سنجے کو سزا، بالی وڈ کی پریشانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپر سٹار سنجے دت کو چھ سال قید کی سزا سے بالی وڈ غمزدہ ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو دت خاندان کے قریبی ہیں تو دوسری طرف وہ فلمساز ہیں جن کی فلمیں ابھی نامکمل ہیں اور اگر سنجےدت کو ہائی کورٹ سے ضمانت نہیں ملتی تو بالی وڈ کو کم سے کم پچاس کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔ فلمساز روی چوپڑہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہ ’انہیں بہت دکھ ہوا ہے۔ سنجے ایک اچھا انسان ہے اور اسے جو سزا ملی ہے وہ اس کا مستحق نہیں ہے‘۔ چوپڑہ نے اپنی فلم ’نیا دور‘ کے رنگین ورژن کا یکم اگست کو ہونے والا پریمیئر بھی سنجے کی سزا سننے کے بعد مسنوخ کر دیا۔’ہم خوشی کیسے منا سکتے ہیں جب ہمارے خاندان کا ایک فرد مصیبت میں ہو؟‘ اڑتالیس سالہ سنجے دت اس وقت دھمال، مسٹر فراڈ، کڈنیپ اور علی باغ نامی فلموں میں بطور ہیرو کام کر رہے ہیں اور یہ تمام فلمیں ابھی نامکمل ہیں۔ فلم اور ٹریڈ تجزیہ نگار امود مہرہ کے مطابق سنجے پر کم سے کم پچاس کروڑ روپے داؤ پر لگے ہیں اور اگر وہ جلد ضمانت پر رہا نہیں ہوتے تو یہ خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ فلمساز ودھو ونود چوپڑہ سنجے کے ساتھ’منا بھائی چلے امریکہ‘ بنانے والے ہیں لیکن وہ چاہتے تھے کہ پہلے سنجے کے لیے عدالت کا فیصلہ آجائے تب یہ فلم شروع ہو۔ منا بھائی کی سیکوئیل ’لگے رہو منا بھائی‘ میں گاندھی کے نظریات کی تشہیر کی وجہ سے فلم کے ساتھ سنجے بھی بہت مقبول ہوئے تھے۔ صحافی اور تجزیہ نگار ترن آدرش کے مطابق سنجے کی جو فلمیں ان کے ہاتھ میں ہیں اسے پورا ہونے میں ابھی وقت لگے گا لیکن جو بھی فلمیں نمائش کے لیے پیش ہوں گی وہ بہت مقبول ہوں گی کیونکہ ان کی گرفتاری اور جیل جانے کی وجہ سے عوام کی ہمدردیاں انہیں ضرور ملیں گی اور ایسا ماضی میں بھی ہوا تھا۔ فلمساز مہیش بھٹ کے مطابق’میں یہ تو نہیں کہ سکتا کہ عدالت کے فیصلہ سے مجھے افسوس ہوا ہے کیونکہ ان حالات میں جب اسی عدالت میں گیارہ افراد کو موت کی سزا اور بیس کو عمر قید کی سزا ہوئی ہے اور سماج میں ایک پیغام یہ جا رہا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے ایسے میں جج کا سنجے دت کو چھ سال سزا دینے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔اس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ جج نے بہت ایمانداری کے ساتھ اپنا فرض پورا کیا ہے‘۔ مسٹر بھٹ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ’لیکن جو حالات اس وقت تھے اس وقت سنجے نے گھبرا کر ایک غلط کام کیا تھا۔اس کے بعد سے اب تک وہ بہت سزا بھگت چکا ہے اس لیے اب اسے سزا ملنے سے ایک طرح کی تکلیف ہو رہی ہے‘۔ سنجے جب آج اپنے گھر سے عدالت جانے کے لیے باہر نکلے تو انہوں نے اپنے گھریلو ملازمین سے بھی ہاتھ ملایا اور انہیں گلے گلایا۔ سنجے دت کے ساتھ ان کی دونوں بہنیں پریہ اور نمرتا اور ان کے شوہر ساتھ آئے۔ ٹاڈا عدالت کے باہر سنجے کو دیکھنے اور فیصلہ سننے والوں کا اژدہام تھا جسے قابو میں کرنے کے لیے پولیس کا ہلکا لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا۔سنجے اب سنٹرل جیل( یعنی آرتھر روڈ ) میں ہی رہیں گے۔ |
اسی بارے میں سنجے دت: اسلحہ دینے والے کو سزا01 June, 2007 | انڈیا سنجے دت پر فیصلہ دیوالی کے بعد18 October, 2006 | انڈیا سنجے دت کیس کا فیصلہ متوقع16 October, 2006 | انڈیا ٹاڈا قانون کے تحت فیصلے چیلنج 19 June, 2007 | انڈیا 1993 دھماکے: ’میڈیاسےدور رہیں‘14 June, 2007 | انڈیا سنجے کواسلحہ دینے پر دس سال قید 06 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||