کابل ایکسپریس پاکستان پرچڑھ گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں بھارتی فلم ’کابل ایکسپریس‘ پر سرکاری پابندی کے بعد خیال ہے کہ اس میں جس طرح پاکستانی فوج اور سیاستدانوں کی تصویر کشی کی گئی ہے وہ اسے یہاں بھی کم از کم سرکاری سطح پر ناپسندیدہ بنا دے گی۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد شوٹ کی جانے والی اس پہلی بھارتی فلم کی کہانی دو بھارتی صحافیوں، ان کے افغان ڈرائیور، ایک امریکی خاتون صحافی اور ایک ’پاکستانی طالبان‘ کے گرد گھومتی ہے۔ ہدایت کار کبیر خان کی اس تھرلر فلم میں ’چند ڈائیلاگ‘ افغان حکومت کے مطابق وہاں کی اقلیتی ہزارہ قوم کے لیے ناپسندیدہ ہیں۔ افغانستان میں ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد تقریباً دس فیصد ہے۔ تاہم اس فلم میں جس انداز سے پاکستانی فوج کا کردار دکھایا گیا ہے وہ اسے پاکستان کے سرکاری و فوجی حلقوں میں بھی ناپسندیدہ بنانے کے لیے کافی تصور کیا جا رہا ہے۔ اس فلم کی کہانی ایک ’پاکستانی طالبان‘ کی ہے جو اس سخت گیر اسلامی تحریک کی حکومت کے خاتمے کے بعد کابل سے واپس پاکستانی سرحد طورخم کی جانب بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستانی اداکار سلمان شاہد نے اس فرار ہونے کی کوشش کرنے والے طالب کا کردار ادا کیا ہے۔ وہ دو بھارتی صحافیوں اور ان کے ڈرائیور کو یرغمال بنا کر ان کی گاڑی میں سرحد کی جانب سفر کرتا ہے۔ فلم میں اس طالب کو پاکستانی فوج کا سپاہی دکھایا گیا ہے جو اپنے اعلی افسروں کے حکم پر کابل بھیجا گیا تھا۔ تاہم سرحد پہنچنے پر پاکستانی فوجی ہی اسے گولیاں مار کر ہلاک کر دیتے ہیں۔
اس ایک مرتبہ کے اظہار نے اس فلم کو افغانستان میں پابندی کا شکار کر دیا لیکن پاکستان سے متعلق اس فلم میں کئی مقامات پر اس کے سیاستدانوں اور فوجیوں سے متعلق قابل اعتراض ڈائیلاگ سننے کو ملتے ہیں۔ ایک جگہ پر یہ افغان ڈرائیور پاکستانی سیاستدانوں پر طالبان سے متعلق پالیسی میں قلا بازی کھانے پر تنقید کرتے ہوئے ان کے لیے کافی سخت لفظ بھی استعمال کرتا ہے۔ نائب افغان صدر کریم خلیلی جیسے افراد نے اس فلم پر اعتراض کیا ہے اور اس کے بنانے والوں کے خلاف عدالتی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ پاکستان میں اگرچہ بھارتی فلمیں سینما گھروں میں نہیں دکھائی جاسکتیں لیکن یہ ہر شہر میں ویڈیوز اور ڈی وی ڈیز کی شکل میں باآسانی دستیاب ہیں۔ یہ فلم بھارت میں گزشتہ ماہ ریلیز ہوئی لیکن پشاور میں بھی اس کی سینما کاپی محض ساٹھ روپے میں دستیاب ہے۔ ’کابل ایکسپریس‘ افغانستان میں پینتالیس روز میں سخت سیکیورٹی میں فلمائی گئی۔ بعض اوقات اداکاروں اور کیمرہ کریو سے زیادہ تعداد افغان پولیس کی ہوتی تھی۔ بظاہر یہ فلم زیادہ تر کابل اور طورخم کے درمیان شاہراہ پر ہی فلمائی گئی ہے لیکن معلوم نہیں اس میں ہزارہ قوم کا ذکر کرنا کیوں ضروری سمجھا گیا۔ ہزارہ قوم کی اکثریت کابل کے مغرب میں واقعے بامیان صوبے میں آباد ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی ہدایت کار کی افغان امور سے کم علمی اس کی وجہ ہو۔ اس فلم میں ہیرو جان ابراہم اور امریکی اداکارہ لنڈا ارسینیو کا کردار کافی کمزور محسوس ہوا۔ وہ محض بڑے اداکاروں کے نام کے لیے فلم میں ڈالے گئے محسوس ہوئے۔ | اسی بارے میں ’کابل ایکسپریس‘ کینیڈا میں02 September, 2006 | فن فنکار افغان اور بالی وڈ کا اشتراک 26 September, 2006 | فن فنکار ’ہالی وُڈ اور بالی وُڈ کا حسین ملاپ‘07 September, 2006 | فن فنکار سونو کے دیوانے اور ابھیشیک کا درد21 August, 2006 | فن فنکار عامر کی ’فنا‘ کی نمائش کھٹائی میں 23 May, 2006 | فن فنکار افغان جلاوطنوں کی برطانوی زندگی14 February, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||