ریحانہ بستی والا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی |  |
 | | | فلم میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا صحافی اپنے اصولوں پر پابند ہیں |
صحافت میں سٹِنگ آپریشن اور اس کے پیچھے کی سچائیوں کو اجاگر کرنے والی ایک فلم ’اِٹس بریکنگ نیوز‘ پانچ اکتوبر کو انڈیا کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ اس فلم نے صحافت کے تاریک پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ فلم کا موضوع سٹنگ آپریشن کے آس پاس گھومتا ہے۔ ہندوستان میں روز بروز نت نئے نیوز چینلز کے آنے سے ان میں مقابلے بڑھ گئے ہیں اور ہر نیوز چینل کی اس مقابلے میں خود کو زندہ رکھنے اور صفِ اول میں خود کو دیکھنے کی خواہش کی وجہ سے اب کئی نیوز چینلز خفیہ کیمرے کے ذریعہ لوگوں کا پردہ فاش کرنے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔ کیا اس دوڑ میں وہ صحافتی اصولوں کی پابندی کر پاتے ہیں؟ اور کیا یہ سٹنگ آپریشن کبھی کہیں کسی کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ تو نہیں کرتے؟ فلم ’اِٹس بریکنگ نیوز‘ ایسے ہی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ایک کہانی ہے۔ فلم کی ہیروئین کوئل پوری یعنی ودیا صحافت کا کورس مکمل کرنے کے بعد ایک نیوز چینل میں ملازمت کرتی ہے۔ وہاں وہ فیشن اور تفریح کی دنیا کی خبروں کی رپورٹ کرتی ہے۔ لیکن ایک دن اسے مجبوراً جرائم اور سنجیدہ خبروں کی رپورٹنگ دی جاتی ہے۔ایک روز اسے سٹنگ آپریشن بھی کرنا پڑتا ہے اور وہ اسے کامیابی کے ساتھ کرتی ہے جس کے بعد راتوں رات وہ ایک سٹار صحافی بن جاتی ہے۔  | | | یہ فلم انڈین میڈیا کے مسائل پر روشنی ڈالتی ہے |
یہ شہرت اسے اچھی لگتی ہے اور وہ پھر ایسے کئی سٹنگ آپریشن کرتی ہے اور اس دوران وہ صحافتی اصولوں کو بھی نظر انداز کرنے لگتی ہے۔ایک روز اسے ایک لڑکی کا فون آتا ہے جو پولیس افسر کی جنسی زیادتی کا شکار ہے اور وہ خود پر سٹنگ آپریشن کرنے کے لیے ودیا کو کہتی ہے۔ مقررہ جگہ پر کیمرے فٹ کر دیے جاتے ہیں۔ آپریشن کے دوران اس جگہ کوئی معمولی پولیس افسر کے بجائے ڈی آئی جی آتے ہیں جو اس لڑکی کی عصمت دری کرتے ہیں۔ ودیا کے ساتھ ساتھ کیمرہ مین اور پوری یونٹ اس لڑکی کے ساتھ ہو رہی اس زیادتی کو مجبوراً دیکھتے ہیں۔ ودیا مظلوم لڑکی سے وعدہ کرتی ہے کہ وہ اس ٹیپ کو جاری نہیں کرے گی لیکن دفتر میں اس سے اجازت لیے بغیر اس لڑکی کا ٹیپ چلا دیا جاتا ہے کیونکہ نیوز چینل کو لڑکی کی عزت، صحافتی اصولوں سے زیادہ چینل کی مقبولیت اور اس کا ٹی آر پی زیادہ عزیز ہے۔ اس کے بعد ودیا اس سسٹم کے خلاف لڑنے کی ہمت کرتی ہے جس میں اس کا ساتھ کچھ اور صحافی دیتے ہیں۔ فلم کی ہدایت وشال انعام دار کی ہے اور اس مظلوم لڑکی کا کردار پونے کے فلم اور ٹی وی انسٹی ٹیوٹ سے گریجویٹ سواتی نے کیا ہے۔ اس فلم سے پہلے مدھر بھنڈارکر نے بھی فلم ’پیج تھری‘ نامی فلم بنائی تھی جس میں صحافت کی سچائیوں، ایک صحافی کی زندگی اس کی راہ کی مشکلوں کو خوبصورتی اور کامیابی کے ساتھ اجاگر کیا گیا تھا۔ |