بالی وڈ: فلاپ اور بے معنی کامیڈی فلموں کا سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ فلموں کا یہ سال کامیڈی فلموں کے نام رہا لیکن ساتھ ہی اگر اسے فلاپ فلموں کا سال کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔ سن دو ہزار چھ کے مقابلے یہ سال مجموعی طور پر بالی وڈ فلموں کے لیے فلاپ سال رہا۔چھوٹی ہی نہیں بلکہ بڑے بینرز کی فلمیں لگاتار فلاپ ہوتی رہیں۔فلمساز نقصان سے بچے رہے لیکن ڈسٹری بیوٹرز کو ملکی ہی نہیں غیر ملکی بازار میں بھی زبردست خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے چھ ماہ بالی وڈ کے فلمسازوں نے فلاپ فلمیں دیں۔ابھیشیک بچن اور ایشوریہ رائے کی فلم ’گرو‘ کو چھوڑ کر بڑے بڑے بجٹ کی فلموں نے دھول چاٹی۔ ’منا بھائی فیم فلمساز‘ ودھو ونود چوپڑہ کی’ایکلویہ‘ اور امیتابھ کے ساتھ’سرکار‘ جیسی کامیاب فلموں کے خالق رام گوپال ورما کی فلم ’ نشبد‘ بری طرح فلاپ ہوئیں۔ اسی کے ساتھ نکھل ایڈوانی کی’سلام عشق‘ ، وکرم بھٹ کی ’ ریڈ‘، ملن لوتھرا کی’ہیٹ ٹرک‘، بم دھماکوں پر بنی فلم ’بلیک فرائیڈے‘ ، دیپا مہتہ کی آسکر نامزد فلم’واٹر' میگھنا گلزار کی’جسٹ میریڈ ‘اور سنیل درشن کی’شاکالاکا بوم بوم‘ کو عوام نے مسترد کر دیا۔
اس چھ ماہ کے مختصر عرصہ میں بالی وڈ انڈسٹری کوساٹھ سے ستر کروڑ روپیوں کا خسارہ ہوا ہے۔ چھ ماہ فلاپ فلموں کے بعد وپل شاہ کی فلم ’نمستے لندن‘ جس میں اکشے اور قطرینہ بطور اداکار تھے، ایک خوشگوار جھونکے کی طرح آئی۔فلم نے ملک میں ہی نہیں اوورسیز میں بھی کافی بزنس کیا بلکہ امریکہ اور لندن میں پہلی مرتبہ بالی وڈ کے خانوں کے علاوہ کسی اداکار کی فلم اتنی کامیاب ہوئی۔ اس سال کئی فلاپ فلموں کی فہرست میں سب سے اوپر ’رام گوپال ورما کی آگ‘ رہی۔یہ فلم ’شعلے‘ ’ کا چربہ تھی۔اس میں امیتابھ بچن نے گبر کا رول کیا لیکن فلم اس بری طرح فلاپ ہوئی کہ اس نے بالی وڈ انڈسٹری میں شاید اب تک کی سب سے بڑی فلاپ فلم کا ریکارڈ قائم کر دیا۔ انڈسٹری کی شان کہلانے والے فلمساز یش چوپڑہ بینر تلے بنی فلمیں’ تارارم پم‘ ،’جھوم برابر جھوم‘ اور ’لاگا چنری‘ میں داغ اور بعد میں مادھوری کی فلم’ آجا نچ لے‘ کو ناظرین نے قبول نہیں کیا۔یش راج بینر کی صرف ایک فلم’چک دے انڈیا ‘نے البتہ شاندار ریکارڈ قائم کیا۔ فلم میں شاہ رخ خان کی اداکاری کی کافی تعریف ہوئی۔ اس سال شاہ رخ خان انڈسٹری پر چھائے رہے۔ان کی فلم’چک دے انڈیا‘ کے بعد ان کی ہوم پروڈکشن کی فلم’اوم شانتی اوم‘ ان کی اب تک کی فلمی زندگی کی سب سے کامیاب فلم بن کر ابھری۔لوگوں نے خان کی اداکاری کے ساتھ ان کے سکس پیک ایبز کی بہت ستائش کی۔
یش راج فلمز کے بعد سب سے زیادہ نقصان اگر کسی کو ہوا تو وہ سنجے لیلا بھنسالی کی فلم’سانوریا‘ کو۔بلیک جیسی کامیاب فلم دینے کے بعد ناظرین کو بھنسالی سے زیادہ امیدیں تھیں لیکن ’سانوریا‘ شاید ان کی توقعات پر پوری انہیں اتری اور سپر فلاپ فلم ثابت ہوئی۔ اس سال بالی وڈ فلمیں ایک ساتھ پاکستان میں بھی ریلیز ہوئیں ۔ مہیش بھٹ کی فلم’ آوارہ پن‘اور جان ابراہم سٹار فلم ’گول‘ کی پاکستان میں بھی نمائش ہوئی۔اس لیے اب بالی وڈ فلمساز ایسے پاکستانی سرمایہ کاروں کی تلاش میں ہیں جن کے سرمایہ کی وجہ سے ان کی فلموں کی پاکستان میں بھی نمائش ہو سکے۔ اس سال کامیڈی فلموں کی بھر مار رہی اور سنجیدہ فلموں کے مقابلے ناظرین نے کامیڈی فلموں کو پسند کیا۔ سلمان خان اور گووندہ کی فلم’پارٹنر‘ کا شمار اس سال کی کامیاب فلموں میں کیا جا سکتا ہے۔کامیڈی فلموں میں فلم’ بھیجہ فرائی‘ نے چونکا دیا محض پچاس لاکھ میں بنی اس فلم نے بارہ کروڑ روپیوں کا منافع کیا۔لیکن اس کے بعد’دھمال‘، ’ڈھول‘، ’بھاگم بھاگ ‘ایسی کامیڈی فلمیں تھی جسے دیکھنے کے لیے آپ کو اپنے دماغ کو کہیں بھول جانا چاہئے۔بے معنی کامیڈی والی یہ فلمیں باکس آفس پر کامیاب رہیں۔ عامر خان کی فلم’تارے زمین پر‘ اور ملٹی سٹارز فلم’ ویلکم‘ کو بھی اگر شامل کر لیا جائے جو اکیس دسمبر کو ریلیز ہئی ہیں تو اس سال کُل ملا کر دو سو اکتالیس فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں اوپر تذکرہ کی ہوئی کامیاب فلموں کے علاوہ ’جب وی میٹ‘ ،’ ہے بے بی‘ اور کچھ حد تک ’بھول بھیلیاں‘ کو بھی کامیاب فلموں میں شمار کر سکتے ہیں۔
فلموں کے تجزیہ نگار امود مہرہ کہتے ہیں کہ یہ سال فارمولہ والی مسالہ اور بے معنی کامیڈی فلموں کا رہا۔وہ لوگ جو ہمیشہ تنقید کرتے ہیں کہ بالی وڈ فلموں میں کہانی نہیں ہوتی، وہی شائقین سنجیدہ اور اچھی کہانی والی فلموں کو مسترد کر کے بے معنی کامیڈی اور مسالہ فلموں کو پسند کر رہے ہیں۔’ورنہ کیا وجہ تھی کہ دیپا مہتہ کی ’واٹر‘ ، میرا نائر کی ’ نیم سیک ‘ باکس آفس پر بزنس ہی نہیں کر سکیں‘۔ مہرہ کے مطابق اس سال عامر نے البتہ اپنی فلم ’تارے زمین پر‘ ایک نئے موضوع پر فلم بنائی ہے۔ یہ ایک حساس اور سنجیدہ فلم ہے اب دیکھنا ہے کہ شائقین اسے کتنا پسند کرتے ہیں۔ عامر خان کی فلم تارے زمین پر ان کی اس سال کی پہلی فلم ہے جس میں انہوں نے نہ صرف اداکاری کی ہے بلکہ فلم ان کی پروڈکشن کمپنی کی ہے اور ہدایت بھی انہی کی دی ہوئی ہے۔
یہ سال چاہے فلاپ فلموں کے نام رہا ہو لیکن بالی وڈ انڈسٹری نے بڑے پیمانے پر اپنے کینوس کو وسیع کیا ہے۔یو ٹی وی نے ہالی وڈ فلم کمپنی فوکس کے ساتھ تین کروڑ ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔جبکہ پہلی مرتبہ سونی پکچرز نے بالی وڈ فلم’سانوریا‘ میں سرمایہ کاری کی۔ مہرہ کہتے ہیں کہ یہ سال فلمسازوں کے لیے چاہے بُرا رہا ہو لیکن اداکاروں اور تیکنیشئین کے لیے یہ سال فائدہ مند تھا۔ان کے ساتھ بڑے بڑے تجارتی اداروں نے بہت منافع کمایا۔بالی وڈ میں اب بڑی کمپنیاں قدم رکھ رہی ہیں اور وہ اداکاروں کے ساتھ کئی کئی فلموں کے معاہدے کر رہی ہیں جس کی وجہ سے ایک اداکار کروڑوں میں اپنی قیمت لے رہا ہے اسے فلم کی کامیابی یا ناکامی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بالی وڈ کی فلمیں ویسے بھی ہالی وڈ کی نقل کرنے کے لیے مشہور ہیں اور اس سال کوئی ایسی فلم نہیں بنی جو یادگار کہلا سکے۔بالی وڈ فلمیں معیار کے لحاظ سے چاہے انچائیوں کو نہیں چھو رہی ہیں لیکن تجارتی نکتہ نظر سے بالی وڈ فلمیں اچھا بزنس کر رہی ہیں اور اپنے دامن کو اس نے وسیع تر کر لیا ہے۔ |
اسی بارے میں فلم ایوارڈز: امیتابھ بہترین اداکار08 August, 2007 | فن فنکار سنجے کو سزا، بالی وڈ کی پریشانی31 July, 2007 | فن فنکار بالی ووڈ: جتندر خاندان بھی کسان 01 July, 2007 | فن فنکار سنجے کی کمائی، مادھوری کا دیوانہ03 December, 2007 | فن فنکار سیف بیمار کیوں؟، ریتک کا شاہانہ شوق24 February, 2007 | فن فنکار ’امیتابھ اچھا، نہیں شاہ رخ اچھا‘23 January, 2007 | فن فنکار بگ برادر میں شلپا شیٹی بھی 03 January, 2007 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||