BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 January, 2007, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلمی پوسٹر: ایک دم توڑتا فن

فلمی پوسٹر
ایک اچھا پوسٹر بنانے کےلئے فلم کے موضوع سے مکمل واقفیت ضروری ہے
جب پاکستان کی فلمی صنعت پر بہار کا زمانہ تھا تو اِس گلشن میں ہر طرف رنگ ہی رنگ بکھرے ہوئے تھے۔

سنیما گھروں کی دیواریں بڑے بڑے بورڈوں سے مزّین تھیں جن پر ہیروئین کا رقص کرتا جسم، ہیرو کی فاتحانہ مسکراہٹ اور ولن کی خشمگیں آنکھیں جلوہ افروز ہوتیں۔

سنیما گھروں میں فلم کے چیدہ چیدہ مناظر کی تصویروں کے علاوہ اخباری سائز کے رنگین پوسٹر بھی چسپاں ہوتے جن میں موجودہ اور آنے والی فلموں کے مناظر کی جھلک دیکھی جاسکتی۔

فلمی ہورڈنگ کی طرح فلمی پوسٹر کا فن بھی کلکتے اور بمبئی میں پروان چڑھا اور تقسیمِ ہند کے بعد بمبئی کے کچھ ہُنر مند لاہور اور کراچی آ کر آباد ہوگئے۔ اِن ماہرین میں ایم۔مصطفٰے اور ایس خان کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ ایس خان کا سٹوڈیو لاہور کے معروف فلمی مرکز رائل پارک میں ہے جہاں آج بھی اُن کے فرزند اور شاگرد اِس فن کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ستر کے عشرے میں اوسطاً ہر روز ایک نیا پوسٹر تیار ہوتا تھا: ایس اقبال،

لاہور میں گزشتہ 45 سال کے دوران چار ہزار سے زائد فلمی پوسٹر تیار کرنے والے فنکار ایس اقبال کا کہنا ہے کہ اُن کے والد ایس خان نے اگرچہ اپنے کام کا آغاز بمبئی میں کیا تھا لیکن 1948 میں لاہور آنے کے بعد انہوں نے پوسٹر مصّوری اور سنیما ڈیکوریشن میں پنجاب کی مخصوص روایت کو آگے بڑھایا۔

سنیما گھروں کے باہر سجائے جانے والے آرائشی بوڈ اُن دِنوں کینوس سے تیار کیے جاتے تھے اور ان پر برش کے موٹے موٹے سٹروک لگا کر فلمی منظر پینٹ کیا جاتا تھا۔ ایس خان نے اِن کی جگہ کارڈ بورڈ کا استعمال شروع کیا۔ کینوس کا بورڈ صرف چوکور شکل میں بنایا جا سکتا تھا لیکن کارڈ بورڈ کو کسی بھی شکل میں کاٹا جا سکتا تھا۔ چنانچہ سنیما گھروں کے باہر گھنگھرو چھنکاتی رقاصہ، گیت گاتے ہیرو، تیغ بدست وِلن اور گھوڑے پہ سوار سپہ سالار کے بڑے بڑے کٹ آؤٹ سجائے جانے لگے۔ چونکہ کارڈ بورڈ پر باریک بُرش کا کام بھی آسانی سے کیا جاسکتا تھا اس لئے ایس خان کے بنائے ہوئے فلمی بورڈوں میں ایک فنکارانہ نفاست در آئی تھی۔

یہی کیفیت اُن کے تیار کردہ فلمی پوسٹروں میں بھی دکھائی دیتی ہے جو کہ بمبئی اور کراچی کے پوسٹروں کی طرح برش کی موٹی موٹی ضربوں پر تکیہ نہیں کرتے بلکہ بالوں آنکھوں اور ہونٹوں کی تصویر کشی میں باریکِ مُوقلم کا سہارا لیتے ہیں۔

آج کل فلموں کے پوسٹر کمپیوٹر کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں

1962 میں ایس خان کے نوعمر بیٹے اقبال نے اس کام میں اُن کا ہاتھ بٹانا شروع کیا اور جلد ہی ایس اقبال خود ایک صاحبِ طرز پوسٹر ساز بن گئے۔ رائل پارک میں اپنے سٹوڈیو میں کام کرتے ہوئے ایس اقبال سن ستّر کے سنہری عشرے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُن دِنوں اوسطاً ہر روز ایک نیا پوسٹر تیار ہوتا تھا، گویا سال بھر میں ساڑھے تین سو سے زیادہ پوسٹر تیار کر لیے جاتے تھے۔

اپنے والد کی نصیحت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ایس اقبال محض اداکاروں کے چہرے کاغذ پر منتقل نہیں کرتے تھے بلکہ پہلے فلم کی کہانی سنتے اور کرداروں کی نفسیات سے آگاہ ہونے کی کوشش کرتے، تاکہ فلم کا موڈ پوسٹر کے ڈیزائن میں سرایت کر جائے۔

آج جبکہ ہر طرح کے پوسٹر کمپیوٹر پر تیار ہونے لگے ہیں، ایس اقبال نے اپنی انفرادیت اس طرح برقرار رکھی ہے کہ وہ کیمرے اور کمپیوٹر کی کارکردگی پر اپنی دستی ہُنرمندی کے چاند تارے ٹانک کر گویا سونے پہ سہاگے کا منظر پیش کر دیتے ہیں۔

اسی بارے میں
مغلِ اعظم کا اصل المیہ
21 October, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد