ممبئی دھماکے:کسٹم افسران قصور وار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی شہر ممبئی میں انیس سو ترانوے کے بم دھماکوں کی خصوصی عدالت نے جمعرات کو دو کسٹم افسران سمیت تین ملزمان کو قصوروار قرار دیا ہے۔ دیوالی تعطیل کے بعد ٹاڈا کی خصوصی عدالت نے ایک بار پھر ملزمان کے خلاف فیصلہ کی کارروائی شروع کی۔ خصوصی جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے کسٹم انسپکٹر جینت گروو، کسٹم سپرنٹنڈنٹ ایس ایس تلاؤڑیکر اور ایوب قریشی کو مجرم قرار دیا۔ سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی ) کے مطابق کسٹم انسپکٹر جینت گروو نے کسٹم افسران کے لئے مختص جیپ میں اسلحہ اور بارود کی کھیپ کو ساحل سے دوسری جگہ پہنچانے میں مدد کی۔ کسٹم سپرنٹنڈنٹ ایس تلاؤڑیکر پر الزام تھا کہ کسٹم محمکہ کو خفیہ طور پر اطلاع تھی کہ ساحل سمندر پر کچھ دھماکہ خیز اشیاء سمگل ہو کر آرہی ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے سامان کی کھیپ کو روکنے کے بجائے اسے جانے کی اجازت دے دی تھی۔ ان ملزمان کو ٹاڈا کی دفعہ 3(3) کے تحت مجرم قرار دیا گیا۔ ایک اور ملزم ایوب قریشی کو عدالت نے اسلحہ قانون کے تحت مجرم قرار دیا انہیں ممنوعہ علاقہ میں پستول اور 52 راؤنڈ گولیوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔
انیس سو ترانوے بم دھماکے کے مقدمات کا فیصلہ بارہ سمتبر سے شروع ہوا اور عدالت نے اب تک 77 ملزمان کے بارے میں فیصلہ سنا دیا ہے جن میں سے 58 کو مجرم قرار دیا لیکن انیس کو بری کر دیا گیا۔ فلم اسٹار سنجے دت بھی اس کیس میں ملزمان میں شامل ہیں اور ان پر بھی اسلحہ قانون کے تحت کیس درج ہے۔ سرکاری وکیل اجول نکم نے آج بتایا کہ ملزم سنجے دت کے بارے میں فیصلہ اس ماہ کے آخر تک آنے کا امکان ہے۔ اس دوران سنجے دت نے اپنی تمام فلموں کی شوٹنگ منسوخ کر دی ہے۔ | اسی بارے میں سنجے دت پر فیصلہ دیوالی کے بعد18 October, 2006 | انڈیا ’ پانچ بری، ایک قصوروار‘28 September, 2006 | انڈیا 1993 دھماکے: دو مزید قصور وار18 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||