’القاعدہ پہلے سے زیادہ مضبوط‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی انٹیلیجنس کے تین سینیئر اہلکاروں نے ایک بدھ کوسینیٹ میں دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کو نیو یارک اور واشنگٹن پر کیے گئے حملوں کے چھ سال بعد القاعدہ مزید مضبوط ہو گئی ہے اور مغرب پر حملہ آور ہونے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔ امریکی انٹیلیجنس کا یہ تازہ ترین تجزیہ بدھ کو منظرِ عام پر آیا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس میں آج ایک میٹنگ ہونے والی ہے جس کا عنوان بھی یہی ہے یعنی’القاعدہ مغرب پر حملے کی بہتر پوزیشن میں‘۔ اس میٹنگ کی دستاویزات کی بنیاد امریکی انٹیلیجنس کے بیان پر ہی ہے۔ ان افسران کے مطابق گو کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد القاعدہ کمزور پڑ گئی تھی لیکن پچھلے تمام برسوں میں القاعدہ نے خود کو دو بارہ منّظم کر لیا ہے اور اب وہ مغربی اقوام کے لیے پہلے سے بڑا خطرہ ہے۔ ایک سینیئر سی آئی اے افسر جان کرنگن نے پاکستان کے ان علاقوں کو القاعدہ کے لیے محفوظ پناہ گاہ قرار دیا جہاں حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ان علاقوں سے مراد پاک افغان سرحد کا وہ علاقہ ہے جہاں لاقانونیت کا راج ہے۔ ایک اور ممتاز سی آئی اے اہلکار رابرٹ کارڈیلو نے اس امر کی وجہ گزشتہ سال پاکستانی حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کو قرار دیا۔ دو ہفتے قبل لندن اور گلاسگو میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد ماہرین کی تمام تر توجہ مغرب کو لاحق خطرے کی طرف ہوگئی ہے جبکہ سیکیورٹی کے سیکریٹری داخلہ مائیکل شیر ٹوف نے خدشہ ظاہر کیا کہ موسمِ گرما میں القاعدہ کا ٹارگٹ امریکہ ہوگا۔ تاہم انٹیلیجنس کے تینوں اہلکاروں نے سیکیورٹی کے سیکریٹری داخلہ مائیکل شیر ٹوف کے بیان سے خود کو مستثنٰی قرار دیا تاہم حملے کے امکان کو مسترد نہ کرتے ہوئے تینوں اہلکاروں نے کہا کہ اس طرح کی معلومات دستیاب نہیں جن کی بنیاد پر اس خطرے کو قابلِ یقیین سمجھا جائے۔ | اسی بارے میں لندن بم حملے، چار ملزم قصوروار09 July, 2007 | آس پاس امریکہ میں’ ٹرپل سیون‘ کا بخار07 July, 2007 | آس پاس پارلیمنٹ پرحملہ ہم نے کیا: القاعدہ13 April, 2007 | آس پاس اسامہ کو فرار ہونے میں مدد کی:گلبدین11 January, 2007 | آس پاس ’بن لا دن کی گرفتاری‘04 June, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||