BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 July, 2007, 17:50 GMT 22:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’القاعدہ پہلے سے زیادہ مضبوط‘

القاعدہ مغرب کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
امریکی فوجی ماہرین نے القاعدہ کو پچھلے چھ سالوں سے زیادہ مضبوط قرار دیا ہے
امریکی انٹیلیجنس کے تین سینیئر اہلکاروں نے ایک بدھ کوسینیٹ میں دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کو نیو یارک اور واشنگٹن پر کیے گئے حملوں کے چھ سال بعد القاعدہ مزید مضبوط ہو گئی ہے اور مغرب پر حملہ آور ہونے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔

امریکی انٹیلیجنس کا یہ تازہ ترین تجزیہ بدھ کو منظرِ عام پر آیا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس میں آج ایک میٹنگ ہونے والی ہے جس کا عنوان بھی یہی ہے یعنی’القاعدہ مغرب پر حملے کی بہتر پوزیشن میں‘۔ اس میٹنگ کی دستاویزات کی بنیاد امریکی انٹیلیجنس کے بیان پر ہی ہے۔

ان افسران کے مطابق گو کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد القاعدہ کمزور پڑ گئی تھی لیکن پچھلے تمام برسوں میں القاعدہ نے خود کو دو بارہ منّظم کر لیا ہے اور اب وہ مغربی اقوام کے لیے پہلے سے بڑا خطرہ ہے۔

ایک سینیئر سی آئی اے افسر جان کرنگن نے پاکستان کے ان علاقوں کو القاعدہ کے لیے محفوظ پناہ گاہ قرار دیا جہاں حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ان علاقوں سے مراد پاک افغان سرحد کا وہ علاقہ ہے جہاں لاقانونیت کا راج ہے۔

 سیکیورٹی کے سیکریٹری داخلہ مائیکل شیر ٹوف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سال موسمِ گرما میں القاعدہ کا ٹارگٹ امریکہ ہوگا

ایک اور ممتاز سی آئی اے اہلکار رابرٹ کارڈیلو نے اس امر کی وجہ گزشتہ سال پاکستانی حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کو قرار دیا۔

دو ہفتے قبل لندن اور گلاسگو میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد ماہرین کی تمام تر توجہ مغرب کو لاحق خطرے کی طرف ہوگئی ہے جبکہ سیکیورٹی کے سیکریٹری داخلہ مائیکل شیر ٹوف نے خدشہ ظاہر کیا کہ موسمِ گرما میں القاعدہ کا ٹارگٹ امریکہ ہوگا۔

تاہم انٹیلیجنس کے تینوں اہلکاروں نے سیکیورٹی کے سیکریٹری داخلہ مائیکل شیر ٹوف کے بیان سے خود کو مستثنٰی قرار دیا تاہم حملے کے امکان کو مسترد نہ کرتے ہوئے تینوں اہلکاروں نے کہا کہ اس طرح کی معلومات دستیاب نہیں جن کی بنیاد پر اس خطرے کو قابلِ یقیین سمجھا جائے۔

اسی بارے میں
’بن لا دن کی گرفتاری‘
04 June, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد