1993 دھماکے: ’میڈیاسےدور رہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو ترانوے بم دھماکے کیس کے خصوصی ٹاڈا جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے فلم سٹار سنجے دت کو انتباہ کیا ہے کہ وہ میڈیا سے دور رہیں۔ ٹاڈا جج سے سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کے وکیل اجول نکم نے شکایت کی کہ ضمانت پر رہا ہونے والے ایک مجرم نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا ہے جس میں سوال کرنے والے نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا جج کوڈے اپنے فیصلہ میں جانبدار ہیں۔ جج نے سرکاری وکیل سے اس مجرم کا نام پوچھتے ہوئے کہا: ’ آپ نام بتائیے، میں اس کی ضمانت منسوخ کرتا ہوں۔‘ بعد ازاں جج نے سنجے اور ان کے دیگر تین مجرم ساتھیوں یوسف نل والا، کیرسی ایڈجانیا اور روسی ملا کو بلا کر انتباہ کیا کہ آئندہ کیس ختم ہونے تک وہ میڈیا کو انٹرویو نہ دیں جس پر سنجے نے جج کے سامنے سر ہلا کر حامی بھر لی۔ اس سے قبل عدالت نے جمعرات کو تین مجرموں کو سزا سنائی جس میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ جج نے مُبینہ بھیونڈی والا کو پانچ سال قیداور پچیس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ مُبینہ پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے گھر میں بم دھماکہ کیس کے اہم مفرور ملزم ٹائیگر میمن کو سازش تیار کرنے کے لیے ملنے کی جگہ فراہم کی تھی۔
جج نے اپنے فیصلے میں کہا: ’عدالت جانتی ہے کہ ٹائیگر نے مجرمہ کی غربت کا فائدہ اٹھایا اور چند روپیوں سے اس کی مدد کر کے اس کے فلیٹ کو استعمال کیا‘۔ سزا سننے کے بعد مُبینہ نے عدالت سے روتے ہوئے رحم کی اپیل کی اور کہا: ’میرے دو چھوٹے بچے ہیں اگر آج آپ رحم کریں گے تو خدا آپ پر رحم کرےگا‘۔ جج نے اس پر کہا: ’ہماراسسٹم عورتوں کے ساتھ رحم کرتا ہے لیکن ٹاڈا قانون میں اس سے کم سزا نہیں دی جا سکتی ہے‘۔ عدالت نے دوسری خاتون زیب النساء قاضی کو پانچ سال قید اور پچیس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ ابو سالم اور ایک اور مجرم منظور احمد سنجے دت کے گھر سے دو اے کے 56 رائفلز، چند ہینڈ گرینیڈ اور کارتوس کا بیگ لے کر زیب النساء قاضی کے گھر گئے جنہوں نے اس بیگ کو تین گھنٹہ اپنے گھر میں رکھا۔ عدالت نے کہا کہ انہوں نے مجرمہ کی عمر اور ان کے بیوہ ہونے کی بات کو مدنظر رکھا ہے اس لیے سزا کم دی گئی ہے۔ عدالت نے ایک اور مجرم سلیم رحیم شیخ کو عمر قید اور ایک لاکھ چالیس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ مجرم شیخ پر پاکستان جا کر اسلحہ کی تربیت حاصل کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔ رحیم شیخ نے آر ڈی ایکس سے بھری ہوئی گاڑیوں کو ٹائیگر میمن کی عمارت الحسینی بلڈنگ سے باہر نکالا۔ ماہم کازرے پر مچھ مار کالونی میں ہینڈ گرینڈ پھینکنے والوں کے ساتھ جانے کا جرم ثابت ہوا تھا۔ اس حملہ میں تین افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے۔ شیخ کے پاس سے نو ایم ایم کی ایک پستول اور کچھ کارتوس برآمد ہوئے تھے۔ اس طرح کے تمام جرائم کے لیے مجرم کو دو دفعہ عمر قید اور پچیس سال مزید قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ جج اب انیس جون کو سزا سنانے کا عمل شروع کریں گے۔ عدالت اب تک 76 مجرموں کو سزا سنا چکی ہے۔ بقیہ مجرموں میں سنجے دت کے ساتھ ان کے تین ساتھی، بم نصب کرنے والے مجرم اور ٹائیگر میمن کے چار ساتھی باقی ہیں۔ توقع ہے کہ اس ماہ کے آخر تک اس کیس کے تمام ملزموں کے خلاف فیصلہ سنادیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں 93 دھماکے: اسلحہ اتارنے والوں کوسزا 24 May, 2007 | انڈیا سنجے دت کیس کا فیصلہ متوقع16 October, 2006 | انڈیا 93 ممبئی دھماکے: مزید چھ کو سزا22 May, 2007 | انڈیا سنجے دت کو مجرم قرار دے دیا گیا28 November, 2006 | انڈیا 93 دھماکوں کے ملزمان رہا09 May, 2007 | انڈیا سنجے دت: سزا پر فیصلہ مؤخر25 May, 2007 | انڈیا 93 دھماکے: کسٹم افسران کو سزا 29 May, 2007 | انڈیا سنجے دت کی رحم کی درخواست 16 January, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||