’ایسے مت چک انڈیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلم ’چک دے انڈیا‘ کی تشہیر بھارت میں ہاکی کےحالات پر مبنی فلم کےطور پر کی جا رہی ہے۔ ملک کا بیشتر میڈیا بھی اسے اسی طرح سے دیکھ اور سمجھ رہا ہے۔ لیکن کیا یہ فلم صرف کبیر خان نام کے ایک ہاکی کھلاڑی کی ناکامی اور کامیابی کی کہانی ہے؟ کیا یہ کھیل کی سیاست کا معاملہ ہے یا پھر کرکٹ کے برعکس ہاکی کی پسماندگی کا صرف ایک قصہ ہے؟ شاید نہیں کیوں کہ اس فلم کی کہانی میں ہاکی کےحالات سے زیادہ دل کو چھونے والا پیغام بھی ہے ۔ اس پیغام کا تعلق ملک میں مسلمانوں کے حالات سے ہے۔ جہاں انہیں بار بار اپنے ملک کے لیے وفاداری کو ثابت کرنے کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک کھلاڑی کے مسلمان ہو نے سے اس کی ذاتی ناکامی کواس کی وفاداری سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہےاور اس تہمت کو دھونے کے لیے اسے بار بار اپنے آپ کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔ ’چک دے انڈیا‘ بھلے ہی مختلف انسانی جذبات کو ابھارتی ہے لیکن ایک مسلمان کھلاڑي کے گھر کی دیوار پر’غدّار‘ لکھنے والی ہندوستانی ذہنیت کا درد بھی یہ فلم بڑی خوبصورتی سے ظاہر کرتی ہے۔ یہ فلم ایک ایسے وقت میں ریلیز کے لیے پیش کی گئی ہے جب ہندوستان اپنی آزادی کے ساٹھ برس کا جشن منا رہا ہے۔ اور یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ فلم کے باہر بھی مسلمانوں کو اسی آزاد بھارت میں بار بار اپنی وفاداری ثابت کرنا پڑتی ہے اور انہیں شک و شبہ کے گھیرے میں رہنے کے لیے مجبور کیا جاتاہے۔ اسی آزاد بھارت کے آزادی کے جشن سے ایک دن پہلے دارالحکومت دلی میں اس دور کے ایک مشہور و معروف شاعر کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا وہ بھی چک دے انڈیا کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ چودہ اگست کی شام دلی کے ترکمان گیٹ میں واقع ایک ہوٹل کا کمرہ شاعر راحت اندوری کو اس لیے خالی کرنے کو کہا گیا کیوں کہ دلی کی پولیس کو ایسا لگتا تھا کہ اس سے سکیورٹی نظام کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ راحت اندوری ایک امن پسند اور قاعدہ قانون پر چلنے والے ایک ہندوستانی شہری کی طرح کمرہ خالی کرنے پر راضی ہوگئے تھے اور اپنا سامان لیکر باہر بھی نکل گئے، لیکن اچانک ان کےذہن میں شبہ پیدا ہوا کہ کیا انہیں تب بھی ہوٹل خالی کرنے کو کہا جاتا اگر وہ ترکمان گیٹ کے پاس ایک معمولی سے ہوٹل میں نہ رہ کر پارلیمنٹ یا پھر انڈیا گیٹ کے نزدیک کسی فائیو سٹار ہوٹل میں رہتے ؟ انہوں نے دلی پولیس کے اس حولدار سے پوچھا کہ کیا انہیں ہوٹل کے کمرے سے صرف اس لیے نکل جانے کو کہا جا رہا ہے کیوں کہ یہ ہوٹل مسلمانوں کےعلاقے میں ہے اور ان کا نام راحت اندوری ہے؟ تو ظاہر طور پر اس حولدار کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ سوائے اس کے کہ ایسا 'والڈ سٹی' (فصیل بند شہر) کے سبھی ہوٹلز میں کیا جا رہا ہے یعنی دلی کے انہیں علاقوں ميں جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے۔ اس رات راحت اندوری کے ساتھ کچھ صحافی دوست نہ ہوتے تو پتہ نہیں وہ اپنے آپ کو اس ملک کا بھلا شہری کیسے ثابت کرتے۔ پتہ نہیں ثابت کر پاتے بھی کہ نہیں؟ دراصل سوال چاہے کبیر خان کے بہانے سے ’چک دے انڈیا‘ میں اٹھے یا پھر راحت اندوری کے بہانے سے ترکمان گیٹ کے ایک معمولی سے ہوٹل سے لیکن یہ اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے کہ کب تک اس ملک میں مسلمانوں کو اپنی وفاداری ثابت کرنی ہوگی؟ علامت کے طور پر کبھی فخر الدین علی احمد کو تو کبھی اے پی جے عبدالکلام کو صدر بنا کر کب تک کام چلے گا؟ کب تک سیاسی جماعتیں حامد انصاری کو نائب صدر بنا کر اپنے آپ کو مسلمانوں کو خیر خواہ ثابت کرتی رہیں گی؟ آزادی کے ساٹھ برس بعد بھی اگربھارتی معاشرہ مسلمانوں کو قبول نہیں کر پایا ہے اور اسے بار بار شبہ ہو تا ہے کہ اس کی وفاداری کسی پڑوسی ملک کے لیے ہے تو ایسی آزادی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں اطمینان،افسوس اور خدشات کے60سال16 August, 2007 | انڈیا کاش برصغیر تقسیم نہ ہوتا13 August, 2007 | انڈیا بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار10 August, 2007 | انڈیا ’القاعدہ کی دھمکی، انڈیا کوتشویش‘06 August, 2007 | انڈیا بھاگل پور فساد: ازسرنوسماعت29 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||