BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 September, 2007, 19:49 GMT 00:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کی سب سے متنازعہ فلم

شان اور ایمن
خدا کےلیے دو بھائیوں سرمد اور منصور کی کہانی ہے۔ دونوں بھائی موسیقی میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
لاہور میں میکلوڈ روڈ کے عوامی محلّے، مال روڈ کے پوش علاقے اور ڈیفنس کی اعلٰی ترین رہائشی بستی میں خدا کےلیے کی نمائش کامیابی سے جاری ہے اور تقسیم کاروں کے مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس فلم کو اب تک ملک میں 60 لاکھ سے زیادہ لوگ دیکھ چُکے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ہمارا نام بھی فلم بینوں کی اس طویل فہرست میں شامل ہوگیا۔

فلم سے زیادہ دلچسپ تماشائیوں کے ردِ عمل کا نظّارہ تھا جن میں اکثریت خواتین کی تھی۔ہائی سکول کی طالبات سے لیکر بڑی عمر کی پڑھی لکھی خواتین تک ہر کوئی سِیٹ کے کنارے سے جما سکرین پر آنکھیں گاڑے پوری محویت سے فلم دیکھ رہا تھا اور جہاں کہیں’دینِ مُلّا فی سبیل اللہ فساد‘ کا مضمون سامنے آتا تھا، ہال میں بے ساختہ زنانہ تالیاں اور قہقہے گونج اُٹھتے تھے۔ ہال میں موجود مرد بھی یقیناً ہنستے ہوں گے لیکن کھرج کے سُروں میں نکلنے والے اُن کے قہقہے خواتین کی نوکیلی پنچم سروں میں دبے رہتے تھے۔

اعلٰی طبقے کے پڑھے لکھے لوگوں کی اتنی بڑی تعداد عرصہ دراز سے کسی سنیما ہال میں جمع نہیں ہوئی تھی۔ 1970 کی دہائی کے بعد یہ طبقہ فلم بینی ترک کر کے وی سی آر اور بعد میں ڈی وی ڈی کااسیر ہوگیا تھا۔اِن لوگوں کی اکثریت دبئی یا یورپ جاکر سنیما میں فلم دیکھنے کا شوق پورا کرلیتی تھی اور مقامی طور پر متبادل تفریحات کی تلاش میں رہتی تھی۔ ان لوگوں کو مقامی سنیما ہال کی طرف راغب کرنا ایک ایسا بھاری پتھر تھا جسے بڑے بڑوں نے چوم کے چھوڑ دیا۔ لیکن:
سب پہ جس بار نے گرانی کی
اس کو یہ ناتواں اُٹھا لایا

اِس ناتواں شخص کا نام ہے شعیب منصور جوکہ چند برس پہلے تک پاکستان ٹیلی ویژن کا معروف پروڈیوسر تھا، کامیڈی اور ڈرامے کے بعد اس نے سٹیج شو اور موسیقی کے پروگراموں میں بھی اپنا لوہا منوا لیا تھا۔ پی ٹی وی چھوڑنے کے بعد اس نے ناظرین کو الفا براوو چارلی جیسے کامیاب سیریل دیئے اور سُپریم عشق سیریز میں رقصِ درویش اور انارکلی جیسے معیاری میوزک وِڈیو پیش کیے۔

نصیرالدین شاہ
مولانا ولی (نصیرالدین شاہ) عدالت میں جاکر ایک تقریرِ دلپذیر کے ذریعے، جوکہ فِقہی دلائل و براہین سے مُزیّن ہے، اہلِ عدالت کو قائل کرتے ہیں کہ خدا موسیقی جیسی خوبصورت چیز سے نفرت نہیں کر سکتا۔

شعیب منصور نے جب سے ایک فلم کا اعلان کیا تھا اس کے دوست احباب تذبذب میں تھے کہ کہیں برسوں کا بنا بنایا تاثر خاک میں نہ مِل جائے۔

اس خدشے کی ایک ٹھوس وجہ تھی اور وہ یہ کہ پاکستان ٹیلی ویژن سے فلم کے میدان میں آنے والے کسی ڈائریکٹر نے آج تک کامیابی حاصل نہیں کی۔ اس کے برعکس ضرور ہوا ہے، یعنی فلمی دنیا اُجڑنے کے بعد وہاں کے کئی ڈائریکٹر اور پروڈیوسر ٹی وی کے کاروبار میں جُٹ گئے اور خاصی کامیابی بھی حاصل کی جس کی نمایاں ترین مثال محمد جاوید فاضِل ہے۔

توخیر شعیب منصور کی اعلان کردہ فلم جوں جوں تاخیر کا شکار ہو رہی تھی دوستوں اور مداحوں کی یہ تشویش بڑھتی جارہی تھی کہ چھوٹی سکرین سے بڑی سکرین کی طرف جانے کا یہ خواب راستے ہی میں چکنا چور نہ ہوجائے۔ بہر حال 20 جولائی کو جب یہ فلم ملک بھر میں ریلیز ہوگئی تو شعیب منصور اور اُن کے ساتھیوں نے اطمینان کی سانس لی۔

بظاہر اس فلم کی کہانی میں کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ 11/9 کے بعد امریکہ میں آباد اقلیتی مصنّفوں میں سے اکثر نے بدلے ہوئے حالات میں اپنی ذات کا محاسبہ کیا اور اس نئی آگہی کو اپنی فکشن کا محور بنایا۔ (پاکستانی نژاد لکھاری محسن حامد کا نیا ناول ’ مذبذِب بنیاد پرست‘ بھی اسی مخمصے کے گرد گھومتا ہے۔

خدا کےلیے کی کہانی دو بھائیوں سرمد اور منصور کی کہانی ہے۔ دونوں بھائی موسیقی میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ بڑا بھائی منصور (اداکار شان) موسیقی کی اعلٰی تعلیم کےلئے امریکہ چلا جاتا ہے جہاں ایک امریکی لڑکی اس پر فدا ہوجاتی ہے۔ جبکہ چھوٹا بھائی سرمد (فوّاد) پاکستان میں ایک جہادی تنظیم کا رکن بن جاتا ہے اور اپنے رہنما کی ہدایت کے مطابق موسیقی کو ایک بُرا کام سمجھتے ہوئے اس سے توبہ کر لیتا ہے۔ 11/9 کے بعد امریکہ میں مشکوک لوگوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوتی ہے تو ایک جہادی نوجوان کا بڑا بھائی ہونے کے باعث منصور (شان) گرفتار کرلیا جاتا ہے اور گوانتاناموبے کی امریکی عقوبت گاہ میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں دِن رات تفتیش کر کے اس سے یہ اُگلوانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ طالبان سے اس کے کیا رابطے ہیں۔ یہ شبانہ روز ذہنی اور جسمانی اذیتیں بالآخر اسکے حواس معطل کردیتی ہیں اور وہ ایک چلتی پھرتی لاش میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

amin
میری ایک انگریز لڑکے سے پیار کرتی ہے اوراسی سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ باپ لڑکی کو دھوکے سے پاکستان لاکر اس کی شادی سرمد سے کردیتا ہے

ادھر سرمد اور منصور کا ایک انکل برطانیہ میں برسوں سے مقیم ہے جسکی لڑکی میری وہیں پلی بڑھی ہے۔ میری ایک انگریز لڑکے سے پیار کرتی ہے اوراسی سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ باپ لڑکی کو دھوکے سے پاکستان لاکر اس کی شادی سرمد سے کردیتا ہے جوکہ وزیرستان میں مصروفِ جہاد ہے۔ سرمد اپنے راہنما کے حُکم پر یہ شادی قبول کر لیتا ہے جس کا کہنا ہے کہ مسلمان لڑکی کو ایک کافر کی زوجیت میں جانے سے بچانا کارِ ثواب ہے۔

کہانی کی یہ سب الجھنیں بعد میں ایک ایک کر کے سُلجھتی ہیں، لیکن اس دوران میں مصنف و ہدایتکار کہانی کے نشیب و فراز سے اپنے ناظرین پر یہ نکات واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے:

اوّل: اسلام ایک فِطری، سہل، انسان دوست اور آرٹ دوست مذہب ہے۔
دوئم: خدا موسیقی اور مصوّری جیسی خوبصورت چیزوں سے نفرت نہیں کر سکتا۔
سوم: نوجوانوں کو اندھا دھُند کسی مسلک کی پیروی کرنے کی بجائے
اسے عقلی طور پر جانچنا، پرکھنا اور سمجھنا چاہیئے۔
چہارم: پاکستان اس وقت جن مُلکی اور بین الاقوامی مسائل میں گھِرا ہوا ہے اس سے نکلنے کےلئے بنیاد پرستی کی بجائے روشن خیالی اور رواداری کا رویّہ اپنانا ہوگا۔
پنجم: پاکستان کی خاموش اکثریت بنیاد پرستی اور کٹّر پن کے خلاف ہے لیکن وہ کھُل کے اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے قاصِر ہے۔

مسلمانوں کے خلاف سازش کا الزام
 فلم کو ہنود و یہود کی سازش قرار دیا جارہا ہے اور اِسے ایک امریکی ایجینڈے کا حصّہ بتایا جارہا ہے جس کا مقصد کچّے ذہن کے مسلمان نوجوانوں کو دینِ حق سے برگشتہ کرنا اور ملت اسلامیہ میں روحِ جہاد کو ختم کر کے امریکی ثقافت کے حاشیہ بردار نام نہاد مسلمانوں کی پیٹھ ٹھونکناہے۔
مذہبی حلقے

اس آخری نکتے کی وضاحت ہی فلم کا نُقطہء عروج ہے جہاں دین و مذہب کی ایک غیر روایتی اور لِبرل توضیح کےلئے عدالت میں دلائل دینا مقصود ہے۔ فلم کی ہیروئن ایک پڑھے لکھے آزاد خیال اور انسان دوست عالمِ دین کے پاس جاتی ہے اور اسے قائل کرتی ہے کہ عدالت میں جاکر موسیقی اور مصوری کے حق میں دلائل دے کیونکہ ایسے علماء کے خاموش رہنے سے اسلام کا ایک سفّاکانہ تصور دنیا میں پھیل رہا ہے۔ مولانا ولی (نصیرالدین شاہ) جوکہ وضو کرنے سے پہلے سہگل کا ایک پرانا گیت سن رہے تھے، لڑکی کی باتوں سے متاثر ہوتے ہیں اور عدالت میں جاکر ایک تقریرِ دلپذیر کے ذریعے، جوکہ فِقہی دلائل و براہین سے مُزیّن ہے، اہلِ عدالت کو قائل کرتے ہیں کہ خدا موسیقی جیسی خوبصورت چیز سے نفرت نہیں کر سکتا۔ نیز یہ کہ لباس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اسکا تعلق کلچر سے ہے چنانچہ مختلف علاقوں کے مسلمان مختلف طرح کا لباس پہن سکتے ہیں اور انھیں کسی اسلامی یونیفارم کی ضرورت نہیں ہے۔

اگرچہ وہ خود باریش ہیں لیکن داڑھی کے بارے میں بھی مولانا کے دلائل ان کی روشن خیالی کے غماز ہیں اور وہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص فنافی الرسول ہوجاتا ہے تو اُسی صورت میں ڈھل جانا چاہتا ہے اور عشق کی اس انتہائی منزل پر وہ اپنی ظاہری شکل و صورت بھی تبدیل کر لینا چاہتا ہے لیکن اگر دِل میں عشقِ رسول اُس انتہائی منزل تک نہیں پہنچا تو پھر ہماری داڑھی اور ابوجہل کی داڑھی میں کوئی فرق نہیں۔

فلم کا ہیرو سرمد اِن دلائل سے متاثر ہوتا ہے اور اپنی جینز اور کُرتے میں اذان دینے کے لیے مسجد میں چلاجاتا ہے لیکن اس کا جہادی رہنما اس ادا کو بدعت سمجھتے ہوئے ایک نفرت بھری نگاہ اس پر ڈالتا ہے اور شرعی لباس والے ایک شاگرد کو حکم دیتا ہے کہ وہ جاکر اذان دے۔ یہ شاگرد بھی اذان شروع کر دیتا ہےاور اس طرح بیک وقت دو اذانیں فضا میں گونجنے لگتی ہیں۔

الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
مُلّا کی اذان اور مجاہد کی اذان اور

یہ فیصلہ اگرچہ شیعب منصور نے ناظرین پر چھوڑ دیا ہے کہ ان میں سے ملّا کی اذان کونسی ہے اور مجاہد کی کونسی، لیکن ملک کے مذہبی حلقے اِن دونوں اذانوں کو مسترد کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

ہیروئین
۔ فلم کی ہیروئن ایک پڑھے لکھے آزاد خیال اور انسان دوست عالمِ دین کے پاس جاتی ہے اور اسے قائل کرتی ہے کہ عدالت میں جاکر موسیقی اور مصوری کے حق میں دلائل دے

دینی حلقوں کی طرف سے اب تک جو مواد اس فلم کے خلاف شائع ہوا ہے اس میں اس فلم کو ہنود و یہود کی سازش قرار دیا جارہا ہے اور اِسے ایک امریکی ایجینڈے کا حصّہ بتایا جارہا ہے جس کا مقصد کچّے ذہن کے مسلمان نوجوانوں کو دینِ حق سے برگشتہ کرنا اور ملت اسلامیہ میں روحِ جہاد کو ختم کر کے امریکی ثقافت کے حاشیہ بردار نام نہاد مسلمانوں کی پیٹھ ٹھونکناہے۔

اس فلم کے ناظرین میں اگرچہ اکثریت پڑھے لکھے آزاد خیال طبقے کے افراد کی ہے لیکن شعائر اسلامی پر پوری طرح کاربند کچھ افراد بھی جو فلم بینی کو ایک برائی سمجھتے ہیں اس فِلم کی حیرت انگیز مقبولیت اور اثر پذیری کا سبب جاننے کےلیے اسے دیکھ رہے ہیں۔

اقبال نے کہا تھا:
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بُو لہبی

پاکستان میں راسخ العقیدہ اور آزاد خیال دونوں ہی فریق اقبال سے متفق دکھائی دیتے ہیں البتہ خود کو شرارِ بولہبی تسلیم کرنے پر کوئی فریق تیار نہیں اور یوں نقطہ نظر کی یہ جنگ فلم خدا کےلیے میں پیش کئے جانے والے اُس منظر کی غماز بن جاتی ہے جس میں شمالی اتحاد کے مجاہد پوری قوّتِ ایمانی سے طالبان کے خلاف نبرد آزما ہیں لیکن دونوں جانب سے جو سپاہی بھی زخم کھا کر گرتا ہے وہ کلمہ طیبہ کا وِرد کرتا ہے اور رتبہء شہادت پانے کا تمنائی نظر آتا ہے۔

اسی بارے میں
پاکستانی سنیما کے ساٹھ برس
18 August, 2007 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد