سہراب مُودی کی نشانیاں نیلامی کی منتظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے معروف اداکار، ہدایتکار اور فلم ساز آنجہانی سہراب مودی کو ملنے والا دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اب نیلامی کے لیئے تیار ہے۔ اُن کی فلم ’پُکار‘ اور ’جیلر‘ کے اصل پوسٹر، فلم ’ کُندن‘ کی بلیک اینڈ وائٹ تصویریں، کچھ دیگر فلموں کے فوٹو سیٹ، شوٹنگ میں استعمال ہونے والا کلیپر بورڈ، کئی فلموں میں استعمال ہونے والے چینی کے برتن، سہراب مودی کے کچھ سُوٹ اور ٹائیاں اور فلمی گیتوں کے کچھ پرانے کتابچے بھی بولی لگانے والوں کے منتظر ہیں۔ ممبئی کے بازارِ نوادرات کے ایک ڈیلر کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام اشیاء اس نے سہراب مودی کے بیٹے سے اُس وقت براہِ راست خریدی تھیں جب گزشتہ برس وہ بھارت کو خیر باد کہہ کر دوبئی منتقل ہوگئے تھے۔ نیلامی کی اشیاء میں اہم ترین دادا صاحب پھالکے ایوارڈ ہے جو کہ ہندوستان کے اوّلین فلم ساز دادا صاحب کے نام پر جاری کیا گیا تھا۔ دادا صاحب نے انیس سو تیرہ میں ہندوستان کی پہلی فلم بنائی تھی۔ سہراب مُودی اِس ایوارڈ کو حاصل کرنے والے اوّلین دس افراد میں سے ایک تھے۔ 1897 میں بھارتی ریاست گجرات میں پیدا ہونے والے سہراب مُودی نے تھیٹر میں اپنے طویل تجربے کو 1935 میں سکرین پر استعمال کیا اور شیکسپئر کے معروف ڈرامے ’ہیملٹ‘ پر مبنی فلم ’خون کا خون‘ ڈائریکٹ کی جس میں ہیملٹ کا کردار خود ادا کیا۔ 1938 میں اُن کی فلم ’جیلر‘ سامنے آئی لیکن انھیں اصل شہرت 1939 میں فلم ’پکار‘ کے باعث حاصل ہوئی جوکہ عدلِ جہانگیری کے موضوع پر بننے والی اپنے زمانے کی معروف ترین فلم تھی۔ 1941 میں سہراب مودی نے فلم سکندر میں پرتھوی راج کپور کے مقابل راجہ پورس کا یادگار کردار ادا کیا تھا اور 1955 میں وکٹر ہیوگو کے معروف ناول ’لامیزرابل‘ پر مبنی فلم ’ کُندن‘ پیش کی تھی۔ بطور اداکار اُن کی آخری فلم رضیہ سلطانہ تھی جوکہ 1983 میں ریلیز ہوئی۔ سہراب مودی کا انتقال 28 جنوری 1984 کو ممبئی میں ہوا تھا۔ | اسی بارے میں بولتی فلموں کی پلاٹینم جوبلی 14 March, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||