لندن بم حملے، چار ملزم قصوروار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن کی ایک عدالت نے اکیس جولائی سنہ دو ہزار پانچ کو لندن کی ٹرینوں پر بم حملے کی سازش میں چار ملزموں کو قصوروار پایا ہے۔ ان افراد پر الزام تھا کہ وہ بیکوقت لندن کے ٹرینوں پر دھماکے کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انتیس سالہ مختار ابراہیم، چھبیس سالہ یاسین عمر، پچیس سالہ رمزی محمد اور اٹھائیس سالہ حسین عثمان کو وولِچ کراؤن کورٹ نے قتل کی سازش کا مجرم پایا ہے۔ ان افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے لندن کی زیر زمین ٹرینوں پر رکسیک میں نصب بم چلا کر خود کش حملے کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ نا کام حملے لندن پر سات جولائی کے حملوں کے دو ہفتے بعد ہوئے۔ سات جولائی کے حملوں میں 52 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ مقدمہ چھ ماہ تک چلا جس کے بعد جیوری نے بلا اختلاف ان چار ملزمان کو قصوروار پایا۔ دو اور ملزموں کے قصوروار ہونے یا نہ ہونے پر جیوری نے ابھی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ یہ چاورں مجرم مشرقی افریقایائی نژاد ہیں اور یہ نوے کی دہائی میں برطانیہ آئے تھے۔ اگر ان کے بم حملے کامیاب ہوجاتے تو درجنوں ہلاکتوں کا امکان تھا۔ مختار ابراہیم اور رمزی محمد کو ایک ہفتے بعد لندن سے گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ یاسین عمر کو برمنگھم سے گرفتار کیا گیا۔وہ برقع پہن کر لندن سے برمنگھم جانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ چوتھا مجرم حسین عثمان برطانیہ سے اٹلی نکل گیا تھا لیکن اسے روم سے گرفتار کر کے برطانیہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اکیس جولائی کے حملوں کا سات جولائی کے حملوں سے تعلق تھا البتہ یہ بات پوری طرح نہییں ثابت ہوئی ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ بم تیار کرنے کا طریقہ کار ملتا تھا اور یہ ایک نیا طریقہ تھا جس میں دھماکے کرنے کے لیے خوراک کا استعمال ضروری تھا۔ سات جولائی کے حملوں میں کالی مرچ کا استعمال کیا گیا جبکہ اکیس جولائی کے حملوں میں چپاتی کا آٹا استعمال ہوا۔ اس کے علاوہ مختار ابراہیم اس دوران پاکستان گئے تھے جب سات جولائی کے حملہ آور محمد صدیق خان اور شہزاد تنویر بھی وہاں تھے۔ مختار ابراہیم گیارہ دسمبر سنہ دو ہزار چار کو دو اور افراد کے ہمراہ لندن سے پاکستان روانہ ہوئے تھے۔ ان تینوں کو ہیتھرو ائرپورٹ پر روک کر ان سے اس لیے پوچھ گچھ کی گئی کیونکہ ان کی تحویل سے کچھ مشکوک اشیا ملی تھیں۔ ان میں نقدی کی بڑی رقم کے علاوہ ابتدائی طبی امداد اور فائرنگ سے ہونے والے زخموں کے بارے میں معلوماتی دستاویز تھے۔ ان تینوں کو جانے دیا گیا تھا لیکن ان کے پاس جو سامان نکلا تھا وہ اسی نوعیت کا تھا جو جہادی تربیت کے لیے افغانستان اور کشمیر جانے والے افارد سے پہلے ببرآمد ہوا تھا۔ ان افراد میں سے دو، شکیل اسمعیل اور رضوان مجید ، برطانیہ واپس نہیں آئے اور ان کے بارے میں نہیں معلوم ہو سکا کہ وہ اب کہاں ہیں۔ تاہم مختار ابراہیم پانچ ماہ بعد یعنی مارچ سنہ دو ہزار پانچ میں برطانیہ لوٹے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے واپسی پر ان بم حملوں کی پوری تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سات جولائی کے مجرم صدیق خان نے بھی پاکستان سے واپسی پر بم حملے کے منصوبے کی تیاری شروع کی تھی۔ | اسی بارے میں ’چار دھماکوں کی کوشش کی گئی‘21 July, 2005 | آس پاس لندن دھماکے: کب کہاں کیا ہوا؟21 July, 2005 | آس پاس لندن: انڈرگراؤنڈ سٹیشن خالی 21 July, 2005 | آس پاس برمنگھم: مطلوب عمر یاسین گرفتار27 July, 2005 | آس پاس لندن مشتبہ بمباروں کی نئی ویڈیو25 July, 2005 | آس پاس لندن حملے: مشتبہ گرفتار تین ہوگئے24 July, 2005 | آس پاس مشتبہ لندن بمبار28 July, 2005 | آس پاس 21/7 کے چاروں مطلوب گرفتار 29 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||