بڑی مشکل اور کانٹوں بھری رہگزر پر چلنے کے بعد فنکاروں نے ماحول کو بہتر بنانے کی جان توڑ کوشش کی تھی اور اس میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے۔ ’اگر شہزاد رفیق یہاں کام کرتے تو ملک کو ہی مالی فائدہ ہوتا ۔لیکن انہیں ویزا نہیں ملا پتہ نہیں آگے اور کیا ہوگا۔‘

فلمساز مہیش بھٹ نے بھی پاکستانی فلمساز سہیل کے ساتھ فلم بنانے کا اعلان کیا تھا۔ انہیں کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تبادلہ شروع ہوا تھا۔ مہیش بھٹ نے بہر حال امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’حالات چاہے جو ہوں میں مایوس نہیں ہوں۔ ندی کے بہاؤ کے ساتھ تو ہر کوئی بہتا ہے، مزہ تو تب ہے جب آپ اس کا یا تو رخ بدلیں یا پھر اس کے مخالف بہنے کی قوت پیدا کریں ۔ہم سب ایک بار پھر کوشش کریں گے اور حالات پھر بہتر ہوں گے ۔‘ آنے والے دن ہی بتاسکیں گے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کا بالی وڈ پر کیا اثر پڑتا ہے۔

اسی بارے میں
واہگہ پر پنجر
07 September, 2003 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد