BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 January, 2008, 16:38 GMT 21:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی فلمیں، پابندی اٹھانے کا مشورہ

بھارتی فلم گول
ماضی قریب میں چند بھارتی فلموں کی نمائش پاکستان میں ہوئی ہے
پاکستانی سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ثقافت نے پاکستان میں بھارتی فلموں کی درآمد اور نمائش پر عائد پابندی کے خاتمے کے لیے وزیراعظم کو سمری بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پر سنہ 1961 سے پابندی عائد ہے تاہم بھارتی فلموں کے معاملے میں حکومت پاکستان نے پچھلے کچھ برسوں میں نرمی کا مظاہرہ کیا ہے اور مقامی سنیما گھروں میں بعض بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت بھی دی ہے لیکن پابندی اب بھی برقرار ہے۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ثقافت کے سربراہ سینیٹر ظفر اقبال چوہدری نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی اور ترقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’جب تک دونوں ملکوں کی فلمی صنعت کے درمیان صحت مند مقابلہ نہیں ہوگا تو انڈسٹری تو بیٹھ جائے گی اور ہمارے یہاں یہی ہوا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا ہے اور اس سلسلے میں پاکستانی فلم انڈسٹری کے نمائندوں کی مشاورت سے تجاویز تیار کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت ثقافت ایک ہفتے کے اندر تجاویز پر مبنی سمری تیار کرے گی جسے نگراں وزیراعظم محمد میاں سومرو کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔

سینیٹر ظفر اقبال چوہدری کے مطابق اس سمری کی منظوری کے بعد بھی انہی بھارتی فلموں کو پاکستانی سنیما گھروں میں نمائش کی اجازت دی جائے گی جن کی پاکستانی سنسر بورڈ اجازت دے گا۔ ’تمام (بھارتی) فلموں کو ریلیز کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ محدود تعداد میں فلموں کو اجازت دی جائے گی۔ جو بھی کسی بھارتی فلم کی یہاں نمائش کرانا چاہیں گے تو وہ پہلے سنسر بورڈ کو درخواست دے گا سنسر بورڈ اس کو سنسر کرے گا اور اجازت دے گا اس کے بعد وہ فلم سنیما میں جائے گی‘۔

پاکستانی شائقین بڑی تعداد میں بھارتی فلمیں دیکھنے آئے

پاکستان میں بالی ووڈ کی فلموں کی نمائش کی اجازت دینا مقامی سنیما گھروں کے مالکان کا پرانا مطالبہ رہا ہے۔ سنیما گھروں کے مالکان کی تنظیم پاکستان فلم ایگزیبیٹرز ایسوسی ایشن (پی ایف ای اے) نے سینٹ کی کمیٹی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارتی فلموں کی درآمد اور نمائش پر عائد پابندی ختم ہونے سے زوال پذیر فلم انڈسٹری کو سنبھلنے کا موقع ملے گا۔

پی ایف ای اے کے رکن اور کراچی میں واقع نشاط سنیما کے ڈائریکٹر نواب حضور الحسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس پابندی سے پاکستان میں فلم انڈسٹری کو نقصان پہنچایا ہے۔’پہلے ہمارے یہاں بھی اچھی فلمیں بنتی تھی کیونکہ انڈین فلمیں پاکستان کے سنیما گھروں میں لگتی تھی لیکن پابندی کے بعد جب مقابلہ ختم ہوگیا اور اس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا‘۔

انہوں نے کہا کہ اس پابندی کے بعد پاکستان میں معیاری فلمیں بننا بند ہوگئیں اور سنیما گھر ویران ہونا شروع ہوگئے۔’صرف کراچی میں ایک سو بارہ سنیما ہوتے تھے آج صرف چھتیس سنیما رہ گئے ہیں جن میں سے سات میں پشتو فلمیں چلتی ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ٹی وی کیبل نیٹ ورکس پر بھارتی فلمیں غیر قانونی طور پر دکھائی جا رہی ہیں اور ان پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے جبکہ سنیما گھر جو حکومت کو تمام ٹیکسز ادا کرتے ہیں ان پر پابندی ہے۔’ہم نے اڑتیس سال تک یہ مطالبہ نہیں کیا کیونکہ اس دوران ان سے ہمارے تعلقات خراب رہے لیکن اب جب حالات بہتر ہوگئے ہیں اور آپ (پاکستان) 203 مختلف آئٹمز انڈیا سے منگاتے ہیں تو آپ مجھے بتائیں کہ سنیما والوں نے کیا گناہ کیا ہے‘۔

بھارتی فلموں کی نمائش پاکستانی سنسر بورڈ کے سنسر کےبعد ہوگی

انہوں نے پاکستانی فلم ’خدا کے لیے‘ کی کامیاب نمائش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فلم نے بعض بھارتی فلموں سے بھی زیادہ بزنس کیا ہے۔ اگر اس طرح دونوں ملکوں کی فلمیں ایک دوسرے کے ملک میں دکھانے کی اجازت ہو تو ان کی فلم انڈسٹریوں کے درمیان مقابلے کی فضاء پیدا ہوگی اور اسکا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا جہاں فلم انڈسٹری تباہی کے دہانے پر ہے۔

واضح رہے کہ ایک سال قبل پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ میں عدالت کے معاون وکیل قاضی فیض عیسٰی نے عدالت کو بتایا تھا کہ پاکستان کے سنیما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش پر عائد پابندی ناقابل فہم تھی کیونکہ اس کے نتیجے میں بعد کے سالوں میں ملک کے 925 سنیما گھر بند ہوگئے اور پاکستان میں بننے والی فلموں کے معیار اور تعداد میں بھی کمی ہوئی۔

اسی مقدمے میں عدالت کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت کی جانب سے یہ پابندی پانچ سالوں کے لیے عائد کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اس فیصلے پر پانچ سال بعد نظر ثانی کی جائے گا لیکن نہ صرف پانچ سال بعد اس پابندی میں توسیع کردی گئی بلکہ اس پر کبھی نظر ثانی نہیں کی گئی۔

کامیاب’گول‘
پاکستان میں انڈین فلم گول کی کامیابی
ہندوستانی سنیما
گولڈن ایج پر ایک نظر، ایک بار پھر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد