’القاعدہ کی دھمکی، انڈیا کوتشویش‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں اتوار کو ایک ایسی وڈیو سامنے آئی ہے جس میں مبینہ طور پر القاعدہ کی طرف سے دھمکی دی گئی ہے کہ امریکہ اور ہندوستان کے سفارتخانے اس کے نشانے پر ہیں۔ ایک گھنٹے سے زائد دورانیے کی اس ویڈیو میں ایک نامعلوم شخص کوایک بیان پڑھتے ہوئے دکھایا گيا ہے، جس میں کہا گيا ہے:’امریکہ کے ساتھ ساتھ تل ابیب، ماسکو اور دلی کو بھی نشانہ بنانا ہمارا جائز حق ہے‘۔ اس بیان میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ:’ہندوستان نے ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔ ہندوستان نے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کا یہ قتل عام امریکہ کی حمایت سے کیا ہے‘۔ ابھی تک اس ویڈیو کے اصل ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ داخلی امور کے وزیر مملکت شری پرکاش جیسوال نے کہا ہے کہ ابھی تک ان کی وزارت کو القاعدہ سے کسی دھمکی کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا:’ ہندوستان کسی بھی طرح کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے‘۔ القاعدہ کی جانب سے حملے کی مبینہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند دن بعد ہندوستان اپنی آزادی کا ساٹھ سالہ جشن منانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہندوستان دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں اپنے سفارتخانوں کی سلامتی کے اقدامات کو مزید سخت کر رہا ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں القاعدہ کی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں القاعدہ کے غیر ملکی کارکن ہندوستان میں بعض نشانوں کا جائزہ لینے آئے تھے لیکن ان کا مشن کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل ماضی میں بھی ہندوستان کو القاعدہ کے کسی ممکنہ حملے کے بارے میں خبردار کر چکے ہیں۔ | اسی بارے میں پارلیمنٹ پرحملہ ہم نے کیا: القاعدہ13 April, 2007 | آس پاس القاعدہ سی ڈی، ’ایجنسیوں کا کام‘09 June, 2007 | انڈیا میکسیکو: ’القاعدہ دھمکی کی تفتیش‘15 February, 2007 | آس پاس بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں القاعدہ08 June, 2007 | انڈیا القاعدہ سے تعلق پرسات سال قید 23 July, 2005 | انڈیا ’القاعدہ پہلے سے زیادہ مضبوط‘12 July, 2007 | آس پاس القاعدہ کی ٹیپ کا تجزیہ05 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||